Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

This page is also available in English language.

یہ صفحہ انگریزی میں بھی موجود ہے۔ زبان کی تبدیلی کے لیے نیچے بٹن دبائیں۔

اردو میں پڑھیں
Read in English

جوانی میں خواہشِ نفس: استمناء کا حکم اور متبادل طریقے استمناء بالید: علماء کی آراء اور احتیاطی رہنمائی خود لذتی اور بغیر انزال چھیڑ چھاڑ: سوال و جواب





Language Block

This page is also available in Urdu language.

یہ صفحہ اردو میں بھی موجود ہے۔ زبان کی تبدیلی کے لیے نیچے بٹن دبائیں۔

Read in English
اردو میں پڑھیں


سوال:

کیا اس نوجوان کے لیے، جو طویل عرصے تک (مثلاً 5 سال) نکاح کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور شہوت کی وجہ سے شدید مشقت محسوس کرتا ہے، شدید خواہش کے وقت مہینے میں ایک مرتبہ یا ہر تین ہفتے بعد استمناء/مٹھ مارنا (خود لذتی) کرنا جائز ہے؟

اور کیا انزال کے بغیر عضوِ مخصوص سے چھیڑ چھاڑ کرنا حرام ہے یا مکروہ؟


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ، اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب وبالله التوفيق:

ہینڈپریکٹس بہرحال بہرصورت حرام ہے۔

صورتِ مسئولہ میں کسی صورت میں بھی استمناء/ہینڈپریکٹس (خود لذّتی) جائز نہیں، خواہ ماہ میں ایک بار یا ہر تین ہفتے بعد کرے یا کئی مہیوں بعد کرے، بہرصورت استمناء بالید شرعاً ناجائز و گناہ ہے۔
اور صرف “نکاح کی استطاعت نہ ہونا اور شہوت کی شدت” اسے معمول بنا کر جائز نہیں کرتی۔
ایسی حالت میں علاج: روزہ، نگاہ کی حفاظت اور اسبابِ نکاح کی کوشش ہے، اور اگر کبھی نفس مغلوب ہو کر یہ گناہ سرزد ہو جائے تو فوراً سچی توبہ لازم ہے۔ (Banuri University)

لذت حاصل کرنے کے لئے عضو کو چھونا بھی حرام ہے۔

انزال کے بغیر عضوِ مخصوص سے چھیڑ چھاڑ اگر شہوت کے لیے/لذت حاصل کرنے یا انزال کے لیے ہو تو یہ بھی ناجائز اور گناہ کے اسباب میں داخل ہے؛ البتہ ضرورت (مثلاً استنجا، صفائی، علاج وغیرہ) کے لیے بلا شہوت چھونا جائز ہے۔ اور اگر اس چھیڑ چھاڑ میں منی یا مذی خارج نہ ہو تو غسل لازم نہیں اور وضو بھی نہیں ٹوٹتا؛ ہاں یہ فعل بہرحال قابلِ اجتناب اور موجبِ گناہ ہے۔ (darulifta-deoband.com)

وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

مئی 21, 2026
مئی 21, 2026
مئی 16, 2026
مئی 16, 2026
اپریل 29, 2026
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
اپریل 29, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کینیڈا میں رہتے ہوئے پاکستان میں قربانی کے احکام
مئی 21, 2026
Read More »
شوہر کے لئے بیوی کا زیر جامہ (انڈرویئر) پہننا کیسا ہے؟
مئی 21, 2026
Read More »
خلع اور استخارہ کے بعد خواب کی تعبیر
مئی 16, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.