سوال:
، میں ایک عورت ہوں اور آج میں روزے سے ہوں۔ تاہم، صبح سے مجھے بار بار الٹی اور دست آ رہے ہیں۔ میں بہت کمزور محسوس کر رہی ہوں، سر میں درد ہے، اور متلی ختم نہیں ہو رہی۔ میں نے جان بوجھ کر الٹی نہیں کی؛ یہ خود بخود ہو رہی ہے۔ اس صورت حال میں: کیا میرا روزہ ٹوٹ گیا ہے؟ اگر میں بہت کمزور ہو جاؤں اور پانی یا او آر ایس پینے کے لیے روزہ توڑ دوں، تو کیا مجھے بعد میں صرف قضا کرنی ہوگی؟ شریعت کے مطابق اس معاملے میں صحیح حکم کیا ہے؟ میں قرآن و حدیث کی روشنی میں آپ کے جواب کی بہت قدر کروں گی۔ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
اللہ تعالیٰ نے روزہ فرض کیا ہے، لیکن بیمار اور کمزور افراد کے لیے شریعت نے رخصت دی ہے۔ آپ کی صورت حال میں خود بخود الٹی اور دست آنا روزہ نہیں توڑتا، جب تک کہ آپ منہ بھر کر قے نہ کریں یا جان بوجھ کر قے نہ لائیں۔ تاہم، اگر آپ کی کمزوری بڑھ جائے اور روزہ جاری رکھنا نقصان کا باعث ہو، تو آپ روزہ توڑ سکتی ہیں اور بعد میں صرف قضا کریں گی۔
خود بخود الٹی اور دست کا حکم
اگر قے خود بخود (بغیر ارادے کے) آ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا، خواہ وہ منہ بھر کر ہی کیوں نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ” (جسے خود بخود قے آ جائے تو اس پر قضا نہیں)۔ (سنن ترمذی، حدیث: 720) اسی طرح دست (اسہال) بھی روزہ نہیں توڑتا، کیونکہ یہ بیماری کی وجہ سے ہے۔
بیماری کی وجہ سے روزہ توڑنے کا حکم
اگر آپ اتنی کمزور ہو جائیں کہ روزہ رکھنا مشکل ہو یا بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہو، تو آپ روزہ توڑ سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ” (البقرہ: 184) یعنی جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزے رکھے۔ اس صورت میں صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔
عملی رہنمائی
- اگر ممکن ہو تو روزہ جاری رکھیں، لیکن اگر شدید کمزوری یا پانی کی کمی ہو تو پانی یا ORS پی کر روزہ توڑ دیں۔
- بعد میں جب صحت یاب ہو جائیں تو ایک روزے کی قضا رکھیں۔
- اگر بیماری مستقل ہو یا صحت یابی کی امید نہ ہو تو فدیہ (صدقہ فطر) دینے کا حکم ہے، لیکن آپ کی صورت میں قضا کافی ہے۔
نوٹ
یہ جواب عمومی معلومات پر مبنی ہے۔ براہ کرم کسی مستند عالم یا مفتی سے تصدیق کر لیں۔
حوالہ جات
- سنن ترمذی، حدیث: 720
- القرآن الکریم، سورۃ البقرہ: 184
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الصوم
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ