Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Language Block

This page is also available in Urdu language.

یہ صفحہ اردو میں بھی موجود ہے۔ زبان کی تبدیلی کے لیے نیچے بٹن دبائیں۔

Read in English اردو میں پڑھیں

نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔ 37 اسی طرح ایک اور فتویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے، اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو انکار کا حق ہے، اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بنا پر اسے قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے، لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔

سوال:

میں ایک ایسی صورتحال میں ہوں جہاں میں کسی کے لیے گہری محبت محسوس کرتی ہوں جس نے میرے ہاتھ کے لیے پیغام بھی بھیجا۔ لیکن میرے خاندان کو سخت اعتراض ہے، اور میرے والد نے پہلے ہی ایک بار اسے مسترد کر دیا ہے۔

ان کی تشویش بنیادی طور پر اس لیے ہے کہ وہ دو بچوں کے ساتھ طلاق یافتہ ہیں، مختلف نسل سے ہیں، اسلام میں واپس آئے ہیں، اور ان کے پاس رسمی ڈگری نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار شدت سے کیا ہے اور یہاں تک کہ مجھے ڈرا دیا ہے کہ اگر میں اس سلسلہ کو جاری رکھتی ہوں تو وہ مجھے اپنے سے لاتعلق کر دیں گے۔
میں رہنمائی چاہتی ہوں:

  1. اپنے خاندان کا احترام کرنے اور جو میں صحیح سمجھتی ہوں اس پر عمل کرنے کے درمیان تنازعہ کو کیسے نبٹایا جائے۔
  2. سخت خاندانی مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے حلال اور ذمہ دارانہ طریقے سے انتخاب کیسے کریں۔
  3. قرآن اور سنت سے کوئی نصیحت ایسی صورتحال میں جہاں خاندانی مخالفت شدید ہو اور ساتھی کے پس منظر کے بارے میں تشویش شامل ہو۔

میں کسی بھی مشورے یا اقدامات کی بہت زیادہ قدر کروں گی جو میں صبر، حکمت اور ایمان کے ساتھ اس معاملے کو سنبھالنے کے لیے اٹھا سکتی ہوں۔ جزاک اللہ خیر


جواب:

بِاسْمِہِ اللہِ الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کی صورتِ حال نہایت نازک، جذباتی اور فیصلہ کن ہے۔ شریعتِ مطہرہ اس باب میں نہ صرف جذبات کو دیکھتی ہے، بلکہ دین، اخلاق، برابری، خاندانی حکمت، آئندہ حقوق و ذمہ داریوں، اور فتنہ کے سدِّ باب—سب کو جمع کرکے رہنمائی دیتی ہے۔ اس لیے اس مسئلہ میں نہ محض جذبات کافی ہیں، نہ محض خاندان کا دباؤ فیصلہ کن ہے؛ بلکہ شرعی اصول، خیر خواہی، اور عواقب بینی پر نظر رکھتے ہوئے قدم اٹھانا ہوتا ہے۔

اس مسئلہ میں اصل اصول یہ ہے کہ بالغہ عاقلہ لڑکی/عورت کے نکاح میں اس کی رضامندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اسے زبردستی کسی نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے کہ والدین اور اولیاء کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا اگرچہ بعض صورتوں میں منعقد ہوجاتا ہے، لیکن بغیر والدین کی رضامندی کے نکاح کرلینا بلا کسی شدید عذر کے شرعاً و اخلاقاً نہایت ناپسندیدہ، بے برکتی کا سبب، اور شدید نزاع کا دروازہ کھولنے والا عمل ہے۔ لہٰذا متوازن رائے یہی ہے کہ نہ لڑکی کی رائے ساقط ہے، نہ خاندان کی خیر خواہی کو یکسر نظر انداز کیا جائے۔ اور خصوصًا والدین کی رائے کو خصوصی اہمیت دینی چاہیئے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ احکامات کے بعد جائز اور مباح کاموں والدین کی اطاعت کا لازم قرار دیا گیا ہے۔

والدین کا احترام اور اپنے شرعی حق پر قائم رہنے میں توازن لازمی ہے

والدین کی اطاعت کی اہمیت اور فرضیت

قرآنِ مجید نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں توحید کے فوراً بعد والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ اصول بھی دے دیا کہ اگر والدین کسی ایسی بات پر مجبور کریں جو شرعاً درست نہ ہو یا جس میں اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہو، تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی؛ البتہ دنیاوی معاملہ میں پھر بھی ان کے ساتھ حسنِ معاشرت، نرمی اور ادب برقرار رکھا جائے گا۔ سورۂ لقمان کی آیت 31:15 اسی باب کی اصل ہے: اطاعت نہ ہو تو بھی صحبت بالمعروف لازم ہے۔

لہٰذا اگر والدین اپنی جوان اولاد چاہے لڑکا ہو یا لڑکی اسے شادی سے مطلقًا منع کردیں اور روکیں تو اس صورت میں اولاد کے لئے جائز ہے کہ حلال راستے سے رک کر حرام میں مبتلاء ہونے کے بجائے والدین کے ساتھ غیر اخلاقی برتاو کیے بغیر شادی کرلیں۔ ان شاء اللہ اس میں انہیں کوئی گناہ نہیں ہوگا، اگرچہ والدین کو اس فعل سے تکلیف بھی ہو کیونکہ والدین کا احترام بھی شریعت اور اللہ کے حکم کے تابع ہے، اگر وہ اس کے خلاف جائیں تو ان کی اطاعت بھی لازم نہیں۔

نکاح میں لڑکی کی رضامندی

ی طرح نکاح میں عورت کی رضامندی کو شریعت نے معتبر قرار دیا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں آیا کہ ثیّب (یعنی پہلے نکاح شدہ عورت) اپنے معاملہ میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے بھی اجازت لی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت عورت کو نکاح کے باب میں محض خاموش مہرہ نہیں بناتی۔ لہٰذا اگر عاقلہ بالغہ لڑکی اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر اپنا نکاح خود کرے تو شرعاً ایسا نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اگرچہ والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا شرعاً و اخلاقاً پسندیدہ نہیں ہے۔ اگر لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں نکاح کیا تو اولاد ہونے سے پہلے پہلے لڑکی کے اولیاء کو عدالت سے رجوع کرکے اس نکاح کو فسخ کروانے کا اختیار ہوتا ہے۔ 

آپ کے خاندان کے اعتراضات شرعاً کتنے معتبر ہیں؟

۱۔ وہ طلاق یافتہ ہیں اور ان کے دو بچے ہیں

 

یہ اعتراض بذاتِ خود شرعی مانع نہیں۔ مطلقہ/مطلق یا بچوں والے فرد سے نکاح جائز ہے، اور پہلے سے شادی شدہ ہونا کسی انسان کو نکاح کے لیے ناقابلِ قبول نہیں بنا دیتا۔

۲۔ وہ مختلف نسل/قوم سے ہیں

مختلف نسل یا قوم سے نکاح اصلًا جائز ہے۔ اسے صرف “نسل مختلف ہے” کی بنیاد پر حرام یا باطل کہنا درست نہیں۔ البتہ حنفی فقہ میں کفاءت (برابری) کے عنوان سے نسب، معاشرتی ہم آہنگی، پیشہ، دیانت اور بعض دیگر اوصاف کو دیکھا گیا ہے تاکہ بعد کی زندگی میں ذلت، نزاع یا عدمِ موافقت پیدا نہ ہو۔

۳۔وہ اسلام میں واپس آئے ہیں / ریورٹ ہیں

اگر کسی شخص کا اسلام صحیح اور ثابت ہے، وہ دینی طور پر قائم ہے، اور اس کے عقیدہ و عمل میں استقامت پائی جاتی ہے، تو محض ریورٹ ہونا شرعی عیب نہیں۔ بہت سے حنفی فتاویٰ میں نو مسلم یا ریورٹ کے ساتھ نکاح کو اصولاً جائز قرار دیا گیا ہے، تاہم حکمت، تحقیق، اور استقامت کی جانچ کی تاکید کی گئی ہے۔ یعنی سوال یہ نہیں کہ “وہ ریورٹ ہے، اس لیے ناقابلِ قبول ہے”، بلکہ سوال یہ ہے کہ “کیا اس کا اسلام پختہ، سنجیدہ اور مستقل ہے؟” خصوصًا آج کل کے فتنہ اور گمراہی کے ماحول میں لوگوں میں ایمان کی پختگی کی جانچ بہت ضروری ہے، کیونکہ یہی ایک انسان کی اصل م

آپ کو اب کیا کرنا چاہیئے؟
حلال اور ذمہ دارانہ طریقۂ کار

پہلا مرحلہ: تعلق کو شرعی دائرے میں لائیں

جذبات کا ہونا گناہ نہیں، لیکن ان جذبات کی بنیاد پر غیر محرم سے تنہائی میں ملنا، مسلسل نجی گفتگو جاری رکھنا اور جذباتی انحصار بڑھاتے جانا — یہ سب غلط ہے اور اس سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ معاملہ کو “خفیہ تعلق” کی سطح سے اٹھا کر “رشتے کی بات” کی سطح پر لانا ضروری ہے۔

دوسرا مرحلہ: ایک غیر جانبدار اور باوقار ثالث مقرر کریں

یہ ایک نہایت اہم عملی قدم ہے جسے اکثر لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں۔ والد سے براہِ راست بحث و محاذ آرائی اکثر معاملے کو بگاڑ دیتی ہے کیونکہ جب اولاد خود بات کرتی ہے تو والدین کو بغاوت محسوس ہوتی ہے اور ان کی انا مزید سخت ہو جاتی ہے۔ اس کے بجائے خاندان کے کسی ایسے سمجھدار بزرگ کو درمیان میں لائیں جن کی بات والد سنتے ہوں، یا کسی بااعتماد عالمِ دین اور مفتی صاحب کو شامل کریں جو دلائل اور حکمت کے ساتھ بات رکھ سکیں۔ جب کوئی تیسرا معتبر شخص بات رکھتا ہے تو اس کا وزن بالکل مختلف ہوتا ہے۔

تیسرا مرحلہ: رشتے کی مکمل تحقیق اطمینان اور غیرجانبدارانہ کریں

(عارضی جذبات کی رو میں بہہ کر اپنا مستقبل داو پر نہ لگائیں)

محبت اور جذبات اپنی جگہ، لیکن بغیر تحقیق کے فیصلہ کرنا خطرناک ہے۔ اس شخص کے بارے میں چند بنیادی باتیں واضح ہونی چاہئیں۔

  1. سب سے پہلے ان کا عقیدہ، نماز کی پابندی اور دینی مزاج کیسا ہے — کیونکہ دین سب سے مقدم ہے۔
  2. پھر سابقہ نکاح اور طلاق کی مکمل حقیقت جاننا ضروری ہے کہ طلاق کیوں ہوئی اور اس میں کیا اسباب تھے۔
  3. اس کے بعد ان کے دو بچوں کی عمر، حضانت کس کے پاس ہے، خرچ کون اٹھاتا ہے اور قانونی حیثیت کیا ہے — یہ سب جاننا اس لیے ضروری ہے کہ یہ آپ کی عملی زندگی کو براہِ راست متاثر کرے گا۔
  4. نیز ان کی آمدنی، رہائش کا انتظام، مستقل روزگار اور کوئی قرض — یہ کفاءت (برابری) کے تعین کے لیے لازمی معلومات ہیں۔
  5. اور آخر میں ان کا مزاج، غصے پر قابو، سابقہ جھگڑوں کی تاریخ اور کردار کی تصدیق — کیونکہ آپ کا تحفظ سب سے اہم ہے۔

شریعت مطہرہ میں کفاءت (برابری) کی جو شرائط بیان کی گئی ہیں وہ اسی حکمت پر مبنی ہیں کہ نکاح سے پہلے عملی حقائق واضح ہونے چاہئیں۔

چوتھا مرحلہ: والدین کے اعتراضات کو تعصب اور حقیقی خدشات میں الگ کریں

یہ شاید سب سے اہم عملی قدم ہے اور اسی سے آپ کی گفتگو کا رخ متعین ہوگا۔ والدین کے ہر اعتراض کو ایک ہی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ سوچیں کہ کون سا اعتراض محض تعصب ہے اور کون سا حقیقی خدشہ۔

مثال کے طور پر اگر والدین کا اعتراض صرف یہ ہے کہ “وہ ریورٹ ہے” یا “نسل مختلف ہے” تو یہ بذاتِ خود شرعی بنیاد نہیں رکھتا اور تعصب کے زمرے میں آ سکتا ہے، کیونکہ قرآنِ کریم نے سورۃ الحجرات میں واضح فرما دیا کہ اللہ کے نزدیک معیار صرف تقویٰ ہے اور اسلام قبول کرنے والے کے بارے میں حدیث ہے کہ اسلام پہلے کی ہر چیز کو مٹا دیتا ہے۔

لیکن اگر والدین کا کہنا ہے کہ آمدنی غیر واضح ہے، بچوں کی ذمہ داری کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے، مزاج میں غصہ یا عدمِ استحکام ہے، یا قانونی پیچیدگیاں ہیں — تو یہ حقیقی خدشات ہیں جن کو نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں۔

حکمت یہ ہے کہ جب آپ والدین کے حقیقی خدشات کو تسلیم کریں گی اور ان کا ٹھوس حل پیش کریں گی — مثلاً یہ بتائیں گی کہ اس شخص کی آمدنی اتنی ہے، بچوں کا خرچ اس طرح ہے، رہائش کا انتظام یوں ہے — تو محض تعصب پر مبنی اعتراضات خود بخود کمزور پڑ جائیں گے۔ والدین بھی محسوس کریں گے کہ بیٹی نے آنکھیں بند کرکے نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔

پانچواں مرحلہ: استخارہ کے ساتھ مشورہ

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ استخارہ کا مطلب صرف خواب دیکھنا ہے — یہ غلط فہمی ہے۔ استخارہ دراصل ایک مکمل طریقۂ کار کا نام ہے جس کی صحیح ترتیب یہ ہے: پہلے تحقیق کریں، پھر اہلِ علم اور سمجھدار لوگوں سے مشورہ کریں، پھر استخارہ کریں، اور پھر اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے جس طرف دل مطمئن ہو اس طرف قدم اٹھائیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو استخارہ کرے وہ ناکام نہیں ہوتا اور جو مشورہ کرے وہ پشیمان نہیں ہوتا۔ علمائے کرام نے اسی ترتیب کو ترجیح دی ہے۔ محض مشورہ یا محض استخارہ یا دونوں نہ کرنا نامکمل حکمت عملی ہے جس کا نتیجہ بعد میں ناکامی اور پشیمانی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

اگر سب کچھ کرنے کے بعد بھی والدین نہ مانیں تو کیا کریں؟

اس مقام پر سب سے زیادہ صبر اور سب سے زیادہ حکمت درکار ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ جلدبازی ہرگز نہ کریں۔ پہلے تمام جائز اسباب اختیار کریں — ثالثی، گفتگو، دعا، استخارہ، وقت دینا — سب کچھ آزما لیں۔

اگر پھر بھی والدین صرف ایسی وجوہ کی بنا پر انکار کریں جو شرعاً معتبر نہیں ہیں — مثلاً محض نسل یا محض نومسلم ہونا — اور دوسری طرف رشتہ دین، اخلاق، نفقہ، رہائش، برابری اور عملی ذمہ داری ہر اعتبار سے معقول ثابت ہو، تو شرعی طور پر یہ بات لازم نہیں کہ محض خاندانی دباؤ کی وجہ سے ایک صحیح رشتہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا جائے۔

لیکن لیکن لیکن… اس کے باوجود خفیہ نکاح، کورٹ میرج بطور بغاوت، یا اعلانِ جنگ کے انداز میں قدم اٹھانا زیادہ تر معاملات میں فتنے، قطع رحمی اور آئندہ گھریلو تباہی کا سبب بنتا ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ جن لوگوں نے غصے اور جلدبازی میں یہ راستہ اختیار کیا ان کی اکثریت کو بعد میں بے حد پشیمانی ہوئی — نہ صرف شادی میں مشکلات آئیں بلکہ والدین سے رشتے اس طرح ٹوٹے کہ پھر کبھی نہ جُڑ سکے۔ اور قطع رحمی کے بارے میں نبی ﷺ کا فرمان واضح ہے کہ رشتے توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

اسی لیے ماہرینِ شریعت علماء و مفتیانِ کرام کا ایسے مواقع پر دیا گیا عملی مشوروں کا لبِّ لباب یہی ہے کہ رضامندی، صلح اور حکیمانہ تدریج کا راستہ اختیار کیا جائے — نہ کہ ٹکراؤ اور جلدبازی کا۔ اگر اللہ نے یہ رشتہ آپ کے مقدر میں لکھا ہے تو صبر اور دعا کے ذریعے راستے کھلیں گے، اور اگر نہیں لکھا تو اس سے بہتر آپ کے لیے مقدر ہے — کیونکہ قرآن کا وعدہ ہے:

وَعَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَهُوۡا شَیۡئًا وَّهُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ (البقرۃ: ۲۱۶)

یاد رہے اگر والدین آپ کو حقیقی خدشات و خطرات کی بنیاد پر منع کررہے ہیں اور مطلقًا شادی سے نہیں روک رہے بلکہ ایک محفوظ اور غیر مشکوک جگہ رشتہ کرنے پر مصر ہیں تو آپ پر لازم ہے کہ ان کے حکم کو اپنے جذبات پر مقدم رکھیں کہ اللہ نے توحید کے ساتھ ملاکر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے اور حسن سلوک کا آخری کم سے کم درجہ یہ ہے کہ وہ جو آرڈر دے دیں انہیں سرتسلیم خم کرتے ہوئے قبول کریں۔

اگر اس میں خدانخواستہ کچھ برا بھی ہوا تو بھی ان شاء اللہ والدین کی فرمانبرداری کی وجہ سے دوگنا اجر ملے گا۔
لیکن جہاں نقصان واضح ہو یا جہاں آپ کو شادی کرنے میں واقعی بالکل بھی رغبت ہی نہ ہو وہاں آپ کو شریعت نے اپنے نکاح اور شادی میں قبول اور انکار کا حق دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین فیصلے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ، اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

مارچ 23, 2026
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح اور موجودہ شادی کا شرعی حکم بغیر طلاق یا معتبر خلع کے دوسری شادی کا حکم: حنفی فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب کیا پہلا نکاح باقی ہو تو دوسرا نکاح درست ہوتا ہے؟ خلع، کنایۂ طلاق اور زبردستی نکاح کا شرعی جائزہ
مارچ 23, 2026
نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔ 37 اسی طرح ایک اور فتویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے، اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو انکار کا حق ہے، اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بنا پر اسے قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے، لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
مارچ 19, 2026
مارچ 16, 2026
حنفی فقہ کے مطابق خلع “عقدِ معاوضہ” ہے: واضح ایجاب و قبول کے بغیر خلع/تیسری طلاق نہیں ہوتی۔ خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق عموماً بائن، عدت لازم، اور واپسی کے لیے نیا نکاح ضروری ہوتا ہے۔
مارچ 4, 2026
جوانی میں خواہشِ نفس: استمناء کا حکم اور متبادل طریقے استمناء بالید: علماء کی آراء اور احتیاطی رہنمائی خود لذتی اور بغیر انزال چھیڑ چھاڑ: سوال و جواب
فروری 26, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کریڈٹ کارڈ رکھنا اور استعمال کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیا حرام کام کے معاہدہ کے بعد بھی کریڈٹ کارڈ جائز ہے؟
مارچ 23, 2026
Read More »
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح اور موجودہ شادی کا شرعی حکم بغیر طلاق یا معتبر خلع کے دوسری شادی کا حکم: حنفی فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب کیا پہلا نکاح باقی ہو تو دوسرا نکاح درست ہوتا ہے؟ خلع، کنایۂ طلاق اور زبردستی نکاح کا شرعی جائزہ
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح
مارچ 23, 2026
Read More »
نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔ 37 اسی طرح ایک اور فتویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے، اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو انکار کا حق ہے، اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بنا پر اسے قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے، لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
والدین کی شدید مخالفت کے باوجود پسند کی شادی کرنا کیسا ہے؟ | خاندان نہ مانے تو کیا کروں؟
مارچ 19, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.