Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم

  • جون 22, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • جون 22, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

میں نے ایک بلی کو اس وقت گود لیا جب وہ 23 دن کی تھی اور اس کا نام 'ہبہ' رکھا۔ اب وہ 11 ماہ کی ہے۔ جب میں نے اسے گود لیا تو میرا بیٹا 1 سال کا تھا۔ ہم نے اپنی پوری صلاحیت کے مطابق اپنی بلی کی دیکھ بھال کی۔ اب جیسے جیسے میرا بیٹا بڑا ہو رہا ہے، ہم نے محسوس کیا کہ شاید ہماری بلی کو وہ دیکھ بھال نہیں مل رہی جو اسے ملنی چاہیے۔ ہم اس کے کھانے، صحت، صفائی ستھرائی کا خیال رکھتے ہیں، لیکن ہمیں لگتا ہے کہ اسے پوری دیکھ بھال نہیں مل رہی۔ ہمیں ایسا اس لیے لگا کیونکہ اسے ہمارے گھر میں ایک حادثہ پیش آیا اور وہ زخمی ہو گئی۔ ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیسے زخمی ہوئی اور ہم نے قصوروار محسوس کیا اور سوچا کہ ہم پوری دیکھ بھال نہیں دے رہے۔ ہم اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور اس کا علاج کروایا اور علاج کے دوران ہم نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ کیا وہ اسے گود لے سکتا ہے اور اس نے کہا کہ وہ اسے گود لینا چاہتا ہے اور اس کی بہت اچھی دیکھ بھال کرے گا۔ ڈاکٹر ایک اچھا انسان ہے۔ کیا یہ گناہ ہوگا اگر ہم اسے اسے گود لینے دیں؟ اس گود لینے میں کوئی مالی لین دین نہیں ہوگا۔ لیکن ڈاکٹر ایک مختلف عقیدے کا ہے یعنی وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور آخر میں، اگر اسے اسے گود لینے دینا گناہ ہے تو اس کی نس بندی یا اس کے جراثیم کشی کے بارے میں کیا حکم ہے؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ نے بلی کی دیکھ بھال میں جو محنت کی ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ آپ کے سوال کے دو پہلو ہیں: پہلا بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینا، اور دوسرا اس کی نس بندی کرانا۔ دونوں کا جواب درج ذیل ہے۔

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے کا حکم

اگر آپ واقعی اپنی بلی کی مناسب دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہیں اور ڈاکٹر اس کی اچھی دیکھ بھال کر سکتا ہے، تو اسے ڈاکٹر کو دینا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ ڈاکٹر جانوروں کے ساتھ رحم کا معاملہ کرے اور انہیں تکلیف نہ دے۔ غیر مسلم ہونا اس کی اہلیت کو متاثر نہیں کرتا، کیونکہ جانوروں کی دیکھ بھال کا تعلق ایمان سے نہیں بلکہ اخلاق اور ذمہ داری سے ہے۔ تاہم، اگر آپ کو ڈاکٹر کے بارے میں کوئی تشویش ہو (مثلاً وہ جانوروں کو تکلیف دیتا ہو) تو پھر اسے دینا درست نہیں ہوگا۔

بلی کی نس بندی (اسٹرلائزیشن) کا حکم

بلی کی نس بندی کا حکم اس کی ضرورت پر منحصر ہے۔ اگر بلی کی صحت کے لیے ضروری ہو (مثلاً بیماری سے بچاؤ) یا اس کی افزائش کو روکنے کے لیے جس سے بے شمار بلیوں کی پیدائش اور ان کی بے گھری ہوتی ہو، تو نس بندی جائز ہے۔ لیکن اگر بغیر کسی شرعی ضرورت کے محض سہولت کے لیے کیا جائے تو یہ ناجائز ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ کسی مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور اگر طبی ضرورت ہو تو عمل کریں۔

واللہ اعلم بالصواب۔

حوالہ جات

  • صحیح بخاری: کتاب الذبائح والصید، باب قتل الحیات وغیرہا
  • فتاویٰ ہندیہ: کتاب الکراہیة، الباب التاسع فی الصید والذبائح

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم

دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ

بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی

ایک 18 سالہ مسلمان کے لیے فقہ الاولویات کی روشنی میں ترجیحات کا تعین

حج کے بعد بھورے مادے کی حالت میں طواف وداع کا حکم

والد کا درگاہ سے لائے گئے پھول موٹر سائیکل پر رکھنا اور بیٹے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم
جون 22, 2026
Read More »
دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ
جون 22, 2026
Read More »
بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی
جون 22, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.