سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میں ایک نو مسلم خاتون ہوں، الحمدللہ۔ میں ایک ایسے شخص سے بات کر رہی ہوں جس نے مجھ سے کہا ہے کہ وہ مجھ سے نکاح کرے گا، مگر اس کے لیے وہ پہلے اپنے والدین کو میرے بارے میں بتائے گا تاکہ نکاح باقاعدہ طور پر ہو سکے۔
لیکن میں بہت زیادہ اوورتھنکنگ اور اس خوف میں مبتلا ہوں کہ کہیں ہماری شادی نہ ہو پائے۔ استغفراللہ، ہم اب بھی آپس میں بات کرتے ہیں اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ وہ ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ وہ مرد ہے اور سب کچھ خود سنبھال لے گا۔
میں بہت الجھن کا شکار ہوں۔ میں نے تہجد پڑھی ہے، استخارہ بھی کیا ہے، لیکن پھر بھی میں اسی کشمکش میں رکی ہوئی ہوں اور دل مطمئن نہیں ہو پا رہا۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کا سوال بہت اہم ہے اور بہت سی بہنوں کو اس قسم کی الجھن کا سامنا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو آپ کو مبارکباد کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسلام کی نعمت سے نوازا۔ آپ کا تہجد اور استخارہ کرنا بہت اچھی بات ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ شرعی اصولوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
نکاح سے پہلے بات چیت کا شرعی حکم
اسلام میں نکاح سے پہلے کسی نامحرم مرد و عورت کا اکیلے میں ملنا یا بار بار بات کرنا جائز نہیں ہے، خاص طور پر جب جذبات شامل ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ (ترمذی) یعنی جب کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو ان کا تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ کا اس شخص سے اس طرح بات کرنا جب تک نکاح نہیں ہوا، درست نہیں ہے۔
اوورتھنکنگ اور وسوسوں کا علاج
شیطان انسان کو مختلف وسوسوں میں ڈالتا ہے، خاص طور پر جب کوئی نیک کام کرنے کا ارادہ ہو۔ آپ کا خوف اور اوورتھنکنگ بھی اسی قسم کا وسوسہ ہو سکتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اللہ پر بھروسہ کریں اور اس کے فیصلے پر راضی رہیں۔ استخارہ کرنے کے بعد دل کو مطمئن کرنا چاہیے، اگر کوئی واضح برائی نظر نہ آئے تو آگے بڑھنا چاہیے۔
عملی اقدامات
- نکاح میں جلدی کریں: اگر آپ دونوں شادی کا ارادہ رکھتے ہیں تو بغیر تاخیر کے نکاح کر لیں۔ اس طرح حرام تعلقات سے بچ جائیں گے اور شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رہیں گے۔
- والدین کو شامل کریں: اس شخص سے کہیں کہ وہ جلد از جلد اپنے والدین کو بتائے اور نکاح کا بندوبست کرے۔ اگر وہ واقعی سنجیدہ ہے تو اس میں تاخیر نہیں کرے گا۔
- دعا اور صبر: اللہ سے دعا کریں اور صبر کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: 3) یعنی جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔
نکاح سے پہلے تعلقات سے بچیں
جب تک نکاح نہ ہو، آپ دونوں کے لیے ضروری ہے کہ آپس میں بات چیت محدود کریں اور کسی بھی قسم کے جذباتی تعلق سے بچیں۔ نکاح کے بعد ہی آپ ایک دوسرے کے لیے حلال ہوں گے۔
نتیجہ
آپ اپنے استخارے پر بھروسہ کریں اور اللہ سے دعا کرتی رہیں۔ اگر یہ رشتہ آپ کے لیے بہتر ہے تو اللہ اسے آسان کر دے گا۔ ورنہ وہ آپ کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔ فی الحال، نکاح سے پہلے تعلقات سے مکمل پرہیز کریں اور اس شخص سے کہیں کہ وہ جلد از جلد نکاح کا بندوبست کرے۔
حوالہ جات
- صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5234
- سنن ترمذی، حدیث نمبر: 2165
- قرآن مجید، سورہ الطلاق: 3
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ