Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Read in English
اردو میں پڑھیں
طلاق کی دھمکی پر کیا طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ مشروط طلاق (Conditional Divorce) کا شرعی حکم طلاق کی دھمکی، طلاقِ معلق، Conditional Divorce، فقہ حنفی میں طلاق

شرط کے ساتھ (معلق/مشروط) طلاق دینے کا حکم

سوال:

محترم مفتی صاحب!

میرا ایک مسئلہ طلاق کے بارے میں ہے، براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔

میں نے اپنی بیوی سے ناراضی کے عالم میں کہا: "اگر تم نے فلاں بات پر رات 12 بجے تک ‘نہیں’ کہا تو طلاق ہو جائے گی۔”

بنیادی طور پر جب میں منفی سوچ رہا تھا لیکن دل سے میں اس لفظ اور لفظ کا استعمال نہیں کرنا چاہتا جو میں صرف اس لیے استعمال کرتا ہوں کہ میں اپنی بیوی پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہوں کہ میں وہی کروں اور مجھے یقین تھا کہ اب اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اور اسے میری بات سننی ہوگی۔

اس کا مطلب ہے کہ میں اپنی سوچ میں واضح نہیں تھا، میری ایک سوچ صرف دھمکی تھی اور اسے وہی کرنا ہے جو میں چاہتا ہوں اور اگلی بری سوچ یہ تھی کہ اگر وہ میری خواہش کے مطابق نہیں کرے گی تو ایسا ہو جائے گا، یعنی دونوں سوچیں میرے ذہن میں تھیں اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں۔

بعد میں میں نے کہا:”میں اپنی بات واپس لیتا ہوں، میں نے جو کہا تھا وہ ختم کرتا ہوں۔”

میرا سوال یہ ہے کہ:

1. اگر میری بیوی نے واقعی “نہیں” کہا — تو کیا طلاق واقع ہو گئی؟

2. اگر میں نے “میں اپنی بات واپس لیتا ہوں” رات 12 بجے سے پہلے کہا، تو کیا اس سے میری پہلی بات ختم ہو گئی؟

3.میں پہلے ہی ایک سال میں 2 بار مختلف مواقع پر لفظ طلاق استعمال کر چکا ہوں۔
یعنی ایک دفعہ میں نے کہا کہ میں نے تمہیں ایک طلاق دی ہے۔
اگلی بار میں وہ لفظ استعمال کروں گا جو میں نے آپ کو دوسری طلاق دی ہے۔

تیسری بار میں نے تیسری طلاق کا لفظ اس چیز کے ساتھ جوڑا اگر وہ کرے گی تو ہو جائے گا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو نہیں ہو گا لیکن اس وقت میرے دل میں یہ بات واضح تھی کہ اس کی اندر سے دھمکی تھی کہ میں اسے طلاق نہیں دینا چاہتا اور ایک طرف ان کے برے خیالات بھی تھے جو اسے طلاق دے دیتے ہیں۔

4. اگر ایسی صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہو، تو کیا وہ طلاقِ رجعی شمار ہوگی یا بائن؟

5. اگر یہ تیسری طلاق ہے تو کیا اب ہمیں دوبارہ نکاح حلالہ کے بغیر کرنا ہوگا؟ یا ان کا کوئی طریقہ ہے؟

میری دل کی نیت طلاق دینے کی ہرگز نہیں تھی۔ میں نے صرف اسے ڈرانے اور بات منوانے کے لیے یہ کہا تھا، یعنی محض دھمکی دی تھی۔ اس وقت بھی اور بعد میں بھی میرا ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا۔

کیا اس طرح کے جملے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ اگر شرط (یعنی بیوی کا وہ کام نہ کرنا) پوری ہو جائے، تب بھی کیا طلاق واقع ہوگی؟ ایسے الفاظ جو طلاق کے لیے کنایہ (اشارہ) ہوں، لیکن نیت صرف دھمکی ہو — ان کا شرعی حکم کیا ہے؟

براہ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں تفصیلی جواب عطا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔  جزاکم اللہ خیراً

جواب:

حامداً و مصلیاً و مسلماً، امابعد

طلاقِ معلق (Conditional Divorce) کا شرعی مفہوم:

اگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق (یعنی کسی واقعہ پر موقوف) کر دے، تو جب وہ شرط پوری ہوتی ہے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، خواہ نیت محض دھمکی کی ہو یا سنجیدہ طلاق کی۔ 

لہٰذا اگر آپ کے جملے میں الفاظِ صریحہ (یعنی “طلاق ہو جائے گی”) استعمال ہوئے، تو یہ طلاقِ معلق ہے، اور اگر بیوی نے وہ شرط پوری کر لی (یعنی “نہیں” کہا)، تو شرعاً طلاق واقع ہو گئی۔

طلاق كی تعلیق (شرط پر طلاق دینے )كے بعد اسے واپس لینے (شرط کو ختم کرنے )کا حکم:

ایک مرتبہ طلاق معلق کرنے کے بعد اس سے  رجوع کرنے کا اختیار شرعًا  شوہر کو  حاصل نہیں ہوتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ بیوی کے کہنے پر شوہر کی جانب سے طلاق معلق سے رجوع کرنا شرعًا معتبر نہیں ہوگا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:  وَإِذَا أَضَافَهُ إلَى الشَّرْطِ وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ اتِّفَاقًا مِثْلُ أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَتِهِ: إنْ دَخَلْتُ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ.  (جب کسی شرط پرطلاق کو موقوف کیا تو اس بات کے پائے جاتے ہی بالاتفاق طلاق واقع ہوجائے گی۔)

لہذا آپ کے یہ کہنے سے کہ “میں اپنی بات واپس لیتا ہوں” طلاق کی تعلیق(یعنی طلاق کی شرط) ختم نہیں ہوگی اور شرط پائے جاتے ہی طلاق واقع ہوجائے گی۔

معلق /مشروط طلاق رجعی ہوگی یا بائن:

اگر الفاظ صریج ہوں تو طلاق رجعی واقع ہوگی یعنی عدت کے دوران شوہر رجوع کرسکتا ہے۔ اور اگر واضح الفاظ نہ ہوں کنائی الفاظ ہوں تو طلاق بائن واقع ہوگی اور دوبارہ نکاح ضروری ہوگا۔ (بدائع الصنائع)  
لیکن آپ کا مسئلہ اس سے مختلف ہے کیونکہ آپ اس سے قبل بھی دو بار طلاق دے چکے ہیں۔

تیسری طلاق کے بعد کا حکم:

آپ نے بتایا کہ پہلے دو مواقع پر آپ نے لکھا ہے: "میں نے تمہیں ایک طلاق دی ہے۔” "میں نے تمہیں دوسری طلاق دی ہے۔”

یہ دونوں منجز (یعنی فوراً واقع ہونے والی) طلاقیں تھیں، اس لیے یہ واقع ہو چکی ہیں اور تیسری کا حکم اس کے بعد سخت ہو جاتا ہے۔

اگر موجودہ معاملے میں شرط پوری ہوئی یعنی آپ کی اہلیہ نے نہیں کہہ کر شرط پوری کردی تو طلاق واقع ہو گئی، اور یہ بحرمتِ مغلظہ (بائنِ کبریٰ) طلاق واقع ہوگئی، اور اب بغیر حلالہ شرعی کے اس عورت سے نیا نکاح جائز نہیں۔

قرآن میں ہے: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنۢ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ  (سورۃ البقرہ: 230)
ترجمہ: پس اگر مرد نے عورت کو (مغلظ) طلق دے دی تو وہ عورت اس کے بعد اس آدمی کے لئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور مرد سے (شادی کرکے) جماع کرلے۔ 

تیسری طلاق کے بعد دوبارہ نکاح حلالہ کے بغیر کرنا اور اس کا صحیح طریقہ:

اور یاد رہے حلالہ کے بارے میں جاننا بھی ضروری ہے اس کے لئے اس لنک پر کلک کرکے حلالہ سے متعلق خوب سمجھ لیں۔

مختصراً یہ جان لیں کہ حلالہ کیا یا کروایا نہیں جاتا بلکہ وہ اتفاقاً خود ہوسکتا ہے اور جو جان بوجھ کر حلالہ کرے اور کروائے اس پر لعنت رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔

بغیر نیت کے مشروط طلاق دینا:

طلاق کو معلق کرنا طلاق دینے جیسا ہی ہے بس اس کا وقوع فوری طور پر نہیں ہوتا لہذا اگر صریح الفاظ کے ساتھ طلاق معلق بھی کی جائے تو بغیر نیت کے بھی واقع ہوجاتی ہے۔ 

اشارۃً غیر واضح الفاظ میں بغیر طلاق کی نیت کیے صرف دھمکانے کے لئے کنائی الفاظ کے کہنے سے توطلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن آپ کے مسئلہ میں الفاظ واضح تھے کنائی نہیں تھے۔ کنائی الفاظ وہ ہوتے ہیں جن کے ایک سے زیادہ معنی ہوں ایک طلاق والا اور باقی جن سے طلاق نہیں ہوتی، جیسے تو آزاد ہے۔

واضح مسئلہ کے لئے کسی مستند دارالافتاء تشریف لے جاکر مفتی صاحب سے روبرو بات کریں۔ آپ کے سوال کی ابتداء و انتہاء کے بیان میں بظاہر تضاد نظر آرہا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

مارچ 23, 2026
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح اور موجودہ شادی کا شرعی حکم بغیر طلاق یا معتبر خلع کے دوسری شادی کا حکم: حنفی فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب کیا پہلا نکاح باقی ہو تو دوسرا نکاح درست ہوتا ہے؟ خلع، کنایۂ طلاق اور زبردستی نکاح کا شرعی جائزہ
مارچ 23, 2026
نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔ 37 اسی طرح ایک اور فتویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے، اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو انکار کا حق ہے، اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بنا پر اسے قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے، لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
مارچ 19, 2026
مارچ 16, 2026
حنفی فقہ کے مطابق خلع “عقدِ معاوضہ” ہے: واضح ایجاب و قبول کے بغیر خلع/تیسری طلاق نہیں ہوتی۔ خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق عموماً بائن، عدت لازم، اور واپسی کے لیے نیا نکاح ضروری ہوتا ہے۔
مارچ 4, 2026
جوانی میں خواہشِ نفس: استمناء کا حکم اور متبادل طریقے استمناء بالید: علماء کی آراء اور احتیاطی رہنمائی خود لذتی اور بغیر انزال چھیڑ چھاڑ: سوال و جواب
فروری 26, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کریڈٹ کارڈ رکھنا اور استعمال کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیا حرام کام کے معاہدہ کے بعد بھی کریڈٹ کارڈ جائز ہے؟
مارچ 23, 2026
Read More »
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح اور موجودہ شادی کا شرعی حکم بغیر طلاق یا معتبر خلع کے دوسری شادی کا حکم: حنفی فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب کیا پہلا نکاح باقی ہو تو دوسرا نکاح درست ہوتا ہے؟ خلع، کنایۂ طلاق اور زبردستی نکاح کا شرعی جائزہ
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح
مارچ 23, 2026
Read More »
نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔ 37 اسی طرح ایک اور فتویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے، اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو انکار کا حق ہے، اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بنا پر اسے قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے، لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
والدین کی شدید مخالفت کے باوجود پسند کی شادی کرنا کیسا ہے؟ | خاندان نہ مانے تو کیا کروں؟
مارچ 19, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.