سوال:
السلام علیکم بھائی۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا شرک کرے جو اسے اسلام کے دائرے سے نکال دے اور توبہ کرے لیکن بات کرتے وقت ان شرک کے بارے میں محتاط نہ ہو۔ لیکن اس کے علاوہ وہ باقاعدگی سے توبہ کرتے ہیں تو کیا ان کی موت کے بعد دعا کرنا جائز ہے؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
اگر کوئی شخص ایسا شرک کرے جو اسے اسلام کے دائرے سے خارج کر دے، پھر وہ سچی توبہ کرے تو وہ دوبارہ مسلمان ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ توبہ تو کرے مگر بات چیت میں شرک کے بارے میں لاپرواہی برتے (مثلاً شرکیہ کلمات کہہ دے) تو کیا اس کی موت کے بعد دعا جائز ہے؟
توبہ کا معیار
توبہ کے لیے ضروری ہے کہ انسان شرک سے باز آئے، اس پر نادم ہو، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے۔ اگر کوئی شخص توبہ کرنے کے بعد دوبارہ شرکیہ کلمات کہتا ہے تو اسے فوراً توبہ تجدید کرنی چاہیے۔ تاہم، اگر وہ عام طور پر توبہ پر قائم ہے اور کبھی کبھار لاپرواہی سے شرکیہ کلمات نکل جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی پچھلی توبہ باطل ہو گئی۔
موت کے بعد دعا کا حکم
اگر کوئی شخص مسلمان حالت میں مرے (یعنی اس نے توبہ کی ہو اور شرک سے باز آیا ہو) تو اس کے لیے دعا کرنا جائز ہے۔ لیکن اگر وہ شرک پر مرا ہو (توبہ نہ کی ہو) تو اس کے لیے دعا جائز نہیں۔
آپ کے سوال میں مذکور شخص اگر توبہ کرتا رہا اور شرک سے باز آیا، لیکن کبھی کبھی لاپرواہی سے شرکیہ کلمات کہہ دیتا تھا، تو اس کا حکم یہ ہے کہ جب تک وہ ان کلمات پر اصرار نہ کرے اور توبہ کرتا رہے، اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔ اس لیے اس کی موت کے بعد دعا کرنا جائز ہے۔
احتیاط
تاہم، یہ معاملہ انتہائی نازک ہے اور اس کا انحصار شخص کی نیت اور اعمال پر ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اس کی موت کے بعد اس کے لیے دعا کی جائے اور اللہ سے اس کی مغفرت طلب کی جائے۔
حوالہ جات
- القرآن: إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ (النساء: 48)
- صحیح البخاری: باب التوبة
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ