سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ایک شادی شدہ خاتون ہوں اور فطری طور پر بہت دبلی پتلی ہوں، میرا سینہ بھی بہت چھوٹا ہے، جس کی وجہ سے بطور بیوی میرے اعتماد پر اثر پڑتا ہے۔ میں بریسٹ آگمینٹیشن (چھاتی بڑھانے کا آپریشن) پر غور کر رہی ہوں، لیکن اس کا مقصد صرف اپنے شوہر کے لیے ہے، عوامی نمائش یا زیب و زینت کے لیے نہیں۔
میں اس بات سے آگاہ ہوں کہ اسلام میں اللہ کی تخلیق میں بلاوجہ تبدیلی کے حوالے سے سختی پائی جاتی ہے، اسی لیے میں چاہتی ہوں کہ یہ قدم صرف درست شرعی رہنمائی کے بعد ہی اٹھایا جائے۔
میں نے اس معاملے پر اپنے شوہر سے بات کی ہے، وہ اس پر راضی ہیں اور ان کی طرف سے کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے، بلکہ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ صرف اسی صورت میں ہو جب شرعاً اس کی اجازت ہو۔
براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کا سوال بہت اہم ہے اور آپ نے شرعی رہنمائی حاصل کرنے کی جو فکر دکھائی ہے، یہ بہت قابلِ تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
خلقِ الٰہی میں تبدیلی کا اصولی حکم
قرآن مجید میں شیطان کی اس کوشش کا ذکر آیا ہے کہ وہ انسانوں کو اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے پر اکسائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ (النساء: 119)
اس آیت کی روشنی میں علماء نے یہ اصول وضع کیا ہے کہ جسمانی تبدیلیاں صرف علاج کی غرض سے جائز ہیں، نہ کہ محض حسن و جمال کے لیے۔
بریسٹ آگمینٹیشن کے شرعی احکام
بریسٹ آگمینٹیشن کے بارے میں علماء کے مختلف مواقف ہیں:
- اکثر علماء کا موقف: یہ عمل ناجائز ہے، کیونکہ یہ خلقِ الٰہی میں تبدیلی ہے اور اس میں جسم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شامل ہے جو کسی بیماری یا نقصان کے ازالے کے لیے نہیں۔
- کچھ علماء کی رائے: اگر شوہر کی خوشنودی اور ازدواجی تعلقات میں بہتری کے لیے ہو، اور اس میں کوئی نقصان نہ ہو، تو بعض صورتوں میں اس کی گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن یہ رائے کمزور ہے۔
آپ کے لیے عملی رہنمائی
آپ نے اپنی پریشانی اور شوہر کی خوشی کا خیال کیا ہے، لیکن اس کے باوجود مندرجہ ذیل نکات پر غور کریں:
- علاج کی نیت: اگر آپ کے سینے میں کوئی جسمانی نقصان یا بیماری ہے تو علاج جائز ہے۔ لیکن محض چھوٹے سائز کو نقصان نہیں سمجھا جائے گا۔
- شوہر کی رضامندی: شوہر کی رضامندی سے یہ عمل جائز نہیں ہو جاتا، کیونکہ شرعی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔
- اعتماد کی کمی: اعتماد بڑھانے کے لیے دیگر جائز طریقے اختیار کریں، جیسے ورزش، مناسب لباس، اور شوہر سے کھلی گفتگو۔
خلاصہ
بریسٹ آگمینٹیشن کا عمل، جب کہ یہ محض حسن و جمال کے لیے ہو، شرعاً ناجائز ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اس سے گریز کریں اور اپنے اعتماد کو بڑھانے کے لیے جائز ذرائع اپنائیں۔ اگر آپ کو کوئی جسمانی تکلیف ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک خاص صورت پر پیدا کیا ہے، اور اس میں راضی رہنا بھی عبادت ہے۔ شوہر سے محبت اور خلوص سے بات کریں، وہ آپ کی قدر کرے گا۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ النساء، آیت 119
- فتاویٰ شامی، کتاب الحظر والإباحة
- فتاویٰ عثمانی، جلد 2، صفحہ 456
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ