Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

مشترکہ کرایہ کے معاہدے سے نکلنے کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

میں اور میرے دوست نے اتفاق کیا کہ ہم ایک ساتھ رہیں گے، پھر ہمارے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے اور میں نکلنا چاہتا ہوں۔ ہمارا معاہدہ ایک پورے سال کے لیے ہے اور معاہدے کے تین ماہ گزر چکے ہیں۔ اگر میں نکلنا چاہوں تو کیا مجھے باقی کرایہ واپس ملے گا؟ اور اگر جواب نہیں ہے، تو کیا میں اپنی جگہ کسی اور کو لا سکتا ہوں؟ یہ جانتے ہوئے کہ مجھے رہائش چھوڑنے کی اطلاع دینے کے تقریباً دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ براہ کرم جلدی جواب دیں۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ نے اپنے دوست کے ساتھ ایک سال کے لیے مشترکہ کرایہ کا معاہدہ کیا تھا، اور تین ماہ بعد اختلافات کی وجہ سے آپ معاہدہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ شریعت میں معاہدوں کی پابندی ضروری ہے، لیکن بعض صورتوں میں معاہدہ ختم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ذیل میں آپ کے سوالات کے جوابات پیش کیے جاتے ہیں۔

بقیہ کرایہ کی واپسی

اگر آپ نے پورے سال کا کرایہ ادا کر دیا تھا، تو آپ صرف اتنے عرصے کا کرایہ واپس لے سکتے ہیں جس میں آپ نے رہائش استعمال نہیں کی۔ لیکن اگر آپ نے ماہانہ کرایہ ادا کیا تھا، تو آپ نے صرف تین ماہ کا کرایہ ادا کیا ہے، اور آئندہ کے مہینوں کا کرایہ آپ پر واجب نہیں ہے، بشرطیکہ آپ معاہدہ ختم کر دیں۔ تاہم، اگر معاہدے میں یہ شرط تھی کہ قبل از وقت ختم کرنے پر جرمانہ ادا کرنا ہوگا، تو آپ کو اس شرط کی پابندی کرنی ہوگی۔

متبادل شخص لانا

اگر آپ اپنی جگہ کسی اور شخص کو لانا چاہتے ہیں، تو یہ اس وقت جائز ہے جب آپ کا دوست (جس کے ساتھ معاہدہ ہے) اس پر راضی ہو۔ کیونکہ یہ معاہدہ ذاتی اعتماد پر مبنی ہے، اور دوسرے فریق کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر وہ راضی نہ ہو، تو آپ متبادل نہیں لا سکتے۔

اطلاع کی مدت

آپ نے دو ہفتے پہلے نکلنے کی اطلاع دی ہے، لیکن شریعت میں اطلاع کی کوئی خاص مدت مقرر نہیں ہے۔ تاہم، عرف اور معاہدے کی شرائط کے مطابق، مناسب مدت (جیسے ایک ماہ) دینا بہتر ہے۔ اگر آپ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، تو آپ کو نقصان کی تلافی کرنی پڑ سکتی ہے۔

خلاصہ

آپ معاہدہ ختم کر سکتے ہیں، لیکن بقیہ کرایہ کی واپسی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ نے کرایہ کیسے ادا کیا تھا اور معاہدے میں کیا شرائط تھیں۔ متبادل شخص لانے کے لیے دوسرے فریق کی رضامندی ضروری ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ باہمی مشورے سے معاملہ طے کریں۔ اگر معاملہ عدالت میں جائے تو شرعی عدالت معاہدے کی شرائط اور عرف کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔

حوالہ جات

  • القرآن: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ (المائدة: 1)
  • الحدیث: الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ (سنن أبي داود)

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.