Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

نماز کا فرض رکن جہالت کی وجہ سے چھوٹنے کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

میں نے جہالت کی وجہ سے نماز کے فرض حصوں میں سے ایک ادا نہیں کیا کیونکہ میں احکام سے ناواقف تھا۔ میں نے طویل عرصے سے اس طرح نمازیں ادا کی ہیں۔ کیا میری نماز درست ہے؟ میں نے کچھ شیوخ سے پوچھا اور انہوں نے کہا کہ آپ احکام سے ناواقف تھے، اس لیے آپ کی نماز درست ہے۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

نماز اسلام کا اہم ترین رکن ہے اور اس کی ادائیگی میں فرائض و واجبات کی پابندی ضروری ہے۔ تاہم، اگر کوئی شخص کسی رکن یا شرط کے بارے میں جہالت (عدم علم) کی وجہ سے اسے ادا نہ کرے تو اس کا حکم مختلف ہو سکتا ہے۔

جہالت کی وجہ سے فرض رکن چھوٹنے کا حکم

عام طور پر فقہاء کرام نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ جو شخص کسی حکم شرعی سے ناواقف ہو اور اس وجہ سے اس پر عمل نہ کرے، تو اسے معذور سمجھا جائے گا، بشرطیکہ اس کی جہالت عذر ہو۔ لیکن یہ حکم ہر صورت میں یکساں نہیں ہے۔

نماز کے فرائض میں جہالت کا اثر

نماز کے فرائض میں سے کسی ایک رکن (مثلاً رکوع، سجدہ، قعدہ وغیرہ) کا جان بوجھ کر چھوڑنا نماز کو باطل کر دیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص جہالت کی وجہ سے اسے چھوڑ دے تو اس کے بارے میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں:

  • احناف کے نزدیک: اگر کوئی شخص نماز کے فرائض میں سے کسی رکن کو جہالت کی وجہ سے چھوڑ دے، تو اس کی نماز نہیں ہوگی اور اسے دوبارہ پڑھنی ہوگی۔ البتہ، اگر وہ واقعی معذور ہو اور اسے علم نہ ہو تو اس پر گناہ نہیں ہوگا، لیکن نماز کی ادائیگی لازم ہے۔
  • جمہور فقہاء (شافعی، مالکی، حنبلی) کے نزدیک: جہالت کو عذر شمار کیا جاتا ہے، خاص طور پر اگر وہ شخص نومسلم ہو یا دور دراز علاقے میں رہتا ہو جہاں علم نہ پہنچا ہو۔ ایسی صورت میں اس کی نماز درست سمجھی جائے گی۔

آپ کے سوال کا جواب

آپ نے بتایا کہ آپ احکام سے ناواقف تھے اور کچھ شیوخ نے آپ کو بتایا کہ آپ کی نماز درست ہے۔ یہ رائے جمہور فقہاء کے مسلک کے مطابق ہے، خاص طور پر اگر آپ کی جہالت عذر ہو (مثلاً آپ نے حال ہی میں اسلام قبول کیا ہو یا علم حاصل کرنے کا موقع نہ ملا ہو)۔ تاہم، احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ان نمازوں کی قضا کر لیں، کیونکہ فرض رکن کا چھوٹنا ایک سنگین معاملہ ہے۔

عملی مشورہ

بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مستند عالم یا مفتی سے اپنی تفصیلات بتا کر رجوع کریں، تاکہ وہ آپ کی صورت حال کے مطابق صحیح حکم بتا سکیں۔ نیز، آئندہ کے لیے نماز کے احکام سیکھیں اور ان پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ علم حاصل کرنے والوں کی مدد فرماتا ہے۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 286 (لا یکلف اللہ نفسا إلا وسعہا)
  • صحیح البخاری، کتاب العلم، باب من سئل علما و هو مشتغل في حديثه
  • الفتاویٰ الہندیہ، کتاب الصلاۃ، باب في قضاء الفوائت
  • المغنی لابن قدامہ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجاہل

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.