سوال:
محترم و مکرم، جناب مفتی صاحب، میں نکاح کرکے دوسرے شہر سے کراچی آئی، اور پھر طلاق اور عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرلیا۔ لیکن دوسرا شوہر شادی کے کچھ ہی وقت بعد سے بالکل لاپتہ ہوگیا اور اب: 1. میرے پاس اس کا گھر نہیں ہے۔ 2. اور نان نفقہ اور ضروریات کے لئے مال بھی نہیں ہے۔ 3. ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ 4. میری والدہ ضعیف ہیں اور چچا کے گھر والوں کے سہارے ہے اور چچا وغیرہ مجھے اپنے گھر زیادہ پسند نہیں کرتے۔ 5. میں جوان العمر اور بالکل تنہا ہوں تو مکمل پاکدامنی کے ساتھ رہنا بھی مشکل ہے، جس کی وجہ سے مجھے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ 6. فی الحال کسی ادارے کے تحت بطور ملازمہ کام کررہی تھی لیکن اب وہ بھی رہائش دینے کو تیار نہیں ہیں۔ لہذا میں نے اپنے آبائی شہر ٹھٹھہ کی عدالت میں دعوی دائر کرکے وہاں سے ان وجوہات اور صورت حال کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کروالیا لیکن اب میرے سوال یہ ہیں کہ: 1. اگر عورت نے عدالت سے تنسیخ نکاح کروایا بوجہ شوہر کے سال بھر سے گھر سے غائب اور لاپتہ ہونے کے۔ اور اس کے نان نفقہ و رہائش بھی نہ دینے کی وجہ سے۔ تو کیا یہ تنسیخ درست ہے؟ 2. اسلامی ملک کی کسی بھی حکومتی بااختیار عدالت کی تنسیخ معتبر ہے شرعًا؟ 3. عدالتی فیصلہ (قضائے قاضی) کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 4. کیا قاضی کی غلط تنسیخ سے بھی فسخ نکاح معتبر ہوگا؟ 5. اس وقت میں عدت میں ہوں تو کیا عدت گزار کر میں کسی سے نکاح کرکے اپنا گھر بسا سکتی ہوں؟ براہِ کرم، تمام تر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیلی جواب عنایت فرمائیے۔ اللہ آپ کے دونوں جہاں کی مشکلات کو حل فرمائے جیسے آپ لوگوں کو دنیا میں شرعی رہنمائی فرماکر ان کی مشکلات کو للہ فی اللہ حل فرماتے ہیں۔ جزاکم اللہ خیرا احسن الجزاء فی الدارین
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے مسائل کو جلد حل فرمائے اور آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
عدالت سے تنسیخ نکاح کی شرعی حیثیت
اسلامی ملک کی بااختیار عدالت کا فیصلہ (قضائے قاضی) شرعاً معتبر اور نافذ العمل ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ عدالت اسلامی قوانین کے مطابق فیصلہ کرے۔ اگر عدالت نے شوہر کے لاپتہ ہونے اور نان نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کا حکم دیا ہے تو یہ شرعی طور پر درست ہے، بشرطیکہ عدالت نے شرعی تقاضوں کو پورا کیا ہو۔
قضائے قاضی کی شرعی حیثیت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ” (صحیح بخاری)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قاضی کا فیصلہ ظاہری دلائل پر مبنی ہوتا ہے اور اگر قاضی نے اجتہاد میں غلطی کی تو بھی اس کا فیصلہ نافذ ہوگا، البتہ اگر کسی کو معلوم ہو کہ فیصلہ حق کے خلاف ہے تو وہ اس پر عمل نہ کرے۔
کیا قاضی کی غلط تنسیخ سے بھی فسخ نکاح معتبر ہوگا؟
فقہائے کرام کے مطابق، اگر قاضی نے اپنے اجتہاد کی بنیاد پر کوئی فیصلہ دیا اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ غلط تھا تو اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن جب تک کوئی اعلیٰ عدالت اسے منسوخ نہ کرے، اس پر عمل درآمد ضروری ہے۔ آپ کی صورت میں، اگر عدالت نے شرعی اصولوں کے مطابق فیصلہ دیا ہے تو وہ معتبر ہے۔
عدت کے بعد نکاح کا حکم
اگر عدالت کا فیصلہ شرعی طور پر درست ہے تو آپ عدت (تین ماہواری یا تین ماہ) گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہیں۔ عدت اس وقت سے شروع ہوگی جب عدالت کا فیصلہ آپ کو معلوم ہوا۔
خلاصہ
- اسلامی ملک کی بااختیار عدالت کا فیصلہ شرعاً معتبر ہے۔
- شوہر کے لاپتہ ہونے اور نان نفقہ نہ دینے کی صورت میں عدالت تنسیخ نکاح کا حکم دے سکتی ہے۔
- عدت گزارنے کے بعد آپ دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔
- بہتر ہے کہ آپ کسی مستند مفتی سے اپنی عدالت کے فیصلے کی شرعی حیثیت کی تصدیق کر لیں۔
حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب الحیل، باب إثم من خاصم فی باطل
- الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الخلع
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثامن عشر
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ