سوال:
ہمارا ایک بیٹا ہے جو آٹھ ماہ کا ہے اور میری بیوی سات ہفتے کی حاملہ ہے، ایک بچے کی پرورش کرنا واقعی مشکل ہے۔ ہمیں 120 دن سے پہلے اسقاط حمل کے بارے میں رہنمائی کی ضرورت ہے۔ حمل تقریباً سات ہفتے کا ہے پہلا بچہ آٹھ ماہ کا ہے پچھلی ڈیلیوری سی سیکشن تھی ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگلی بھی سی سیکشن ہوگی جس میں زیادہ درد اور ممکنہ طور پر قبل از وقت ہو سکتی ہے زندگی کو خطرہ نہیں ہے لیکن اس میں مشکلات شامل ہیں بیوی کام کرتی ہے اور سفر کرنا ضروری ہے ہم ایک بزرگ ماں کی بھی دیکھ بھال کرتے ہیں دودھ پلانے پر اثر پڑ سکتا ہے
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کی صورتِ حال میں مشکلات کو سمجھا جا سکتا ہے، لیکن شرعی اصولوں کے مطابق حمل کو 120 دن سے پہلے اسقاط کرنے کی اجازت صرف شدید مجبوری کی صورت میں ہے۔ آپ کے بیان کردہ اسباب (مشقت، سی سیکشن کا خوف، کام اور سفر، بزرگ ماں کی دیکھ بھال، دودھ پلانے پر اثر) کو شرعی طور پر اسقاط حمل کی اجازت دینے کے لیے کافی نہیں سمجھا جاتا، جب تک کہ ماں کی جان کو حقیقی خطرہ نہ ہو۔
شرعی اصول
جمہور فقہاء کے مطابق روح 120 دن (تقریباً 17 ہفتے) کے بعد پھونکی جاتی ہے۔ اس سے پہلے بھی اسقاط حمل صرف عذرِ شدید (جیسے ماں کی جان کا خطرہ) کی صورت میں جائز ہے، ورنہ ناجائز ہے۔
آپ کی صورتِ حال کا جائزہ
- حمل 7 ہفتے کا ہے، یعنی 120 دن سے پہلے ہے۔
- ڈاکٹر کے مطابق جان کو خطرہ نہیں، صرف مشقت اور درد کا امکان ہے۔
- بچے کی پرورش، بیوی کا کام، سفر، اور بزرگ ماں کی دیکھ بھال جیسی مشکلات کو شرعی عذر نہیں مانا گیا۔
نتیجہ
لہٰذا، آپ کی بیان کردہ وجوہات کی بنا پر اسقاط حمل جائز نہیں ہے۔ تاہم، اگر ڈاکٹر یہ تصدیق کرے کہ حمل جاری رکھنا ماں کی جان کے لیے حقیقی خطرہ ہے، تو اس صورت میں اسقاط کی اجازت ہو سکتی ہے۔ بہتر ہے کہ کسی مستند مفتی سے تفصیلی مشورہ کریں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ الإسراء، آیت 31 (قتل اولاد کی ممانعت)
- صحیح بخاری: حدیث نمبر 3336 (روح پھونکنے کا بیان)
- فتاویٰ ہندیہ: کتاب الکراہیہ، فصل فی الاستسقاط
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ