سوال:
ہمارے پاس ایک مسلم موت کمیٹی تھی، جہاں ہمارے بینک جار میں ربا جمع ہو گیا، جسے ہم ضائع کرنا چاہتے ہیں۔ ہم فی الحال کھاتوں کے لیے کاغذی طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔ کیا ہم اس ربا کو استعمال کر کے لیپ ٹاپ میں اپ گریڈ کر سکتے ہیں۔ یہ کمیونٹی کی معلومات ذخیرہ کرنے کے لیے ہے۔ یہ لیپ ٹاپ کمیٹی کے لیے ہوگا اور ذاتی ملکیت کے لیے نہیں ہوگا۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
مسلم موت کمیٹی کے بینک اکاؤنٹ میں جو ربا (سود) جمع ہو گیا ہے، اسے شرعی طور پر خیرات کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ ناپاک مال ہے اور اسے اپنے ذاتی یا تنظیمی فائدے کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔
ربا کا شرعی حکم
ربا (سود) اسلام میں حرام ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے لینے والے کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے۔ سودی رقم کو اپنی ملکیت میں رکھنا یا اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ اسے خیرات کرنا ضروری ہے، لیکن یہ خیرات بھی ثواب کی نیت سے نہیں ہوگی بلکہ محض اس مال سے چھٹکارا پانے کے لیے ہوگی۔
کیا ربا سے کمیٹی کا لیپ ٹاپ خرید سکتے ہیں؟
آپ کی کمیٹی کے بینک اکاؤنٹ میں جو ربا جمع ہوا ہے، اسے کمیٹی کے کسی بھی کام میں استعمال کرنا جائز نہیں، خواہ وہ لیپ ٹاپ خریدنا ہو یا کوئی اور چیز۔ ربا کی رقم کو خیرات کرنا ضروری ہے، اور اسے کمیٹی کے اخراجات میں استعمال کرنا درست نہیں۔
ربا کی رقم کو خیرات کرنے کا طریقہ
ربا کی رقم کو خیرات کرتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
- یہ رقم کسی مستحق مسکین یا غریب کو بغیر ثواب کی نیت کے دی جائے۔
- اس رقم کو کسی خیراتی ادارے کو بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن اسے صدقہ و خیرات کا نام نہ دیا جائے بلکہ صرف ربا سے چھٹکارا پانے کی نیت ہو۔
- یہ رقم کمیٹی کے کسی بھی رکن کو ذاتی استعمال کے لیے نہیں دی جا سکتی۔
کمیٹی کے لیے لیپ ٹاپ خریدنے کا متبادل طریقہ
اگر کمیٹی کو لیپ ٹاپ کی ضرورت ہے تو اسے حلال رقم سے خریدا جائے۔ کمیٹی کے ممبران اپنی طرف سے چندہ کر سکتے ہیں یا کمیٹی کے دیگر حلال ذرائع سے رقم جمع کر سکتے ہیں۔ ربا کی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔
بہتر یہ ہے کہ ربا کی رقم کو فوری طور پر خیرات کر دیا جائے اور لیپ ٹاپ کے لیے علیحدہ سے حلال رقم کا انتظام کیا جائے۔
حوالہ جات
- القرآن: سورة البقرة، آیت 275-279
- صحيح البخاري: كتاب البيوع، باب الربا
- فتاوى اللجنة الدائمة: فتوى رقم 12679
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ