سوال:
السلام علیکم،
میرے چچا ایک گھر مورگیج (قرضِ سود) پر خریدنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس اتنی دستاویزی شہادت (proof) نہیں ہے جو بینک کو دکھا کر مورگیج حاصل کی جا سکے، لیکن حقیقت میں ان کے پاس مورگیج لینے کے لیے کافی رقم موجود ہے۔
اسی وجہ سے وہ کچھ رقم الگ الگ کر کے میرے اکاؤنٹ اور اپنے بعض دیگر رشتہ داروں کے اکاؤنٹس میں رکھ رہے ہیں، تاکہ جب وہ گھر خریدنا چاہیں تو ہم سب لوگ وہ رقم واپس ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیں اور ٹرانزیکشن میں اسے “تحفہ (gift)” کے طور پر ظاہر کریں، تاکہ بینک سمجھے کہ رشتہ دار ان کی مالی مدد کر رہے ہیں اور کسی قسم کا شک نہ کرے۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا میرے لیے یہ گناہ ہوگا کہ میں ان کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں رکھوں اور بعد میں واپس کر دوں، جبکہ وہ اس رقم کو سودی مورگیج کے ذریعے گھر خریدنے میں استعمال کریں گے؟
جزاک اللہ خیراً۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کے چچا کا سودی مورگیج (mortgage) کے ذریعے گھر خریدنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ سود (ربا) قرآن و حدیث میں قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس میں آپ کا ان کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں رکھنا اور پھر بینک کو دھوکہ دینے کے لیے اسے "تحفہ” ظاہر کرنا بھی گناہ کا سبب بنے گا۔
سود کی حرمت
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سود کو حرام کیا ہے: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرہ: 275)۔ حدیث میں بھی سود لینے، دینے، لکھنے اور گواہ بننے والوں پر لعنت آئی ہے۔
آپ کے عمل کا حکم
آپ کا اپنے اکاؤنٹ میں رقم رکھنا اور پھر اسے واپس کرنا، جبکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ رقم سودی معاملے میں استعمال ہوگی، درج ذیل شرعی مسائل پیدا کرتا ہے:
- سود میں تعاون: آپ اپنے چچا کی سودی معاملے میں مدد کر رہے ہیں، جبکہ اللہ نے فرمایا: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ: 2)۔
- دھوکہ دہی: بینک کو یہ باور کرانا کہ رقم تحفہ ہے، جبکہ حقیقت میں یہ آپ کی امانت ہے، دھوکہ ہے جو شرعاً ناجائز ہے۔
- جھوٹ: بینک کو غلط بیانی کرنا جھوٹ ہے، جو کبیرہ گناہ ہے۔
آپ کی ذمہ داری
آپ کو چاہیے کہ اپنے چچا کو سمجھائیں کہ سودی مورگیج حرام ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے۔ اگر وہ اصرار کریں تو آپ ان کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں رکھنے سے انکار کر دیں، کیونکہ اس میں گناہ میں شرکت ہے۔
نتیجہ
آپ کے لیے اس رقم کو اپنے اکاؤنٹ میں رکھنا اور پھر اسے سودی مورگیج کے لیے استعمال کرنے میں مدد دینا جائز نہیں۔ اس سے بچنا اور اپنے چچا کو حلال طریقے سے گھر خریدنے کی ترغیب دینا آپ کی شرعی ذمہ داری ہے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیات 275-279
- صحیح مسلم: کتاب المساقاة، باب لعن آکل الربا وموکله
- تفسیر ابن کثیر: سورۃ المائدہ، آیت 2
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ