سوال:
السلام علیکم میرے پاس ایک سوال ہے جس کے بارے میں میں کچھ عرصے سے سوچ رہا ہوں۔ جب میں چھوٹا تھا تو میں نے اللہ سے ایک وعدہ کیا تھا غیر اہم اور غیر اہم وعدوں کے لیے جیسے یوٹیوب شارٹس دیکھنا اور دوسرے اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ صرف میرا چھوٹا ہونا تھا اور اس کے بارے میں اچھی طرح نہیں سوچا تھا۔ اگر میں یوٹیوب دیکھوں تو کیا مجھے ہر بار 3 دن روزے رکھنے کی ضرورت ہوگی یا یہ جان کر دیکھ سکتا ہوں کہ اللہ سمجھ جائے گا۔ میں حنفی مسلک کی پیروی کرتا ہوں۔ جزاک اللہ خیراً
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جو سوال پوچھا ہے، اس کا تعلق اس وعدے (نذر) سے ہے جو آپ نے بچپن میں اللہ تعالیٰ سے کیا تھا کہ آپ یوٹیوب شارٹس نہیں دیکھیں گے۔ اب آپ اس معاملے میں الجھن میں ہیں کہ کیا اس وعدے کو توڑنے پر آپ پر کفارہ (تین دن کے روزے) لازم آئیں گے یا نہیں۔
نذر کی شرعی حیثیت
نذر (وعدہ) ایک شرعی عہد ہے، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط ہیں۔ حنفی مسلک کے مطابق، نذر صرف اس صورت میں پوری کرنا ضروری ہے جب وہ کسی نیک کام کے لیے ہو اور اس کا تعلق کسی گناہ یا مباح کام سے نہ ہو۔
بچپن میں کی گئی نذر کا حکم
آپ نے بتایا کہ آپ اس وقت 13-14 سال کے تھے اور بلوغت کو پہنچ چکے تھے۔ بلوغت کے بعد کی گئی نذر شرعی طور پر معتبر ہوتی ہے، لیکن اس کا انحصار نذر کی نوعیت پر ہے۔
- اگر آپ نے یوٹیوب شارٹس نہ دیکھنے کی نذر مانی تھی، تو یہ ایک مباح (جائز) کام سے رکنے کا وعدہ تھا۔ حنفی فقہ میں مباح کام سے رکنے کی نذر پوری کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اسے توڑنے پر کفارہ بھی نہیں آتا۔
- البتہ، اگر نذر کسی نیک کام کے کرنے کی تھی (جیسے نماز پڑھنا، روزہ رکھنا وغیرہ) تو اسے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
آپ کے لیے حکم
چونکہ آپ نے یوٹیوب شارٹس نہ دیکھنے کی نذر مانی تھی، جو کہ ایک مباح کام ہے، اس لیے آپ پر اس نذر کو توڑنے پر کوئی کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ آپ بغیر کسی گناہ کے یوٹیوب دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم، بہتر یہ ہے کہ آپ اللہ سے اپنی نذر کو پورا نہ کرنے پر معافی مانگیں اور آئندہ ایسی نذریں نہ مانیں جو غیر ضروری ہوں۔
نصیحت
بچپن میں کی گئی نذروں کے بارے میں زیادہ پریشان نہ ہوں، کیونکہ شریعت نے ان میں آسانی رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی نیت کو جانتا ہے اور وہ بندوں پر آسانی چاہتا ہے۔
حوالہ جات
- الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الأیمان، باب النذر
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب النذر، الفصل الثالث فیما ینعقد بہ النذر
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ