سوال:
موضوع: ازدواجی اختلافات اور علیحدگی سے متعلق شرعی رہنمائی
سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں شادی شدہ ہوں تقریباً ایک سال سے، اور اس وقت چار ماہ کی حاملہ ہوں۔ شادی کے بعد سے ہی معمولی باتوں پر اکثر جھگڑے ہوتے رہے۔
پہلے میں بھارت میں تھی، لیکن جون میں شوہر کے پاس متحدہ عرب امارات آگئی۔ یہاں بھی ہر ایک یا دو ہفتے بعد جھگڑا ہو جاتا ہے۔ میرا شوہر انسان کے طور پر برا نہیں، مگر شوہر کے طور پر وہ میری جذباتی کیفیت کا خیال نہیں رکھتا۔ وہ مجھے اکثر گالیاں دیتا ہے اور کبھی کبھی مزاح میں دوسری شادی کی بات کرتا ہے۔
اس کے والدین بھی نہیں چاہتے کہ میں ان کے ساتھ رہوں، تاکہ ان کا بیٹا اپنے مالی وسائل انہیں دے سکے۔ انہوں نے میرے بارے میں میرے گھر والوں کو بہت سی جھوٹی باتیں بتائی ہیں۔
ہماری شادی ارینج تھی، اور میری والدہ نے اس کی فیملی کے کچھ قریبی رشتہ داروں کو پورا معاملہ بتایا۔
اب میں اس رشتے میں مزید نہیں رہنا چاہتی۔ میرا شوہر کہتا ہے کہ وہ مجھ سے علیحدگی نہیں چاہتا، بلکہ مجھ سے کہتا ہے کہ میں اپنی ماں میں سے کسی ایک کو چن لوں — یا اس کے ساتھ رہوں یا اپنی والدہ سے تعلق ختم کر لوں۔
میں ذہنی اور جذباتی طور پر بہت پریشان ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ وہ مجھ سے اور اپنے ہونے والے بچے سے محبت کرتا ہے، مگر میں اب اس رشتے میں مزید رہنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ میری حد ختم ہو چکی ہے۔
سوال:
ایسی حالت میں جب شوہر بدزبانی کرتا ہو، دل آزاری کرے، اور میرا اس کے ساتھ رہنا اب ممکن نہ ہو، تو اسلامی شریعت کے مطابق میں کیا کر سکتی ہوں؟
کیا میں خلع لے سکتی ہوں؟
ایسی صورت میں حمل کے دوران علیحدگی یا خلع کا کیا شرعی حکم ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کی صورتِ حال بہت تکلیف دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور آپ کے لیے آسانی پیدا فرمائے۔ آپ کے سوال کا جواب شریعت کی روشنی میں درج ذیل ہے۔
شوہر کی بدزبانی اور دل آزاری کا شرعی حکم
شریعتِ مطہرہ میں شوہر کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء: 19) یعنی ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ گالیاں دینا، طعنے دینا اور جذباتی اذیت پہنچانا شرعاً ناجائز اور گناہ ہے۔ اگر شوہر اس سے باز نہ آئے تو بیوی کے لیے حق ہے کہ وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرے۔
خلع کا شرعی حکم
خلع کا مطلب ہے کہ بیوی شوہر سے علیحدگی اختیار کرے اور اس کے بدلے میں کچھ معاوضہ (جیسے مہر واپس کرنا) دے۔ اگر بیوی کو شوہر کی بداخلاقی، بدزبانی، یا جذباتی اذیت کی وجہ سے نکاح پر قائم رہنا مشکل ہو جائے تو وہ خلع لے سکتی ہے۔ قرآن میں ہے: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ (البقرہ: 229) یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ بیوی کچھ دے کر چھوٹ جائے۔
خلع کے شرائط
- بیوی کا شوہر سے سخت نفرت یا ناگواری ہو۔
- شوہر کی بداخلاقی یا ظلم کی وجہ سے نکاح جاری رکھنا مشکل ہو۔
- بیوی شوہر کو کچھ معاوضہ (جیسے مہر یا اس کے علاوہ) دے۔
- شوہر کی رضامندی ضروری ہے، لیکن اگر شوہر نہ مانے تو بیوی عدالت سے خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
حمل کے دوران خلع کا حکم
حمل کے دوران خلع جائز ہے۔ حمل کی وجہ سے خلع پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ البتہ، اگر خلع ہو جائے تو عدت (تین ماہواری یا حمل کی صورت میں وضع حمل) پوری کرنی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (الطلاق: 4) یعنی حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔
عملی اقدامات
- مصالحت کی کوشش: سب سے پہلے دونوں خاندانوں کے معزز افراد یا کسی عالم دین کے ذریعے صلح کرانے کی کوشش کریں۔
- حقوق کا مطالبہ: اگر شوہر بدزبانی کرتا ہے تو اسے سمجھائیں کہ یہ شرعاً جائز نہیں۔
- خلع کا مطالبہ: اگر صلح ممکن نہ ہو اور آپ اس رشتے میں مزید نہیں رہنا چاہتیں تو آپ خلع لے سکتی ہیں۔ اس کے لیے شوہر سے کہیں کہ وہ آپ کو خلع دے، ورنہ آپ اسلامی عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں۔
- عدالت سے رجوع: اگر شوہر خلع دینے سے انکار کرے تو آپ کسی اسلامی عدالت یا دارالافتاء سے رجوع کر سکتی ہیں۔
نصیحت
آپ کے شوہر کا یہ کہنا کہ آپ اپنی ماں اور اس کے درمیان کسی ایک کو چنیں، شرعاً درست نہیں۔ اسلام میں ماں کا بہت بڑا مقام ہے اور بیوی کو اپنے والدین سے تعلق رکھنے کا پورا حق ہے۔ شوہر کو چاہیے کہ وہ آپ کے جذبات کا خیال رکھے اور آپ کو اپنے خاندان سے ملنے سے نہ روکے۔
آخر میں، یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس میں کسی مستند مفتی یا عالم دین سے براہ راست رجوع کرنا بہتر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صبر اور آسانی عطا فرمائے۔
حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورۃ النساء (19)، سورۃ البقرہ (229)، سورۃ الطلاق (4)
- صحیح البخاری، کتاب الطلاق
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب الطلاق
- بدائع الصنائع، کتاب الطلاق
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ