سوال:
میں بیوی کے ساتھ پیچھے کی پوزیشن سے اندام نہانی میں مباشرت کرنا چاہتا ہوں۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
شریعتِ مطہرہ میں میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلقات کی اجازت ہے، لیکن اس کے کچھ آداب اور حدود ہیں۔ آپ نے جو پوزیشن (پیچھے سے اندام نہانی میں جماع) بتائی ہے، اس کا شرعی حکم درج ذیل ہے۔
جائز طریقہ
اگر جماع اندام نہانی (vagina) میں ہو رہا ہو، خواہ وہ کسی بھی پوزیشن سے ہو (سامنے، پیچھے، دائیں، بائیں)، تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ شوہر اور بیوی دونوں راضی ہوں اور جماع میں کوئی تکلیف یا نقصان نہ ہو۔
ناجائز طریقہ
اگر جماع مقعد (پاخانے کی جگہ) میں کیا جائے، تو یہ حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ اس لیے پیچھے کی پوزیشن میں جماع کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ جماع صرف اندام نہانی میں ہو، مقعد میں نہ ہو۔
خلاصہ
پیچھے کی پوزیشن سے اندام نہانی میں جماع کرنا جائز ہے، بشرطیکہ بیوی راضی ہو اور جماع میں کوئی شرعی ممانعت (جیسے حیض یا نفاس) نہ ہو۔ تاہم، بہتر یہ ہے کہ میاں بیوی آپس میں محبت اور رضامندی سے کوئی بھی جائز طریقہ اختیار کریں۔
حوالہ جات
- قرآن مجید: سورہ البقرہ، آیت 223 (تمہارے لیے تمہاری بیویاں کھیتی ہیں، جہاں سے چاہو اپنی کھیتی میں آؤ)
- صحیح بخاری: حدیث نمبر 4528 (جماع کے مختلف طریقوں کی اجازت)
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ