سوال:
میں اور میرے دوست نے اتفاق کیا کہ ہم ایک ساتھ رہیں گے، پھر ہمارے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے اور میں نکلنا چاہتا ہوں۔ ہمارا معاہدہ ایک پورے سال کے لیے ہے اور معاہدے کے تین ماہ گزر چکے ہیں۔ اگر میں نکلنا چاہوں تو کیا مجھے باقی کرایہ واپس ملے گا؟ اور اگر جواب نہیں ہے، تو کیا میں اپنی جگہ کسی اور کو لا سکتا ہوں؟ یہ جانتے ہوئے کہ مجھے رہائش چھوڑنے کی اطلاع دینے کے تقریباً دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ براہ کرم جلدی جواب دیں۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے اپنے دوست کے ساتھ ایک سال کے لیے مشترکہ کرایہ کا معاہدہ کیا تھا، اور تین ماہ بعد اختلافات کی وجہ سے آپ معاہدہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ شریعت میں معاہدوں کی پابندی ضروری ہے، لیکن بعض صورتوں میں معاہدہ ختم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ذیل میں آپ کے سوالات کے جوابات پیش کیے جاتے ہیں۔
بقیہ کرایہ کی واپسی
اگر آپ نے پورے سال کا کرایہ ادا کر دیا تھا، تو آپ صرف اتنے عرصے کا کرایہ واپس لے سکتے ہیں جس میں آپ نے رہائش استعمال نہیں کی۔ لیکن اگر آپ نے ماہانہ کرایہ ادا کیا تھا، تو آپ نے صرف تین ماہ کا کرایہ ادا کیا ہے، اور آئندہ کے مہینوں کا کرایہ آپ پر واجب نہیں ہے، بشرطیکہ آپ معاہدہ ختم کر دیں۔ تاہم، اگر معاہدے میں یہ شرط تھی کہ قبل از وقت ختم کرنے پر جرمانہ ادا کرنا ہوگا، تو آپ کو اس شرط کی پابندی کرنی ہوگی۔
متبادل شخص لانا
اگر آپ اپنی جگہ کسی اور شخص کو لانا چاہتے ہیں، تو یہ اس وقت جائز ہے جب آپ کا دوست (جس کے ساتھ معاہدہ ہے) اس پر راضی ہو۔ کیونکہ یہ معاہدہ ذاتی اعتماد پر مبنی ہے، اور دوسرے فریق کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر وہ راضی نہ ہو، تو آپ متبادل نہیں لا سکتے۔
اطلاع کی مدت
آپ نے دو ہفتے پہلے نکلنے کی اطلاع دی ہے، لیکن شریعت میں اطلاع کی کوئی خاص مدت مقرر نہیں ہے۔ تاہم، عرف اور معاہدے کی شرائط کے مطابق، مناسب مدت (جیسے ایک ماہ) دینا بہتر ہے۔ اگر آپ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، تو آپ کو نقصان کی تلافی کرنی پڑ سکتی ہے۔
خلاصہ
آپ معاہدہ ختم کر سکتے ہیں، لیکن بقیہ کرایہ کی واپسی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ نے کرایہ کیسے ادا کیا تھا اور معاہدے میں کیا شرائط تھیں۔ متبادل شخص لانے کے لیے دوسرے فریق کی رضامندی ضروری ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ باہمی مشورے سے معاملہ طے کریں۔ اگر معاملہ عدالت میں جائے تو شرعی عدالت معاہدے کی شرائط اور عرف کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔
حوالہ جات
- القرآن: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ (المائدة: 1)
- الحدیث: الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ (سنن أبي داود)
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ