Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

انڈونیشی پردہ (خمار) پہننے کا شرعی حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آج کل جو اندونیشی پردہ (Indonesian Khimar) عام ہو گیا ہے، کیا وہ حرام ہے یا نہیں؟ کیونکہ میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ اس پر جو تِندا / تہ بندی ہوتی ہے وہ باعثِ توجہ ہے، اس لیے یہ صحیح نہیں۔
لیکن اس کے باوجود یہ خمار بہت لمبا، ڈھانپنے والا، کشادہ ہے اور جسم کی بناوٹ ظاہر نہیں ہوتی۔
کیا یہ خمار پہننا شرعاً جائز ہے؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

انڈونیشی خمار (Indonesian Khimar) ایک لمبا، کشادہ اور ڈھیلا ڈھالا پردہ ہے جو سر اور گردن کو ڈھانپتا ہے اور سینے تک لٹکتا ہے۔ آج کل یہ بہت عام ہو گیا ہے۔ اس کے بارے میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس پر موجود تہ بندی (pleats) باعثِ توجہ ہوتی ہے، اس لیے یہ ناجائز ہے۔ آئیے اس مسئلے کو شریعت کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔

شرعی پردہ کے اصول

اسلام میں عورت کے پردے کے لیے چند بنیادی شرائط ہیں:

  • پورے جسم کا ڈھانپنا (سوائے چہرے اور ہاتھوں کے، جیسا کہ راجح مسلک ہے)
  • کپڑا اتنا موٹا ہو کہ جسم کی رنگت یا بناوٹ ظاہر نہ ہو
  • کپڑا ڈھیلا ڈھالا ہو، تنگ نہ ہو کہ جسم کے اعضاء کی شکل نمایاں ہو
  • کپڑا اپنی طرف توجہ مبذول نہ کرائے، یعنی فیشن یا نمائش کا ذریعہ نہ ہو

انڈونیشی خمار کی تہ بندی (pleats) کا حکم

انڈونیشی خمار میں تہ بندی (pleats) ہوتی ہے جو اسے جھالر دار اور خوبصورت بناتی ہے۔ اس بارے میں علماء کے مختلف موقف ہیں:

  • بعض علماء کے نزدیک اگر تہ بندی اتنی نمایاں ہو کہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچے اور یہ فیشن کا حصہ بن جائے تو یہ ناجائز ہے۔
  • دوسرے علماء کہتے ہیں کہ اگر خمار لمبا، ڈھیلا اور جسم کی بناوٹ چھپانے والا ہو تو تہ بندی کی وجہ سے وہ ناجائز نہیں ہو جاتا، بشرطیکہ یہ بے حیائی یا نمائش کا ذریعہ نہ ہو۔

راجح بات یہ ہے کہ اگر خمار میں تہ بندی صرف معمولی ہو اور اس کا مقصد زیبائش نہ ہو بلکہ یہ خمار کی ساخت کا حصہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر تہ بندی بہت نمایاں ہو اور اسے فیشن کے طور پر پہنا جائے تو احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے گریز کیا جائے۔

خلاصہ

انڈونیشی خمار اگر درج ذیل شرائط پر پورا اترے تو اسے پہننا جائز ہے:

  • لمبا اور کشادہ ہو، جسم کی بناوٹ ظاہر نہ کرے
  • اتنا موٹا ہو کہ رنگت نہ جھلکے
  • تہ بندی معمولی ہو اور نمائش کا ذریعہ نہ ہو
  • عورت اسے فیشن یا خودنمائی کے لیے نہ پہنے بلکہ پردے کی نیت سے پہنے

اگر یہ شرائط پوری ہوں تو انڈونیشی خمار پہننا جائز ہے۔ ورنہ احتیاط اسی میں ہے کہ سادہ اور غیر نمایاں پردہ استعمال کیا جائے۔

نوٹ: یہ ایک عمومی جواب ہے، تفصیلی مسئلہ کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔

حوالہ جات

  • القرآن: سورۃ النور (24:31) – وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ
  • القرآن: سورۃ الأحزاب (33:59) – يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ
  • صحیح مسلم: حدیث نمبر 2128 – "صنفان من أهل النار لم أرهما… نساء كاسيات عاريات مميلات مائلات…”

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.