سوال:
السلام علیکم، میرے پاس رمضان کے روزوں کے بارے میں ایک سوال ہے۔ جب میں بلوغت کو پہنچی تو مجھے پہلی بار حیض آیا، لیکن میں بہت چھوٹی تھی اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنی ہوتی ہے۔ اس وقت، میں اپنی ماں کو بلوغت کے بارے میں بتانے میں بھی بہت شرم محسوس کرتی تھی، اور انہوں نے مجھے اس کی وضاحت نہیں کی۔ آپ کی معلومات کے لیے، یہ تقریباً 10 سال پہلے ہوا تھا۔ اب جب کہ میں بڑی ہو گئی ہوں اور حکم سے آگاہ ہوں، میں جاننا چاہتی ہوں: کیا مجھے اس پہلے سال کے چھوٹے ہوئے دنوں کی قضا کرنی ہوگی جب مجھے حیض آیا تھا اور مجھے علم نہیں تھا، یا پھر اس وقت کی میری ناواقفیت اور شرم کی وجہ سے معاف ہے؟ حکم کی وضاحت کرنے پر جزاک اللہ خیرا۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کا سوال بہت اہم ہے اور بہت سی خواتین کو اس طرح کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ آپ نے بلوغت کے بعد پہلی بار حیض آیا اور آپ کو اس وقت قضا کے بارے میں علم نہیں تھا، نیز شرم کی وجہ سے آپ نے اپنی والدہ سے بھی نہیں پوچھا۔ اب آپ جاننا چاہتی ہیں کہ کیا ان دنوں کی قضا آپ پر لازم ہے یا ناواقفیت اور شرم کی وجہ سے معاف ہے۔
بلوغت اور روزے کی فرضیت
جب لڑکی کو حیض آتا ہے تو وہ بلوغت کو پہنچ جاتی ہے اور اس پر نماز، روزے اور دیگر شرعی احکام فرض ہو جاتے ہیں۔ حیض کے دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں، لیکن بعد میں ان دنوں کی قضا کرنا ضروری ہے۔
ناواقفیت اور شرم کا عذر
عام طور پر، شرعی احکام سے ناواقفیت کسی حد تک عذر ہو سکتی ہے، لیکن جب کوئی شخص بعد میں علم حاصل کر لے تو اس پر قضا لازم ہو جاتی ہے۔ آپ کا شرم محسوس کرنا بھی قابل فہم ہے، لیکن یہ شرعی طور پر قضا کو ساقط نہیں کرتا۔
قضا کا حکم
لہٰذا، آپ پر اس پہلے سال کے وہ روزے قضا کرنا لازم ہیں جو آپ نے حیض کی وجہ سے نہیں رکھے تھے۔ چونکہ آپ کو اس وقت علم نہیں تھا، اس لیے آپ پر کفارہ (فدیہ) نہیں ہے، صرف قضا لازم ہے۔
قضا کا طریقہ
آپ جتنے دنوں کے روزے چھوٹے ہیں، ان کی گنتی کریں اور جلد از جلد ان کی قضا کریں۔ اگر ایک ساتھ قضا کرنا مشکل ہو تو آہستہ آہستہ کر سکتی ہیں، جیسے ہر ہفتے کچھ روزے رکھ لیں۔
نوٹ
یہ ایک عمومی جواب ہے۔ بہتر ہوگا کہ آپ کسی مستند عالم یا مفتی سے رابطہ کریں تاکہ آپ کی صورت حال کے مطابق مکمل رہنمائی حاصل کر سکیں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورہ البقرہ، آیت 184-185
- صحیح البخاری، کتاب الصوم
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الصوم
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ