سوال:
السلام علیکم، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے ان شاء اللہ۔ میرے ساتھ حال ہی میں ایک تجربہ ہوا جہاں مجھے غیر متوقع طور پر ہسپتال میں داخل کیا گیا اور میں کچھ دن دوسرے مریضوں کے ساتھ ایک مشترکہ بی میں رہا۔ ہم سب نے ایک ہی باتھ روم استعمال کیا، جس میں شاور کی سہولت نہیں تھی۔ مجھے بہت گیلا خواب آتے ہیں، الحمدللہ اس دوران ایسا نہیں ہوا۔ تاہم، اگر مجھے گیلا خواب آتا اور غسل واجب ہو جاتا، تو میں عملی طور پر اسے کیسے ادا کر سکتا تھا؟ یہاں تک کہ جب میں نے سنک کا استعمال کرتے ہوئے وضو کیا تو پانی فرش پر چھلک گیا اور دوسرے مریضوں کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا تھا۔ میں سنک کے نیچے ایک ہاتھ میں پانی بھر کر اپنے جسم پر تھوڑا تھوڑا پانی ڈال سکتا تھا، لیکن یہ گندا ہوگا اور زیادہ وقت لے گا، کیونکہ مجھے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پانی میری تمام جلد تک پہنچے، اور یہ کہ یہ جسم پر بہے صرف مسح نہ کرے (مثال کے طور پر، کلائی پر پانی ڈال کر بازو پر ملنا کافی نہیں ہوگا)۔ یہ جاننا بھی مددگار ہوگا کہ اگر میں آئی وی ڈرپ سے منسلک ہوں تو غسل کیسے کروں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں بستر سے بندھا ہوا ہوں تو تیمم کی اجازت ہے، لیکن اگر مجھے آئی وی ٹرالی گھسیٹتے ہوئے گھومنے کی اجازت ہے، تو میں پھر مذکورہ بالا منظر نامے میں آ جاتا ہوں جہاں صرف ایک سنک کا استعمال کرتے ہوئے غسل کرنے کی ضرورت ہے، صرف اس بار زیادہ مشکل کے ساتھ۔ ہسپتال میں منصوبہ بند قیام کے لیے تیاری کے بارے میں کوئی مشورہ بھی آپ دے سکتے ہیں تو بہت مشکور ہوں گے۔ میرے خیال میں سب سے بہتر آئیڈیا یہ ہے کہ ایک بالٹی اور پانی کی بوتل لاؤں، بالٹی میں کھڑا ہو جاؤں، اور اپنے اوپر پانی ڈالوں تاکہ زیادہ تر پانی بالٹی میں گرے اور فرش پر نہیں۔ تاہم، یہ بھی مشکل لگتا ہے۔ آپ کے سوال پر غور کرنے کے لیے جزاک اللہ خیراً۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کا سوال ہسپتال میں غسل کی عملی صورتوں کے بارے میں ہے، خاص طور پر جب شاور کی سہولت نہ ہو یا آئی وی ڈرپ لگی ہو۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کا تعلق طہارت اور عبادت کی سہولت سے ہے۔ ذیل میں مختلف حالات کے مطابق عملی رہنمائی پیش کی جاتی ہے۔
غسل کے فرائض اور سنن
غسل کے دو فرائض ہیں: (1) کلی کرنا، (2) ناک میں پانی ڈالنا، اور (3) پورے جسم پر پانی بہانا۔ سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر استنجا کیا، پھر وضو کیا، پھر سر پر تین بار پانی ڈالا، پھر دائیں اور بائیں طرف تین بار پانی ڈالا۔ لیکن تنگی کی صورت میں صرف فرائض پر اکتفا کیا جا سکتا ہے۔
جب شاور نہ ہو اور سنک ہو
اگر باتھ روم میں صرف سنک ہو تو آپ درج ذیل طریقے سے غسل کر سکتے ہیں:
- ایک بڑا برتن (جیسے بالٹی یا بوتل) پانی سے بھر لیں۔
- سنک کے پاس کھڑے ہو کر برتن سے پانی اپنے جسم پر ڈالیں، اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ پانی فرش پر نہ گرے۔ آپ سنک کے اندر کھڑے ہو کر بھی پانی ڈال سکتے ہیں۔
- اگر پانی فرش پر گرے تو اسے صاف کرنے کا انتظام کریں تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔
- یاد رکھیں کہ پانی کا بہنا ضروری ہے، صرف پانی سے ہاتھ گیلا کر کے جسم پر ملنا کافی نہیں۔
جب آئی وی ڈرپ لگی ہو
اگر آپ آئی وی ڈرپ سے منسلک ہیں تو غسل کرتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
- ڈرپ والی جگہ کو پانی سے بچانے کے لیے پلاسٹک بیگ یا پٹی سے ڈھانپ لیں۔
- اگر آپ حرکت کر سکتے ہیں تو ٹرالی کو ساتھ لے کر باتھ روم جائیں اور اوپر بتائے گئے طریقے سے غسل کریں۔
- اگر ڈرپ کی وجہ سے پانی کا استعمال ممکن نہ ہو تو تیمم کا رخ کریں۔ تیمم کی اجازت اس وقت ہے جب پانی کا استعمال نقصان دہ ہو یا ممکن نہ ہو۔
جب بستر پر ہوں اور حرکت نہ کر سکیں
اگر آپ بستر پر ہیں اور اٹھ نہیں سکتے تو تیمم کافی ہے۔ تیمم کا طریقہ: دونوں ہاتھوں کو پاک مٹی پر مار کر پورے چہرے پر مسح کریں، پھر دوبارہ ہاتھوں کو مٹی پر مار کر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک مسح کریں۔
منصوبہ بند ہسپتال قیام کی تیاری
اگر آپ پہلے سے جانتے ہیں کہ ہسپتال جانا ہے تو درج ذیل تیاری کریں:
- اپنے ساتھ ایک چھوٹی بالٹی اور پانی کی بوتل لے جائیں۔
- ایک پلاسٹک شیٹ یا تولیہ لے جائیں تاکہ پانی فرش پر نہ گرے۔
- اگر ممکن ہو تو ڈسپوزایبل بیسن یا پانی جمع کرنے کا کوئی برتن ساتھ رکھیں۔
- ہسپتال کے عملے کو اپنی ضرورت کے بارے میں بتا دیں تاکہ وہ آپ کی مدد کر سکیں۔
خلاصہ
غسل کے فرائض کو پورا کرنے کے لیے پانی کا بہنا ضروری ہے، لیکن تنگی کی صورت میں تیمم بھی جائز ہے۔ ہسپتال میں عملی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ اپنی سہولت کے مطابق طریقہ اختیار کر سکتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ کسی مستند عالم سے مسئلہ پوچھ لیں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورہ المائدہ، آیت 6
- صحیح البخاری، کتاب الغسل
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الطہارۃ
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ