سوال:
میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آج کل جو اندونیشی پردہ (Indonesian Khimar) عام ہو گیا ہے، کیا وہ حرام ہے یا نہیں؟ کیونکہ میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ اس پر جو تِندا / تہ بندی ہوتی ہے وہ باعثِ توجہ ہے، اس لیے یہ صحیح نہیں۔
لیکن اس کے باوجود یہ خمار بہت لمبا، ڈھانپنے والا، کشادہ ہے اور جسم کی بناوٹ ظاہر نہیں ہوتی۔
کیا یہ خمار پہننا شرعاً جائز ہے؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
انڈونیشی خمار (Indonesian Khimar) ایک لمبا، کشادہ اور ڈھیلا ڈھالا پردہ ہے جو سر اور گردن کو ڈھانپتا ہے اور سینے تک لٹکتا ہے۔ آج کل یہ بہت عام ہو گیا ہے۔ اس کے بارے میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس پر موجود تہ بندی (pleats) باعثِ توجہ ہوتی ہے، اس لیے یہ ناجائز ہے۔ آئیے اس مسئلے کو شریعت کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔
شرعی پردہ کے اصول
اسلام میں عورت کے پردے کے لیے چند بنیادی شرائط ہیں:
- پورے جسم کا ڈھانپنا (سوائے چہرے اور ہاتھوں کے، جیسا کہ راجح مسلک ہے)
- کپڑا اتنا موٹا ہو کہ جسم کی رنگت یا بناوٹ ظاہر نہ ہو
- کپڑا ڈھیلا ڈھالا ہو، تنگ نہ ہو کہ جسم کے اعضاء کی شکل نمایاں ہو
- کپڑا اپنی طرف توجہ مبذول نہ کرائے، یعنی فیشن یا نمائش کا ذریعہ نہ ہو
انڈونیشی خمار کی تہ بندی (pleats) کا حکم
انڈونیشی خمار میں تہ بندی (pleats) ہوتی ہے جو اسے جھالر دار اور خوبصورت بناتی ہے۔ اس بارے میں علماء کے مختلف موقف ہیں:
- بعض علماء کے نزدیک اگر تہ بندی اتنی نمایاں ہو کہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچے اور یہ فیشن کا حصہ بن جائے تو یہ ناجائز ہے۔
- دوسرے علماء کہتے ہیں کہ اگر خمار لمبا، ڈھیلا اور جسم کی بناوٹ چھپانے والا ہو تو تہ بندی کی وجہ سے وہ ناجائز نہیں ہو جاتا، بشرطیکہ یہ بے حیائی یا نمائش کا ذریعہ نہ ہو۔
راجح بات یہ ہے کہ اگر خمار میں تہ بندی صرف معمولی ہو اور اس کا مقصد زیبائش نہ ہو بلکہ یہ خمار کی ساخت کا حصہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر تہ بندی بہت نمایاں ہو اور اسے فیشن کے طور پر پہنا جائے تو احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے گریز کیا جائے۔
خلاصہ
انڈونیشی خمار اگر درج ذیل شرائط پر پورا اترے تو اسے پہننا جائز ہے:
- لمبا اور کشادہ ہو، جسم کی بناوٹ ظاہر نہ کرے
- اتنا موٹا ہو کہ رنگت نہ جھلکے
- تہ بندی معمولی ہو اور نمائش کا ذریعہ نہ ہو
- عورت اسے فیشن یا خودنمائی کے لیے نہ پہنے بلکہ پردے کی نیت سے پہنے
اگر یہ شرائط پوری ہوں تو انڈونیشی خمار پہننا جائز ہے۔ ورنہ احتیاط اسی میں ہے کہ سادہ اور غیر نمایاں پردہ استعمال کیا جائے۔
نوٹ: یہ ایک عمومی جواب ہے، تفصیلی مسئلہ کے لیے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں۔
حوالہ جات
- القرآن: سورۃ النور (24:31) – وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ
- القرآن: سورۃ الأحزاب (33:59) – يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ
- صحیح مسلم: حدیث نمبر 2128 – "صنفان من أهل النار لم أرهما… نساء كاسيات عاريات مميلات مائلات…”
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ