Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

سوال:

اگر میں اپنی بیوی کو واٹس ایپ پر یہ پیغام لکھوں کہ
“ہمارے لیے بہتر ہے کہ جلد از جلد طلاق ہو جائے، جتنی جلدی ہو دونوں کے لیے بہتر ہے”
تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
یا نکاح بدستور برقرار رہتا ہے اور طلاق نہیں ہوتی؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

واٹس ایپ یا کسی بھی تحریری ذریعے سے طلاق کا پیغام بھیجنے کا حکم اس بات پر منحصر ہے کہ پیغام میں طلاق دینے کے صریح اور واضح الفاظ استعمال ہوئے ہیں یا نہیں۔ آپ نے جو جملہ لکھا ہے: "ہمارے لیے بہتر ہے کہ جلد از جلد طلاق ہو جائے، جتنی جلدی ہو دونوں کے لیے بہتر ہے”، اس میں طلاق کا لفظ موجود ہے، لیکن یہ صریح اور براہ راست طلاق دینے کے الفاظ نہیں ہے۔

تحریری طلاق کا حکم

فقہ حنفی کے مطابق، اگر کوئی شخص تحریر کے ذریعے طلاق دیتا ہے اور اس میں صریح الفاظ (جیسے "میں نے تجھے طلاق دی” یا "تجھ پر طلاق ہے” یا "تو مطلقہ ہے” یا اس جیسے طلاق دینے والے الفاظ) استعمال کرتا ہے، تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، خواہ نیت ہو یا نہ ہو۔ لیکن اگر تحریر میں طلاق کا لفظ تو ہو لیکن طلاق دینے والے الفاظ نہ ہو جس سے یہ واضح ہوسکے کہ اس نے طلاق دی ہے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

آپ کے پیغام کا تجزیہ

آپ نے لکھا: "ہمارے لیے بہتر ہے کہ جلد از جلد طلاق ہو جائے”۔ یہ جملہ طلاق کا حکم نہیں بلکہ مشورہ یا خواہش ہے۔ اس میں طلاق کا لفظ موجود ہے، لیکن یہ "طلاق دینا” نہیں ہے بلکہ صرف ایک دھمکی ہے۔ اس لیے اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی، جب تک کہ آپ طلاق دینے والے الفاظ استعمال نہ کرلیں۔

خلاصہ

آپ کے مذکورہ پیغام سے طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح بدستور برقرار ہے۔ تاہم، اگر آپ کی نیت طلاق دینے کی تھی، یا آپ نے الفاظ کچھ اور استعمال کیے تھے تو پھر طلاق واقع ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اگر ایسی کوئی صورتحال ہو تو واضح طور پر بتائیں تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاسکے۔

حوالہ جات

  • الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب السادس في الطلاق بالكتابة
  • رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، باب الطلاق بالكتابة

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

اپریل 29, 2026
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
اپریل 29, 2026
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
اپریل 29, 2026
عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔
اپریل 29, 2026
اپریل 29, 2026
اپریل 29, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.