سوال:
اگر میں اپنی بیوی کو واٹس ایپ پر یہ پیغام لکھوں کہ
“ہمارے لیے بہتر ہے کہ جلد از جلد طلاق ہو جائے، جتنی جلدی ہو دونوں کے لیے بہتر ہے”
تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
یا نکاح بدستور برقرار رہتا ہے اور طلاق نہیں ہوتی؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
واٹس ایپ یا کسی بھی تحریری ذریعے سے طلاق کا پیغام بھیجنے کا حکم اس بات پر منحصر ہے کہ پیغام میں طلاق دینے کے صریح اور واضح الفاظ استعمال ہوئے ہیں یا نہیں۔ آپ نے جو جملہ لکھا ہے: "ہمارے لیے بہتر ہے کہ جلد از جلد طلاق ہو جائے، جتنی جلدی ہو دونوں کے لیے بہتر ہے”، اس میں طلاق کا لفظ موجود ہے، لیکن یہ صریح اور براہ راست طلاق دینے کے الفاظ نہیں ہے۔
تحریری طلاق کا حکم
فقہ حنفی کے مطابق، اگر کوئی شخص تحریر کے ذریعے طلاق دیتا ہے اور اس میں صریح الفاظ (جیسے "میں نے تجھے طلاق دی” یا "تجھ پر طلاق ہے” یا "تو مطلقہ ہے” یا اس جیسے طلاق دینے والے الفاظ) استعمال کرتا ہے، تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، خواہ نیت ہو یا نہ ہو۔ لیکن اگر تحریر میں طلاق کا لفظ تو ہو لیکن طلاق دینے والے الفاظ نہ ہو جس سے یہ واضح ہوسکے کہ اس نے طلاق دی ہے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
آپ کے پیغام کا تجزیہ
آپ نے لکھا: "ہمارے لیے بہتر ہے کہ جلد از جلد طلاق ہو جائے”۔ یہ جملہ طلاق کا حکم نہیں بلکہ مشورہ یا خواہش ہے۔ اس میں طلاق کا لفظ موجود ہے، لیکن یہ "طلاق دینا” نہیں ہے بلکہ صرف ایک دھمکی ہے۔ اس لیے اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی، جب تک کہ آپ طلاق دینے والے الفاظ استعمال نہ کرلیں۔
خلاصہ
آپ کے مذکورہ پیغام سے طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح بدستور برقرار ہے۔ تاہم، اگر آپ کی نیت طلاق دینے کی تھی، یا آپ نے الفاظ کچھ اور استعمال کیے تھے تو پھر طلاق واقع ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اگر ایسی کوئی صورتحال ہو تو واضح طور پر بتائیں تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاسکے۔
حوالہ جات
- الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب السادس في الطلاق بالكتابة
- رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، باب الطلاق بالكتابة
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ