سوال:
ہمارے خاندانوں نے ہماری منگنی تقریباً 2 سال پہلے کی تھی، ہم نے کچھ وقت بعد بات کرنا شروع کی اور جڑ گئے۔ ہم نے کئی بار بات نہ کرنے کی کوشش کی، بدقسمتی سے، اب یہ کام نہیں کر رہا۔ ہمارے خاندان ہماری شادی تقریباً 2.5 سال بعد کریں گے، میں لڑکا ہوں، اور میں نے اپنے خاندان کو پہلے ہمارا نکاح کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی اور پھر ہم جب بھی وہ چاہیں گے شادی کر لیں گے، میں نے انہیں بتایا کہ مجھے وہ پسند ہے اور میں واقعی نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ وہ اس وقت کرتے ہیں جب شادی کا وقت قریب ہو، اسی طرح ہم کزن ہیں، اور لڑکی کا خاندان اس وقت نکاح کی اجازت دینے میں بہت زیادہ سخت ہے۔ اگر میں یا وہ براہ راست ان سے بات کریں تو وہ ہماری منگنی ختم کر سکتے ہیں یا صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ ہم نے بغیر رجسٹریشن کے خفیہ طور پر نکاح کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ یہ اسلام میں درست ہو جائے، ہم اپنی زندگی اسی طرح گزاریں گے سوائے اس کے کہ ہم آسانی سے بات کر سکتے ہیں۔ ہم حنفی مسلک سے ہیں اور مجھے یقین نہیں ہے کہ ولی کی رضامندی درکار ہے۔ ہم اس کے خاندان یا اس کے والد میں سے کسی کو ولی بنانے کے لیے نہیں کہہ سکتے، کیا ہم دونوں اپنا نکاح امام اور گواہ سے کروا سکتے ہیں؟ جب ہمارے خاندان ہماری شادی کریں گے، تو کسی بھی مسئلے سے بچنے کے لیے ہم دوبارہ نکاح کریں گے اور یہ پاکستان میں رجسٹرڈ ہو جائے گا۔ یہ 2.5 سال کا معاملہ ہے، جسے ہم ایک دوسرے سے احساس جرم کے ساتھ بات کرتے ہوئے نہیں گزار سکتے۔ براہ کرم مجھے رہنمائی کریں کہ میں کیا کر سکتا ہوں؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کی صورتِ حال کو سمجھتے ہوئے شرعی رہنمائی پیش کی جاتی ہے۔ آپ نے منگنی کے بعد بغیر نکاح کے بات چیت جاری رکھی، جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔ آپ نے نکاح کی خواہش ظاہر کی لیکن خاندانی رکاوٹوں کی وجہ سے خفیہ نکاح کا سوچا ہے۔ ذیل میں اس مسئلے کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ولی کی شرعی حیثیت
حنفی مسلک کے مطابق، عورت کے نکاح کے لیے ولی کی موجودگی شرط ہے۔ ولی کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا، خواہ لڑکی خود راضی ہو۔ لہٰذا، آپ کا خفیہ نکاح بغیر ولی کے درست نہیں ہوگا۔
خفیہ نکاح کا حکم
خفیہ نکاح (جس میں گواہ موجود ہوں لیکن ولی کی رضامندی نہ ہو) حنفی مسلک میں درست نہیں۔ اس لیے آپ کا منصوبہ شرعی اعتبار سے قابلِ قبول نہیں۔
متبادل حل
آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ:
- خاندان کے کسی معتبر فرد (جیسے دادا، چچا، یا بھائی) کو اپنا نائب بنا کر ان کے ذریعے لڑکی کے والد سے نکاح کی اجازت لینے کی کوشش کریں۔
- اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی مقامی عالم یا مسجد کے امام سے مشورہ کریں جو دونوں خاندانوں کو سمجھا سکے۔
- اگر واقعی نکاح ممکن نہ ہو تو اس وقت تک مکمل طور پر بات چیت بند کر دیں جب تک نکاح نہ ہو جائے۔ گناہ کے بجائے صبر کریں۔
نکاح کے بعد بات چیت
نکاح کے بعد آپ بغیر کسی گناہ کے بات کر سکتے ہیں، لیکن نکاح کے بغیر بات چیت جاری رکھنا حرام ہے۔
نتیجہ
آپ کا خفیہ نکاح بغیر ولی کے درست نہیں ہے۔ لہٰذا، آپ کو چاہیے کہ یا تو خاندان کو راضی کریں یا پھر نکاح تک مکمل طور پر بات چیت بند کر دیں۔ اس معاملے میں کسی مستند مفتی سے براہِ راست رجوع کرنا بہتر ہوگا۔
حوالہ جات
- الہدایہ، کتاب النکاح: باب الولی
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب النکاح: الفصل الثانی فی الولی
- رد المحتار، کتاب النکاح: مطلب فی نکاح بلا ولی
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ