Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

عالمی بینک کے منصوبے میں ملازمت اور آمدنی کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا میری آمدنی حلال ہے۔ میں کچھ سالوں سے ایک عالمی بینک کے فنڈ سے چلنے والے پروجیکٹ میں خریداری کے ایسوسی ایٹ کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ یہ پروجیکٹ عالمی بینک اور میرے ملک کی حکومت کے درمیان ہے۔ پروجیکٹ کے فنڈز عالمی بینک سے آتے ہیں جو تقریباً 60% گرانٹ اور 40% قرض پر مشتمل ہیں۔ قرض کی رقم پروجیکٹ ختم ہونے کے بعد حکومت کو عالمی بینک کو واپس کرنی ہوگی اور اس پر تقریباً 4% سود لگتا ہے۔ میری تنخواہ پروجیکٹ کے فنڈز سے ادا کی جاتی ہے اور میں اس بات پر سوال کر رہا ہوں کہ کیا میری آمدنی حلال ہے۔ میں نے اپنے حج کی ادائیگی کا کچھ حصہ بھی ادا کر دیا ہے اور میں اضطراب کا شکار ہوں۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کا سوال بہت اہم ہے اور آپ کا حلال روزی کے بارے میں فکر مند ہونا قابل تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حلال روزی کمانے کا حکم دیا ہے اور حرام سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ آئیے آپ کے مسئلے کو شریعت کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔

عالمی بینک کے قرض پر سود کا مسئلہ

آپ نے بتایا کہ اس منصوبے کا 60% حصہ گرانٹ (غیر واپسی امداد) ہے اور 40% قرض ہے جس پر سود (4%) لگتا ہے۔ سود (ربا) اسلام میں حرام ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرہ: 275)۔ لہٰذا سود پر مبنی قرض لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں۔

کیا آپ کی تنخواہ حلال ہے؟

اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کا کام خود کس نوعیت کا ہے اور منصوبے کے فنڈز کس طرح استعمال ہوتے ہیں۔ اگر آپ کا کام (procurement associate) کسی حلال چیز کی خریداری سے متعلق ہے اور آپ خود سودی معاملات میں براہ راست ملوث نہیں ہیں، تو آپ کی تنخواہ حلال ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، چونکہ منصوبے کے کل فنڈز میں سے کچھ حصہ سودی قرض پر مبنی ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔

علمائے کرام کی رائے

اس بارے میں علمائے کرام کی مختلف آراء ہیں:

  • بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر منصوبے کا بڑا حصہ (60%) گرانٹ ہے اور سودی قرض کا حصہ کم ہے، اور آپ کا کام سود سے براہ راست تعلق نہیں رکھتا، تو آپ کی تنخواہ حلال ہے۔
  • بعض علماء احتیاط کا حکم دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب تک پورا فنڈ حلال نہ ہو، اس سے تنخواہ لینا مکمل طور پر جائز نہیں۔

آپ کے لیے تجاویز

آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ:

  • اپنے کام کا جائزہ لیں: کیا آپ کا کام کسی حرام چیز (جیسے شراب، سود، وغیرہ) کی خریداری میں معاون تو نہیں؟ اگر نہیں، تو آپ کی تنخواہ حلال ہونے کی امید ہے۔
  • اپنی تنخواہ کا حساب لگائیں: اگر ممکن ہو تو اپنی تنخواہ میں سے سودی قرض کے تناسب (40%) کے برابر رقم نکال کر کسی خیراتی کام میں دے دیں (توبہ کے طور پر)۔
  • کسی مستند عالم یا مفتی سے رابطہ کریں: وہ آپ کے ملک کے قوانین اور منصوبے کی تفصیلات جان کر بہتر فتویٰ دے سکتے ہیں۔

حج کی ادائیگی کے بارے میں

اگر آپ نے حج کی ادائیگی اس آمدنی سے کی ہے جس کے بارے میں آپ کو شک ہے، تو آپ کا حج ادا ہو جائے گا، ان شاء اللہ، لیکن آپ کو اس رقم کے بارے میں توبہ کرنی چاہیے اور اگر ممکن ہو تو اس رقم کو صدقہ کر دینا چاہیے۔ تاہم، حج کی ادائیگی کے بعد آپ پر حج کا فریضہ ادا ہو گیا ہے۔

نتیجہ

آپ کی صورت حال میں احتیاط بہتر ہے۔ آپ اپنی تنخواہ کو حلال سمجھ سکتے ہیں بشرطیکہ آپ کا کام خود حلال ہو اور آپ سودی معاملات میں براہ راست ملوث نہ ہوں۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مستند عالم سے رجوع کریں تاکہ وہ آپ کو تفصیلی رہنمائی فراہم کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو حلال روزی عطا فرمائے اور آپ کے حج کو قبول فرمائے۔ آمین۔

حوالہ جات

  • قرآن مجید: سورہ البقرہ، آیت 275
  • صحیح بخاری: کتاب البیوع، باب بيع الربا
  • فتاویٰ شامی: کتاب البیوع، فصل فی الربا

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.