Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

کتاب ڈیزائن کرتے وقت "میجک” کے لفظ کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

السلام علیکم۔
میں نے ایک ویب سائٹ پر موجود پی سی ورژن ایڈیٹنگ ٹول استعمال کیا اور پچھلے چند ہفتوں میں درجنوں گھنٹے لگا کر اپنی کتاب ڈیزائن کی۔ اس کتاب میں کوئی حرام مواد موجود نہیں ہے اور نہ ہی جانداروں کی تصاویر شامل ہیں۔ میں نے فائل ڈاؤن لوڈ کر لی۔

جب فائل پی سی ورژن سے ڈاؤن لوڈ ہو رہی تھی تو صرف یہ لکھا آیا:
“ہم آپ کا ڈیزائن تیار کر رہے ہیں”۔

لیکن جب میں نے اسی ایڈیٹنگ ٹول کا موبائل ایپ ورژن استعمال کیا تو فائل ڈاؤن لوڈ کرتے وقت اسی جملے کے ساتھ ایک اضافی تبصرہ بھی آیا جس میں کچھ اس طرح لکھا تھا:
“Let magic happen” (یعنی: جادو کو ہونے دیں)۔

اصل بات یہ ہے کہ موبائل ایپ میں اگر میں فائل کو براہِ راست اپنی فائلز والی اسکرین سے (بغیر فائل کے اندر داخل ہوئے) ڈاؤن لوڈ کروں تو یہ جملہ نہیں آتا، لیکن اگر میں فائل کے اندر جا کر ڈاؤن لوڈ کروں تو یہی جملہ “let magic happen” ظاہر ہوتا ہے۔

آج کل مغربی معاشروں میں لفظ “magic” عام طور پر محض ایک محاورے یا تشبیہی انداز میں استعمال کیا جاتا ہے، حقیقی جادو کے معنی میں نہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی اس کتاب کو اپنے کام کے لیے استعمال کر سکتا ہوں اگر میں نے فائل پی سی ورژن کے ذریعے ڈاؤن لوڈ کی ہو، جس میں ڈاؤن لوڈ کے دوران ایسا کوئی جملہ (magic والا) ظاہر نہیں ہوا؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ آپ نے جو سوال پوچھا ہے، اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ کسی سافٹ ویئر یا ایپ میں "میجک” (جادو) کے لفظ کے استعمال سے کیا آپ کی کتاب ناپاک ہو جائے گی یا اسے استعمال کرنا جائز نہیں رہے گا۔

لفظ "میجک” کا استعمال اور اس کا شرعی حکم

اسلام میں جادو (سحر) حرام ہے اور اس سے بچنے کا حکم ہے۔ لیکن آج کل مغربی معاشروں میں لفظ "میجک” کو محاورے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، جیسے "جادوئی لمحہ” یا "جادو ہو گیا”، جس کا مطلب حقیقی جادو نہیں ہوتا بلکہ کسی خوبصورت یا حیرت انگیز چیز کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔

آپ کے معاملے میں، جب آپ نے پی سی ورژن سے فائل ڈاؤن لوڈ کی تو اس میں "میجک” کا کوئی ذکر نہیں تھا، صرف "ہم آپ کا ڈیزائن تیار کر رہے ہیں” کا پیغام تھا۔ موبائل ایپ میں یہ لفظ آیا، لیکن وہ بھی محض ایک تشبیہی انداز میں تھا، نہ کہ حقیقی جادو کی دعوت یا اس پر یقین رکھنے کی ترغیب۔

آپ کی کتاب کا حکم

چونکہ آپ نے کتاب کو پی سی ورژن سے ڈاؤن لوڈ کیا ہے، جہاں یہ لفظ استعمال نہیں ہوا، اور خود کتاب میں کوئی حرام مواد یا جانداروں کی تصاویر نہیں ہیں، لہٰذا آپ اس کتاب کو استعمال کر سکتے ہیں۔ البتہ اگر آپ کو دل میں کوئی شبہ ہو تو بہتر ہے کہ اسے استعمال نہ کریں یا کسی مستند عالم سے پوچھ لیں۔

احتیاط کا اصول

عام طور پر ایسی چیزیں جو محض محاورے کے طور پر استعمال ہوں اور ان کا تعلق شرک یا حرام سے نہ ہو، انہیں جائز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی لفظ یا عمل صراحتاً حرام ہو تو اس سے بچنا ضروری ہے۔ آپ کے معاملے میں "میجک” کا لفظ محض ایک تشبیہ ہے، اس لیے اسے حرام نہیں کہا جا سکتا۔

واللہ اعلم بالصواب۔

حوالہ جات

  • سورۃ البقرہ: 102 (جادو کی حرمت پر)
  • فتاویٰ شامی (کتاب الحدود، باب السحر)

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.