سوال:
اسکول میں مفتی صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں میری 8 سالہ بیٹی کیتھولک اسکول جاتی ہے وہ کرسمس مناتے ہیں اور ہر ہفتے میس کرتے ہیں میں نہیں چاہتی کہ وہ اس اسکول میں جائے ایک بار میں اپنے شوہر سے بات کر رہی تھی میں اسے گانے یا کرسمس پلے کرنے نہیں بھیجنا چاہتی تھی اس نے کہا کہ عیسائی اسکول والے یسوع کو خدا کا بیٹا نہیں سمجھتے وہ بیٹے کو مختلف طریقے سے کہہ رہے ہیں اور اس نے کہا کہ اسے جانے دو اگر یہ گناہ ہے تو اس پر گناہ ہوگا۔ گانے میں وہ چھوٹے خداوند یسوع گاتے ہیں شاید دوسری چیزیں بھی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں کیونکہ وہ کام پر جاتا ہے اور میں اسے اسکول چھوڑتی اور لیتی ہوں۔ مسلم اسکول آدھے گھنٹے کی دوری پر ہے۔ کچھ اور قریب والے مسلم اسکول نہیں ہیں وہ سکھاتے ہیں کہ مرد مرد سے شادی کر سکتا ہے اور لڑکی لڑکی سے شادی کر سکیگی لیکن وہ کیتھولک اسکول نہیں ہیں اور کیا مجھے اپنے شوہر سے دوبارہ بات کرنی چاہیے یا نہیں۔ اور میرے شوہر نے کہا کہ اسے جانے دو اگر یہ گناہ ہے تو اس پر گناہ ہوگا۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے۔ ایک مسلمان بچی کا کیتھولک اسکول میں پڑھنا، جہاں کرسمس منایا جاتا ہے اور مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں، یقیناً ایک سنگین مسئلہ ہے۔ آئیے اسے شریعت کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔
کیتھولک اسکول میں بچی کو بھیجنے کا حکم
مسلمان بچوں کو ایسے اسکول میں بھیجنا جہاں وہ کفر و شرک کے عقائد سیکھیں یا ان میں شرکت کریں، جائز نہیں ہے۔ کرسمس کے گانے گانا، چرچ کی رسومات میں شامل ہونا، اور "لٹل لارڈ جیسس” جیسے گیت گانا، سب ایسے اعمال ہیں جو توحید کے خلاف ہیں اور بچے کے عقیدے کو خراب کر سکتے ہیں۔
آپ کا فرض ہے کہ اپنی بیٹی کو ایسے ماحول سے بچائیں۔ اگر قریب میں کوئی مسلم اسکول نہ ہو تو آدھے گھنٹے کی دوری پر مسلم اسکول موجود ہے، تو اسے وہاں بھیجنا چاہیے، چاہے تھوڑی دوری ہو۔
شوہر کے اعتراض کا جواب
آپ کے شوہر کا یہ کہنا کہ "عیسائی یسوع کو خدا کا بیٹا نہیں مانتے” درست نہیں۔ عیسائی عقیدے کے مطابق یسوع علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانا جاتا ہے، اور کرسمس اسی عقیدے کا جشن ہے۔ اس لیے اس میں شرکت کرنا مسلمان کے لیے حرام ہے۔
شوہر کا یہ کہنا کہ "اگر گناہ ہے تو میرے ذمے” بھی درست نہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، اور آپ پر بھی اپنی بیٹی کی دینی تربیت کی ذمہ داری ہے۔ آپ خاموش نہیں رہ سکتیں۔
شوہر سے دوبارہ بات کرنے کا طریقہ
آپ کو شوہر سے نرمی اور حکمت سے بات کرنی چاہیے۔ انہیں سمجھائیں کہ یہ صرف آپ کی بیٹی کا دنیاوی تعلیم کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے ایمان اور آخرت کا مسئلہ ہے۔ اگر ممکن ہو تو کسی عالم یا مفتی سے مل کر بات کریں تاکہ وہ شوہر کو شرعی حیثیت سمجھا سکیں۔
متبادل اسکول کے بارے میں
آپ نے ذکر کیا کہ قریب میں کچھ اسکول ہیں جو کیتھولک نہیں لیکن وہ ہم جنس پرستی کی تعلیم دیتے ہیں۔ ایسے اسکول بھی مسلمان بچوں کے لیے مناسب نہیں، کیونکہ وہ اسلامی اخلاقیات کے خلاف ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ مسلم اسکول کا انتخاب کریں، چاہے وہ تھوڑا دور ہو۔
خلاصہ
آپ اپنی بیٹی کو کیتھولک اسکول سے نکال کر مسلم اسکول میں داخل کروائیں۔ شوہر سے دوبارہ بات کریں اور انہیں شرعی دلائل سے سمجھائیں۔ اگر وہ نہ مانیں تو کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ الکافرون، سورۃ الإخلاص
- صحیح البخاری: کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر
- فتاویٰ ہندیہ: کتاب الکراہیة، الفصل العاشر في مشارکة الکفار في أعیادهم
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ