Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

بچی کو کیتھولک اسکول بھیجنے کا حکم اور شوہر سے بات کرنے کا طریقہ

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

اسکول میں مفتی صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں میری 8 سالہ بیٹی کیتھولک اسکول جاتی ہے وہ کرسمس مناتے ہیں اور ہر ہفتے میس کرتے ہیں میں نہیں چاہتی کہ وہ اس اسکول میں جائے ایک بار میں اپنے شوہر سے بات کر رہی تھی میں اسے گانے یا کرسمس پلے کرنے نہیں بھیجنا چاہتی تھی اس نے کہا کہ عیسائی اسکول والے یسوع کو خدا کا بیٹا نہیں سمجھتے وہ بیٹے کو مختلف طریقے سے کہہ رہے ہیں اور اس نے کہا کہ اسے جانے دو اگر یہ گناہ ہے تو اس پر گناہ ہوگا۔ گانے میں وہ چھوٹے خداوند یسوع گاتے ہیں شاید دوسری چیزیں بھی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں کیونکہ وہ کام پر جاتا ہے اور میں اسے اسکول چھوڑتی اور لیتی ہوں۔ مسلم اسکول آدھے گھنٹے کی دوری پر ہے۔ کچھ اور قریب والے مسلم اسکول نہیں ہیں وہ سکھاتے ہیں کہ مرد مرد سے شادی کر سکتا ہے اور لڑکی لڑکی سے شادی کر سکیگی لیکن وہ کیتھولک اسکول نہیں ہیں اور کیا مجھے اپنے شوہر سے دوبارہ بات کرنی چاہیے یا نہیں۔ اور میرے شوہر نے کہا کہ اسے جانے دو اگر یہ گناہ ہے تو اس پر گناہ ہوگا۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے۔ ایک مسلمان بچی کا کیتھولک اسکول میں پڑھنا، جہاں کرسمس منایا جاتا ہے اور مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں، یقیناً ایک سنگین مسئلہ ہے۔ آئیے اسے شریعت کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔

کیتھولک اسکول میں بچی کو بھیجنے کا حکم

مسلمان بچوں کو ایسے اسکول میں بھیجنا جہاں وہ کفر و شرک کے عقائد سیکھیں یا ان میں شرکت کریں، جائز نہیں ہے۔ کرسمس کے گانے گانا، چرچ کی رسومات میں شامل ہونا، اور "لٹل لارڈ جیسس” جیسے گیت گانا، سب ایسے اعمال ہیں جو توحید کے خلاف ہیں اور بچے کے عقیدے کو خراب کر سکتے ہیں۔

آپ کا فرض ہے کہ اپنی بیٹی کو ایسے ماحول سے بچائیں۔ اگر قریب میں کوئی مسلم اسکول نہ ہو تو آدھے گھنٹے کی دوری پر مسلم اسکول موجود ہے، تو اسے وہاں بھیجنا چاہیے، چاہے تھوڑی دوری ہو۔

شوہر کے اعتراض کا جواب

آپ کے شوہر کا یہ کہنا کہ "عیسائی یسوع کو خدا کا بیٹا نہیں مانتے” درست نہیں۔ عیسائی عقیدے کے مطابق یسوع علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانا جاتا ہے، اور کرسمس اسی عقیدے کا جشن ہے۔ اس لیے اس میں شرکت کرنا مسلمان کے لیے حرام ہے۔

شوہر کا یہ کہنا کہ "اگر گناہ ہے تو میرے ذمے” بھی درست نہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، اور آپ پر بھی اپنی بیٹی کی دینی تربیت کی ذمہ داری ہے۔ آپ خاموش نہیں رہ سکتیں۔

شوہر سے دوبارہ بات کرنے کا طریقہ

آپ کو شوہر سے نرمی اور حکمت سے بات کرنی چاہیے۔ انہیں سمجھائیں کہ یہ صرف آپ کی بیٹی کا دنیاوی تعلیم کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے ایمان اور آخرت کا مسئلہ ہے۔ اگر ممکن ہو تو کسی عالم یا مفتی سے مل کر بات کریں تاکہ وہ شوہر کو شرعی حیثیت سمجھا سکیں۔

متبادل اسکول کے بارے میں

آپ نے ذکر کیا کہ قریب میں کچھ اسکول ہیں جو کیتھولک نہیں لیکن وہ ہم جنس پرستی کی تعلیم دیتے ہیں۔ ایسے اسکول بھی مسلمان بچوں کے لیے مناسب نہیں، کیونکہ وہ اسلامی اخلاقیات کے خلاف ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ مسلم اسکول کا انتخاب کریں، چاہے وہ تھوڑا دور ہو۔

خلاصہ

آپ اپنی بیٹی کو کیتھولک اسکول سے نکال کر مسلم اسکول میں داخل کروائیں۔ شوہر سے دوبارہ بات کریں اور انہیں شرعی دلائل سے سمجھائیں۔ اگر وہ نہ مانیں تو کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ الکافرون، سورۃ الإخلاص
  • صحیح البخاری: کتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر
  • فتاویٰ ہندیہ: کتاب الکراہیة، الفصل العاشر في مشارکة الکفار في أعیادهم

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.