سوال:
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب، میں ایک حساس معاملے کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔ ایک 20 سالہ خاتون کو طلاق ہوئی تھی اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ تقریباً ایک ماہ کی حاملہ ہیں۔ حمل ان کے سابق شوہر سے ہے۔ وہ فی الحال شدید گردے کی پتھری کی وجہ سے شدید درد میں مبتلا ہیں۔ مزید برآں، سابق شوہر شدید نفسیاتی اور ذہنی طور پر غیر مستحکم تھا، جس کی وجہ سے اسے کافی جذباتی پریشانی اور خوف کا سامنا ہے۔ مندرجہ ذیل حالات کو دیکھتے ہوئے: 1. حمل تقریباً ایک ماہ کا ہے (ابتدائی مرحلہ)۔ 2. اسے گردے کی شدید پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ 3. سابق شوہر سے متعلق سنگین نفسیاتی اور جذباتی خدشات ہیں۔ کیا اس صورت حال میں اسلامی قانون کے مطابق حمل کی تنسیج جائز ہوگی؟ اگر ہاں، تو کن مخصوص شرائط کے تحت اس کی اجازت ہوگی؟ براہ کرم قرآن، سنت اور قائم فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فراہم کریں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کے سوال میں مذکور خاتون کی حالتِ حمل، گردے کی شدید پتھری، اور سابق شوہر کی نفسیاتی کیفیت کے پیش نظر اسلامی فقہ میں اسقاطِ حمل کے احکام کو سمجھنا ضروری ہے۔ ذیل میں قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی پیش کی جاتی ہے۔
اسقاطِ حمل کا عمومی حکم
جمہور فقہاء کے نزدیک حمل کے 120 دن (چار ماہ) کے بعد اسقاط جائز نہیں، کیونکہ اس مدت کے بعد روح پھونک دی جاتی ہے۔ اس سے پہلے اسقاط کی اجازت بعض صورتوں میں دی گئی ہے، لیکن یہ بھی بلاوجہ جائز نہیں۔
موجودہ صورتِ حال کا تجزیہ
1. حمل کی مدت (ایک ماہ)
یہ حمل 120 دن سے کم ہے، اس لیے فقہی اعتبار سے اسقاط کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے، بشرطیکہ کوئی شرعی عذر موجود ہو۔
2. گردے کی شدید پتھری
اگر حمل جاری رکھنا ماں کی جان کے لیے خطرہ بن جائے، تو فقہاء نے اسقاط کی اجازت دی ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ کم از کم دو مستند ڈاکٹر (مسلمان اور متقی) اس بات کی تصدیق کریں کہ حمل جاری رکھنا ماں کی صحت کے لیے شدید خطرہ ہے۔
3. نفسیاتی خوف اور پریشانی
صرف نفسیاتی خوف یا سابق شوہر کی ذہنی حالت اسقاط کا جواز نہیں بنتی، جب تک کہ یہ خوف ماں کی جان یا صحت کو شدید نقصان پہنچانے والا نہ ہو۔ اگر نفسیاتی دباؤ اتنا شدید ہو کہ ماں کی زندگی خطرے میں پڑ جائے، تو اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے بھی ماہر نفسیات کی تصدیق ضروری ہے۔
خلاصہ اور رہنمائی
- اگر گردے کی پتھری کی وجہ سے حمل جاری رکھنا ماں کی جان کے لیے خطرہ ہو، تو 120 دن سے پہلے اسقاط جائز ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ڈاکٹرز اس کی تصدیق کریں۔
- صرف نفسیاتی خوف یا سابق شوہر کی ذہنی حالت اسقاط کا کافی جواز نہیں ہے۔
- اسقاط سے پہلے حمل کو بچانے کی تمام ممکنہ کوششیں کرنی چاہئیں، جیسے گردے کا علاج یا درد پر قابو پانا۔
- حتمی فیصلہ کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ کرکے کیا جائے، جو ڈاکٹرز کی رپورٹ دیکھ کر شرعی حکم صادر کرے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ الإسراء، آیت 31 (قتل اولاد کی ممانعت)
- صحیح البخاری: حدیث نمبر 3336 (روح پھونکنے کا بیان)
- المبسوط للسرخسی: جلد 9، صفحہ 45 (اسقاط کے احکام)
- فتاویٰ ہندیہ: جلد 5، صفحہ 356 (عذر کی صورت میں اسقاط)
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ