سوال:
کیا آن لائن نکاح جائز ہے
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آن لائن نکاح سے مراد یہ ہے کہ نکاح کی مجلس میں دولہا اور دلہن جسمانی طور پر ایک جگہ موجود نہ ہوں، بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے آڈیو یا ویڈیو لنک کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہوں اور ایجاب و قبول کریں۔ اس مسئلہ میں علماء کرام کے مختلف اقوال ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
نکاح کے شرائط
نکاح کے صحیح ہونے کے لیے چند شرائط ضروری ہیں:
- ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول ہو۔
- دو عادل مرد گواہ موجود ہوں۔
- ولی کی موجودگی (حنفی مسلک میں ولی شرط نہیں، لیکن مستحب ہے)۔
آن لائن نکاح کے بارے میں علماء کے اقوال
1. جائز ہونے کی رائے
بعض علماء کے نزدیک اگر ویڈیو کال کے ذریعے ایک ہی وقت میں ایجاب و قبول ہو رہا ہو اور گواہ بھی اسے دیکھ اور سن رہے ہوں تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ اس میں مجلس اتحاد کی شرط پوری ہوتی ہے کیونکہ دونوں فریق ایک ہی وقت میں ایک دوسرے کو دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں۔
2. ناجائز ہونے کی رائے
دوسرے علماء کا کہنا ہے کہ نکاح کے لیے مجلس اتحاد شرط ہے، جس کا مطلب ہے کہ دونوں فریق ایک ہی جگہ جسمانی طور پر موجود ہوں۔ آن لائن نکاح میں یہ شرط پوری نہیں ہوتی، اس لیے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔
احتیاط کا تقاضا
چونکہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ نکاح روایتی طریقے سے کیا جائے جہاں دولہا، دلہن اور گواہ ایک جگہ موجود ہوں۔ اگر آن لائن نکاح کرنا ضروری ہو تو کسی مستند عالم یا مفتی سے رجوع کر کے اسے مکمل کیا جائے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات
- الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح
- فتاویٰ شامی، جلد 3، ص 12
- فتاویٰ عثمانی، جلد 2، ص 345
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ