Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Read in English
اردو میں پڑھیں

کیا کسی خفیہ طریقے کو جادو کہنے سے وہ کام حرام ہوجاتا ہے؟

سوال

میں نے ایک ویب سائٹ پر موجود پی سی ورژن ایڈیٹنگ ٹول استعمال کیا اور پچھلے چند ہفتوں میں درجنوں گھنٹے لگا کر اپنی کتاب ڈیزائن کی۔ اس کتاب میں کوئی حرام مواد موجود نہیں ہے اور نہ ہی جانداروں کی تصاویر شامل ہیں۔ میں نے فائل ڈاؤن لوڈ کر لی۔جب فائل پی سی ورژن سے ڈاؤن لوڈ ہو رہی تھی تو صرف یہ لکھا آیا:"آپ کا ڈیزائن تیار ہورہا ہے۔”

لیکن جب میں نے اسی ایڈیٹنگ ٹول کا موبائل ایپ ورژن استعمال کیا تو فائل ڈاؤن لوڈ کرتے وقت اسی جملے کے ساتھ ایک اضافی تبصرہ بھی آیا جس میں کچھ اس طرح لکھا تھا:"Let magic happen” (یعنی: جادو کو ہونے دیں)۔

 

اصل بات یہ ہے کہ موبائل ایپ میں اگر میں فائل کو براہِ راست اپنی فائلز والی اسکرین سے (بغیر فائل کے اندر داخل ہوئے) ڈاؤن لوڈ کروں تو یہ جملہ نہیں آتا، لیکن اگر میں فائل کے اندر جا کر ڈاؤن لوڈ کروں تو یہی جملہ “let magic happen” ظاہر ہوتا ہے۔

 

آج کل مغربی معاشروں میں لفظ “magic” عام طور پر محض ایک محاورے یا تشبیہی انداز میں استعمال کیا جاتا ہے، حقیقی جادو کے معنی میں نہیں۔

 

میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی اس کتاب کو اپنے کام کے لیے استعمال کر سکتا ہوں اگر میں نے فائل پی سی ورژن کے ذریعے ڈاؤن لوڈ کی ہو، جس میں ڈاؤن لوڈ کے دوران ایسا کوئی جملہ (magic والا) ظاہر نہیں ہوا؟

جواب

مختصرًا جان لیں کہ:

 

  • جادو شرعاً ایک حرام عمل اور عقیدہ ہے، محض لفظ نہیں۔

  • جو “جادو” عرف میں بولا جاتا ہے وہ لغوی و مجازی معنی میں ہوتا ہے۔

  • اس طرح کے محاوراتی لفظ سے کوئی شرعی قباحت لازم نہیں آتی۔

  • اس لیے آپ کی کتاب اور اس کا استعمال جائز اور درست ہے۔

جادو کسے کہتے ہیں؟

شریعت کی اصطلاح میں جادو (سِحر) اس عمل کو کہتے ہیں جس میں:

  • شیاطین یا جنات سے استعانت کی جائے،
  • خاص منتر، عملیات یا غیر شرعی طریقوں سے
  • لوگوں کی عقل، نظر، جسم یا حالات پر اثر ڈالا جائے،
  • اور اس کو غیر معمولی اثرات کا سبب سمجھا جائے۔

جادو کیوں حرام ہے؟

جادو اس لیے حرام ہے کہ:

  • اس میں اکثر شیاطین سے تعلق اور ان کی اطاعت پائی جاتی ہے،

  • یہ اللہ تعالیٰ پر توکل کے خلاف ہے،

  • اس میں لوگوں کو نقصان پہنچانا، دھوکہ دینا اور گمراہ کرنا شامل ہوتا ہے،

  • اور بہت سی صورتوں میں یہ کفر تک لے جاتا ہے۔

عرف میں جو “جادو” بولا جاتا ہے اس سے کیا مراد ہے؟

آج کے عرف (عام بول چال) میں، خاص طور پر مغربی معاشروں اور ٹیکنالوجی کے ماحول میں،
لفظ “جادو / magic” اکثر اپنے حقیقی شرعی معنی میں نہیں بولا جاتا، بلکہ اس سے مراد ہوتی ہے:

  • کوئی عجیب یا غیر معمولی چیز

  • کوئی اچھنبھے میں ڈال دینے والا کام

  • کوئی تیز، مؤثر یا حیرت انگیز عمل

  • یا محض تعریفی انداز (figure of speech)

 

یہ صرف لغوی اور مجازی استعمال ہے،
اس کا نہ حقیقی جادوگری سے کوئی تعلق ہوتا ہے،
نہ شیاطین، عملیات یا غیر شرعی عقیدے سے۔

جب کوئی لفظ اپنے حقیقی معنی چھوڑ کر عرف میں مجازی معنی کے لیے مشہور ہو جائے، تو حکم بھی اسی عرف کے مطابق ہوتا ہے۔ سوائے چند صورتوں کے۔

“جادو” کا لفظ لکھا آنے کا شرعی حکم

آپ کے معاملے میں:

  • نہ کسی نے حقیقی جادو کیا۔

  • نہ اس پر یقین رکھا گیا،

  • نہ اس کا قصد یا نیت پائی گئی،

  • نہ اس کی تعلیم یا ترویج ہوئی۔

صرف ایک سافٹ ویئر کے اندر بطور محاورہ ایک جملہ لکھا آیا،جس سے مراد محض حیرت انگیز یا تیزرفتارعمل تھا۔

لہٰذا شرعاً کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فائل اس جگہ سے ڈاؤن لوڈ کی جائے جہاں وہ لفظ لکھا آتا ہو، یا اس جگہ سے ڈاؤن لوڈ کی جائے جہاں وہ لفظ لکھا ہوا بھی نہ ہو۔

کیونکہ شریعت نے حقیقت اور مقصد کا اعتبار کیا ہے، محض لفظ "جادو” کے لکھے ہونے یا نہ ہونے پر گناہ کا حکم نہیں لگایا۔

والله تعالى أعلم بالصواب

Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

اپریل 29, 2026
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
اپریل 29, 2026
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
اپریل 29, 2026
عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔
اپریل 29, 2026
اپریل 29, 2026
اپریل 29, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.