سوال:
موضوع:* طلاق
*سوال (اردو ترجمہ):*
میں جیل میں تھا اور میری کچھ رقم تھی جو میں نے اپنے بڑے بھائی کی بیوی کے پاس امانت رکھی ہوئی تھی۔ لیکن میرے بھائی نے وہ رقم لے کر خرچ کر دی۔ میں نے اپنی بیوی سے بات کی اور میں نے قسم کھائی کہ *اگر وہ رقم کل تک واپس نہ آئی تو میں رہائی کے کاغذات پر دستخط نہیں کروں گا اور شام چلا جاؤں گا، اور میرے اوپر طلاق ہو جائے گی۔*
میری بیوی نہ تو رقم واپس لا سکی، اور نہ ہی میں نے رہائی کے کاغذات پر دستخط کیے۔ میں نے یہ *طلاق کی قسم طلاق دینے کی نیت سے نہیں کھائی تھی بلکہ صرف دھمکی کے طور پر* کہی تھی، اور وہ بھی جیل میں شدید ذہنی دباؤ کی حالت میں۔
*کیا میری یہ قسم طلاق کے وقوع کا سبب بنی ہے یا نہیں؟*
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ نے جیل میں ذہنی دباؤ کی حالت میں اپنی بیوی سے کہا کہ اگر رقم واپس نہ آئی تو میں رہائی کے کاغذات پر دستخط نہیں کروں گا اور شام چلا جاؤں گا، اور میرے اوپر طلاق ہو جائے گی۔ یہ جملہ طلاق کی قسم (طلاق کی شرط) کے طور پر بولا گیا تھا، نہ کہ طلاق دینے کی نیت سے۔
طلاق کی قسم کا حکم
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ "اگر فلاں کام نہ ہوا تو مجھ پر طلاق ہے” یا "میری بیوی طلاق”، تو اسے "طلاق معلق” یا "طلاق کی قسم” کہا جاتا ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ جب شرط پوری ہو جائے (یعنی مذکورہ کام نہ ہو) تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، خواہ نیت طلاق کی نہ ہو، بلکہ صرف دھمکی یا تاکید کے لیے کہا گیا ہو۔
آپ کے معاملے کا تجزیہ
آپ نے کہا: "اگر رقم کل تک واپس نہ آئی تو… میرے اوپر طلاق ہو جائے گی۔” یہ جملہ شرطیہ ہے، اور شرط (رقم کا واپس نہ آنا) پوری ہو چکی ہے۔ لہٰذا جمہور فقہاء کے نزدیک طلاق واقع ہو گئی ہے، چاہے آپ کی نیت طلاق کی نہ تھی۔
رائے اور احتیاط
تاہم، بعض فقہاء اس بات کو مدنظر رکھتے ہیں کہ اگر قسم صرف دھمکی کے لیے ہو اور طلاق کی نیت نہ ہو، تو اسے طلاق نہیں مانا جاتا، بلکہ اس پر کفارہ لازم آتا ہے۔ لیکن یہ راجح مسلک کے خلاف ہے۔
بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مستند مفتی سے رجوع کریں اور صورت حال کی مکمل تفصیل بتائیں۔ اگر طلاق واقع ہونے کا قوی امکان ہو تو آپ کو اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرنی ہوگی، اور اگر مفتی کفارہ کا حکم دیں تو اس پر عمل کریں۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 229-230
- صحیح البخاری: کتاب الطلاق
- فتاویٰ ہندیہ: کتاب الطلاق، باب الطلاق بالشرط
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ