Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

خواتین کے درمیان ہم جنس تعلقات کا اسلامی حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

السلام علیکم۔ میں 24 سال کا طبی پیشہ ور ہوں اور ایک گہرے ذاتی اور الہیاتی معاملے پر وضاحت حاصل کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ بچپن سے ہی، میں نے خواتین کے لیے ایک مستقل اور فطری کشش کا تجربہ کیا ہے۔ ایک سخت گھرانے میں پلے بڑھے جہاں انٹرنیٹ، ٹی وی یا میڈیا تک رسائی نہیں تھی، مجھے LGBTQ+ جیسے اصطلاحات کا علم نہیں تھا۔ معاشرتی اصولوں کے مطابق ڈھلنے اور اپنے جذبات کو مردوں کی طرف 'موڑنے' کی اپنی کوششوں کے باوجود، میری اندرونی رجحان وقت کے ساتھ صرف شدت اختیار کر گیا ہے۔ طبی/سائنسی سیاق و سباق: بطور طبی طالب علم، میں اسے سائنس کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جنسی رجحان اکثر حیاتیاتی عوامل سے جڑا ہوتا ہے، جیسے امیگڈالا کی ساخت اور پیدائش سے پہلے ہارمونل نمائش (مثلاً، رحم میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح)۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے، کسی بھی آبادی کا 1-4% غیر ہم جنس پرست رجحانات کا مظاہرہ کرتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ایک فطری حیاتیاتی تنوع ہے۔ نفسیاتی کشمکش: میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ان جذبات کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہوں، جسے میں اندرونی جہاد کی ایک شکل سمجھتا ہوں۔ میں نے 24 سال تک پاک دامن رہ کر اپنے ایمان پر کاربند رہا۔ میرا ماہر نفسیات، جو خود بھی مومن ہے، نے مجھے مشورہ دیا کہ اللہ نے مجھے اس طرح پیدا کیا ہے اور وہ اپنی مخلوق کا حتمی فیصلہ کرنے والا ہے۔ 'تبدیلی تھراپی' کا خیال نہ صرف سائنسی طور پر بے اعتبار ہے بلکہ گہرا صدمہ بھی دیتا ہے؛ میرے نزدیک، کسی مرد کے ساتھ تعلق میں مجبور کیے جانے کا خیال اسی طرح جارحانہ اور پریشان کن محسوس ہوتا ہے جیسے کسی کی خلاف ورزی ہو۔ رہنمائی کے لیے میرے سوالات: متنی ثبوت (نص): میں قرآن یا صحیح حدیث سے براہ راست ثبوت تلاش کر رہا ہوں جو خاص طور پر خواتین کے درمیان تعلقات (سحق) کو مخاطب کرتا ہے اور اسے ممنوع قرار دیتا ہے۔ چونکہ قرآن میں خواتین کے لیے خاص طور پر حضرت لوط (علیہ السلام) کی کہانی کا کوئی براہ راست مماثل نہیں ہے، کیا کوئی واضح نص ہے جو اسے حرام قرار دیتی ہے؟ رہائشی انتظامات: چونکہ کسی مرد سے شادی میرے لیے نفسیاتی اور جسمانی طور پر ناممکن ہے، کیا میرے لیے کسی مسلم خاتون ساتھی/ساتھی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا جائز ہے؟ فطرت بمقابلہ گناہ: اگر سائنس یہ بتاتی ہے کہ یہ ایک حیاتیاتی خصوصیت ہے جس کے ساتھ میں پیدا ہوا ہوں، تو اسلامی الہیات 'فطری تخلیق' اور 'گناہ کی رغبت' میں کیسے مطابقت پیدا کرتی ہے؟ میں اپنے خالق سے محبت کرتا ہوں اور نفسیاتی طور پر پائیدار زندگی گزارتے ہوئے اسلام کے دائرے میں رہنا چاہتا ہوں۔ میں ایک ایسے جواب کا درخواست کرتا ہوں جو انسانی نفسیات کی طبی حقائق اور ہمارے دین کی ہمدردانہ فطرت دونوں کو مدنظر رکھے۔ جزاک اللہ خیراً۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کا سوال بہت اہم اور حساس ہے۔ آپ نے اپنی نفسیاتی اور طبی کیفیت کو بڑی دیانتداری سے بیان کیا ہے۔ ہم آپ کے جذبات کو سمجھتے ہیں اور آپ کی دینی فکر کو سراہتے ہیں۔ ذیل میں آپ کے سوالات کے جوابات پیش کیے جاتے ہیں۔

خواتین کے درمیان تعلقات (سحق) کا حکم

قرآن مجید میں خواتین کے درمیان ہم جنس تعلقات کا براہ راست ذکر نہیں ہے، لیکن اس کے حرام ہونے پر علماء کا اجماع ہے۔ اس کی دلیل درج ذیل ہے:

  • قرآن میں اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے: وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا (سورہ اسراء: 32)۔ زنا کی تعریف میں ہر وہ جنسی عمل شامل ہے جو نکاح کے بغیر ہو، خواہ وہ مرد و عورت کے درمیان ہو یا ہم جنس کے درمیان۔
  • حدیث میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ» (سنن ابن ماجہ)۔ اگرچہ یہ حدیث مردوں کے درمیان تعلقات کے بارے میں ہے، لیکن علماء نے اس سے قیاس کیا ہے کہ خواتین کے درمیان بھی یہی حکم ہے، کیونکہ دونوں میں فحش اور فطرت سے انحراف پایا جاتا ہے۔
  • اسلام میں جنسی تعلق صرف نکاح کے ذریعے مرد اور عورت کے درمیان جائز ہے۔ خواتین کے درمیان کوئی بھی جنسی عمل حرام ہے۔

رہائشی انتظامات: کیا کسی مسلم خاتون کے ساتھ زندگی گزارنا جائز ہے؟

اگر آپ کسی خاتون کے ساتھ محض دوستی یا رہائش کا ارادہ رکھتی ہیں، بغیر کسی جنسی تعلق کے، تو یہ جائز ہو سکتا ہے، بشرطیکہ:

  • آپ دونوں کے درمیان کوئی جنسی تعلق نہ ہو۔
  • آپ اپنے گناہ میں مبتلا ہونے سے بچنے کے لیے احتیاط کریں۔
  • یہ رہائش کسی فتنے کا سبب نہ بنے۔

تاہم، اگر اس رہائش سے جنسی تعلق کا خطرہ ہو یا آپ دونوں کے درمیان محبت اور قربت بڑھے، تو یہ ناجائز ہو گا۔ بہتر یہ ہے کہ آپ کسی قابل اعتماد خاتون کے ساتھ رہیں، جیسے کوئی رشتہ دار یا محرم۔

فطرت بمقابلہ گناہ: حیاتیاتی رجحان اور اسلامی نقطہ نظر

اسلامی تعلیمات کے مطابق، انسان کی فطرت (طبیعت) میں اللہ نے کچھ چیزیں رکھی ہیں، لیکن ہر فطری جذبہ جائز نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، کسی چیز کو چرانے کی خواہش فطری ہو سکتی ہے، لیکن چوری حرام ہے۔ اسی طرح، ہم جنس کشش ایک فطری رجحان ہو سکتا ہے، لیکن اس پر عمل کرنا حرام ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے، اور ہر شخص کو اپنی خواہشات پر قابو پانے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن میں ہے: وَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ (سورہ ص: 26)۔ آپ کی یہ کشمکش ایک جہاد ہے، اور اللہ آپ کی نیت اور صبر کی قدر فرمائے گا۔

یاد رکھیں کہ گناہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب آپ اس رجحان پر عمل کریں۔ جب تک آپ اس سے بچتی ہیں، آپ گناہ گار نہیں ہیں۔

عملی مشورہ

  • اپنی نمازوں اور دعاؤں کو مضبوط کریں۔ اللہ سے مدد مانگیں۔
  • کسی مستند عالم یا مفتی سے مشورہ کریں جو آپ کی صورتحال کو سمجھ سکے۔
  • اپنے جذبات پر قابو پانے کے لیے روزے رکھیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
  • اگر ممکن ہو تو کسی ایسی خاتون سے نکاح کریں جس سے آپ کو سکون ملے، اگرچہ یہ مشکل ہو۔
  • اپنے آپ کو دینی علم اور نیک صحبت میں مصروف رکھیں۔

اللہ آپ کو صبر اور ہدایت عطا فرمائے۔ آمین۔

حوالہ جات

  • قرآن مجید: سورہ اسراء، آیت 32
  • سنن ابن ماجہ، کتاب الحدود، حدیث نمبر 2561
  • فتاویٰ ہندیہ، کتاب الحدود، باب حد الزنا
  • تفسیر ابن کثیر، سورہ الاعراف، آیت 80-84

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے ساتھ ناجائز تعلق اور حرمت مصاہرت کا حکم

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

خواتین کے درمیان ہم جنس تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے ساتھ ناجائز تعلق اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.