سوال:
السلام علیکم میں طلاق دے دی گئی ہوں اور میں اپنی عدت کی مدت میں ہوں مجھے بتایا گیا ہے کہ مجھے شوہر کے گھر میں رہنا ہے اور وہ بھی وہیں رہیں گے میں جاننا چاہتی تھی کہ اس میں کیا حکمت ہے کہ وہ گھر میں رہیں کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ طلاق کے بعد ہم غیر محرم ہیں میرے خاندان والے کہہ رہے ہیں کہ اسے تین ماہ کے لیے گھر چھوڑنا ہوگا یا مجھے گھر چھوڑنا پڑے گا میں انہیں یہ کیسے سمجھاؤں جزاک اللہ
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
آپ نے جو سوال پوچھا ہے کہ عدت کے دوران شوہر کے گھر میں رہنا کیوں ضروری ہے، جبکہ طلاق کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہو جاتے ہیں، تو اس کا جواب درج ذیل ہے۔
عدت کا حکم
طلاق کے بعد عورت کو عدت گزارنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ (البقرہ: 228) یعنی ”طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکیں (عدت گزاریں)“۔
عدت کا مقام
عدت کے دوران عورت کو شوہر کے گھر میں رہنا چاہیے، جیسا کہ حدیث میں ہے: لَا تَخْرُجُ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا حَتَّى تَطْهُرَ (مسلم) یعنی ”عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس وقت تک نہ نکلے جب تک کہ وہ پاک نہ ہو جائے“۔
شوہر کا گھر میں رہنا
عدت کے دوران شوہر کا گھر میں رہنا جائز ہے، بلکہ بعض صورتوں میں ضروری بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ:
- عدت کے دوران عورت کو سہارا اور تحفظ ملے۔
- شوہر پر عورت کے نان و نفقہ کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔
- اگر طلاق رجعی ہے تو شوہر کو رجوع کا موقع ملے۔
- عورت کی عزت و آبرو محفوظ رہے۔
غیر محرم ہونے کا مسئلہ
طلاق کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہو جاتے ہیں، لیکن عدت کے دوران شوہر کا گھر میں رہنا اس لیے جائز ہے کہ وہ ایک دوسرے سے پردہ کریں اور علیحدہ کمرے میں رہیں۔ شوہر کے لیے بیوی سے ہمبستری کرنا یا اسے چھونا جائز نہیں، البتہ گھر میں رہنا جائز ہے۔
خاندان کو سمجھانے کا طریقہ
آپ اپنے خاندان کو بتائیں کہ شریعت نے عدت کے دوران عورت کو شوہر کے گھر میں رہنے کا حکم دیا ہے، اور شوہر کا گھر میں رہنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ وہ پردے کا اہتمام کریں۔ اگر شوہر گھر چھوڑ دے تو عورت کو تنہائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا، شوہر کا گھر میں رہنا عورت کے حق میں بہتر ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 228
- صحیح مسلم: کتاب الطلاق، باب وجوب الإحداد
- فتاوی ہندیہ: کتاب الطلاق، باب العدة
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ