Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

اللہ سے غلطی کا عقیدہ رکھنے کا حکم اور اس کے اثرات

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

کفر سے متعلق سوال 1:

ہمارے علاقے میں ایک شخص بہت کم عمر میں فوت ہوگیا۔ اس موقع پر میں نے یہ بات کہی اور دل میں یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ سے اس معاملے میں (نعوذ باللہ) غلطی ہوگئی ہے۔ اس وقت مجھے یہ سمجھ نہیں تھا کہ ایسا کہنا اور ماننا کفر ہے۔ میرا کفر کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ بعض اوقات میں یہ بھی مانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی غلطی نہیں ہوسکتی۔
کیا اس صورت میں مجھ پر مؤاخذہ ہوگا؟ اور کیا میری پچھلی عبادات اور دعائیں معتبر ہیں؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ نے جو سوال کیا ہے، اس میں آپ نے ایک مشکل وقت میں ایک ایسا جملہ کہہ دیا جو عقیدے کے خلاف تھا۔ اس پر آپ کو پریشانی ہے اور آپ جاننا چاہتے ہیں کہ اس کا کیا حکم ہے اور آپ کی پچھلی عبادات کا کیا ہوگا۔

عقیدے کی اہمیت

اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ غلطی کر سکتا ہے، نعوذ باللہ، یہ عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور غلطی سے پاک ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (حم السجدہ: 46) یعنی تیرا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔

آپ کے عقیدے کا حکم

آپ نے بتایا کہ آپ نے اس وقت یہ بات کہی اور دل میں یہ سمجھا کہ اللہ سے غلطی ہوئی، لیکن آپ کو اس وقت اس کے کفر ہونے کا علم نہیں تھا۔ نیز آپ نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات آپ یہ مانتے تھے کہ اللہ سے غلطی نہیں ہو سکتی۔ اس صورت میں آپ پر اس بات کا اطلاق ہو سکتا ہے کہ آپ نے جہالت کی وجہ سے یہ کہا، اور آپ کا ایمان پہلے سے موجود تھا۔

علم نہ ہونے کی صورت میں حکم

اگر کوئی شخص جہالت کی وجہ سے کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جو کفر ہے، لیکن اسے علم نہیں تھا، تو اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جاتا، بشرطیکہ وہ مسلمان ہو اور اس کا ایمان صحیح ہو۔ تاہم، اسے توبہ کرنی چاہیے اور اپنے عقیدے کی اصلاح کرنی چاہیے۔

پچھلی عبادات کا حکم

آپ کی پچھلی عبادات اور دعائیں اس وقت تک معتبر ہیں جب تک آپ مسلمان تھے اور آپ نے کفر کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔ چونکہ آپ نے جہالت کی وجہ سے یہ بات کہی، اور آپ کا ایمان پہلے سے تھا، اس لیے آپ کی عبادات ضائع نہیں ہوں گی۔ تاہم، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ آپ کا عقیدہ صحیح ہے، آپ کو توبہ کرنی چاہیے اور اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔

توبہ کا طریقہ

توبہ کرنے کے لیے آپ درج ذیل کام کریں:

  • دل سے اس بات پر نادم ہوں کہ آپ نے یہ کہا۔
  • فوراً اس سے رجوع کریں اور اللہ سے معافی مانگیں۔
  • آئندہ ایسی بات نہ کہنے کا عزم کریں۔
  • اپنے عقیدے کی اصلاح کریں اور اللہ کے بارے میں صحیح عقیدہ رکھیں۔

نتیجہ

آپ پر اس بات کا مؤاخذہ نہیں ہوگا کیونکہ آپ نے جہالت کی وجہ سے یہ کہا تھا، اور آپ کی پچھلی عبادات معتبر ہیں۔ تاہم، آپ کو توبہ کرنی چاہیے اور اپنے عقیدے کو مضبوط کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو مزید کسی مسئلے کا سامنا ہو تو کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔

حوالہ جات

  • قرآن مجید: سورہ حم السجدہ، آیت 46
  • صحیح بخاری: کتاب الایمان
  • فتاویٰ ہندیہ: کتاب الکراہیہ

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.