سوال:
السلام علیکم۔
میں نے ایک ویب سائٹ پر موجود پی سی ورژن ایڈیٹنگ ٹول استعمال کیا اور پچھلے چند ہفتوں میں درجنوں گھنٹے لگا کر اپنی کتاب ڈیزائن کی۔ اس کتاب میں کوئی حرام مواد موجود نہیں ہے اور نہ ہی جانداروں کی تصاویر شامل ہیں۔ میں نے فائل ڈاؤن لوڈ کر لی۔
جب فائل پی سی ورژن سے ڈاؤن لوڈ ہو رہی تھی تو صرف یہ لکھا آیا:
“ہم آپ کا ڈیزائن تیار کر رہے ہیں”۔
لیکن جب میں نے اسی ایڈیٹنگ ٹول کا موبائل ایپ ورژن استعمال کیا تو فائل ڈاؤن لوڈ کرتے وقت اسی جملے کے ساتھ ایک اضافی تبصرہ بھی آیا جس میں کچھ اس طرح لکھا تھا:
“Let magic happen” (یعنی: جادو کو ہونے دیں)۔
اصل بات یہ ہے کہ موبائل ایپ میں اگر میں فائل کو براہِ راست اپنی فائلز والی اسکرین سے (بغیر فائل کے اندر داخل ہوئے) ڈاؤن لوڈ کروں تو یہ جملہ نہیں آتا، لیکن اگر میں فائل کے اندر جا کر ڈاؤن لوڈ کروں تو یہی جملہ “let magic happen” ظاہر ہوتا ہے۔
آج کل مغربی معاشروں میں لفظ “magic” عام طور پر محض ایک محاورے یا تشبیہی انداز میں استعمال کیا جاتا ہے، حقیقی جادو کے معنی میں نہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی اس کتاب کو اپنے کام کے لیے استعمال کر سکتا ہوں اگر میں نے فائل پی سی ورژن کے ذریعے ڈاؤن لوڈ کی ہو، جس میں ڈاؤن لوڈ کے دوران ایسا کوئی جملہ (magic والا) ظاہر نہیں ہوا؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ آپ نے جو سوال پوچھا ہے، اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ کسی سافٹ ویئر یا ایپ میں "میجک” (جادو) کے لفظ کے استعمال سے کیا آپ کی کتاب ناپاک ہو جائے گی یا اسے استعمال کرنا جائز نہیں رہے گا۔
لفظ "میجک” کا استعمال اور اس کا شرعی حکم
اسلام میں جادو (سحر) حرام ہے اور اس سے بچنے کا حکم ہے۔ لیکن آج کل مغربی معاشروں میں لفظ "میجک” کو محاورے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، جیسے "جادوئی لمحہ” یا "جادو ہو گیا”، جس کا مطلب حقیقی جادو نہیں ہوتا بلکہ کسی خوبصورت یا حیرت انگیز چیز کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔
آپ کے معاملے میں، جب آپ نے پی سی ورژن سے فائل ڈاؤن لوڈ کی تو اس میں "میجک” کا کوئی ذکر نہیں تھا، صرف "ہم آپ کا ڈیزائن تیار کر رہے ہیں” کا پیغام تھا۔ موبائل ایپ میں یہ لفظ آیا، لیکن وہ بھی محض ایک تشبیہی انداز میں تھا، نہ کہ حقیقی جادو کی دعوت یا اس پر یقین رکھنے کی ترغیب۔
آپ کی کتاب کا حکم
چونکہ آپ نے کتاب کو پی سی ورژن سے ڈاؤن لوڈ کیا ہے، جہاں یہ لفظ استعمال نہیں ہوا، اور خود کتاب میں کوئی حرام مواد یا جانداروں کی تصاویر نہیں ہیں، لہٰذا آپ اس کتاب کو استعمال کر سکتے ہیں۔ البتہ اگر آپ کو دل میں کوئی شبہ ہو تو بہتر ہے کہ اسے استعمال نہ کریں یا کسی مستند عالم سے پوچھ لیں۔
احتیاط کا اصول
عام طور پر ایسی چیزیں جو محض محاورے کے طور پر استعمال ہوں اور ان کا تعلق شرک یا حرام سے نہ ہو، انہیں جائز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی لفظ یا عمل صراحتاً حرام ہو تو اس سے بچنا ضروری ہے۔ آپ کے معاملے میں "میجک” کا لفظ محض ایک تشبیہ ہے، اس لیے اسے حرام نہیں کہا جا سکتا۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات
- سورۃ البقرہ: 102 (جادو کی حرمت پر)
- فتاویٰ شامی (کتاب الحدود، باب السحر)
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ