سوال:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میں کرپٹو ایکسچینج کے کاروبار کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔
میں اپنے پاس یو ایس ڈی ٹی کا ذخیرہ نہیں رکھتا۔ جب کوئی گاہک یو ایس ڈی ٹی خریدنے آتا ہے، تو میں پہلے گاہک کی رقم وصول کرتا ہوں۔ پھر اس رقم کا استعمال کرتے ہوئے میں کسی دوسرے بیچنے والے سے یو ایس ڈی ٹی خریدتا ہوں اور اسے گاہک کو منتقل کرتا ہوں۔ میں اسپریڈ یا سروس فیس کے ذریعے منافع کماتا ہوں۔
میں سود پر مبنی قرضوں، لیوریج ٹریڈنگ، فیوچرز ٹریڈنگ، یا جوا میں ملوث نہیں ہوں۔ میرا کردار صرف گاہکوں کو یو ایس ڈی ٹی حاصل کرنے میں مدد کرنا اور اس سروس کے لیے فیس/منافع کمانا ہے۔
کیا یہ کاروباری ماڈل شریعت کے مطابق جائز ہے؟ اگر نہیں، تو مجھے کیا تبدیلیاں کرنی چاہئیں تاکہ یہ حلال ہو جائے؟
جزاکم اللہ خیراً۔
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
واضح رہے کہ سوال میں بیان کردہ کاروباری طریقۂ کار میں کم از کم دو بنیادی فقہی پہلو پائے جاتے ہیں:
- خود USDT اور کرپٹو کی شرعی حیثیت (کیا یہ مال ہے یا نہیں)
- ایسی چیز کی خرید و فروخت یا اس پر کمیشن لینا جس کی لین دین ہی شرعاً درست نہ ہو
پہلا اصول: کرپٹو (USDT) شرعاً مال نہیں
موجودہ معتبر فقہی تحقیق کے مطابق کرپٹو کرنسی (بشمول USDT) کو شرعاً مال نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ محض ڈیجیٹل اندراج (entries) ہیں جنہیں حقیقی مال کی حیثیت حاصل نہیں۔
چونکہ فقہ حنفی میں بیع کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مبیع شرعاً مال ہو، اس لیے ایسی چیز کی خرید و فروخت ہی درست نہیں جو مال نہ ہو۔
اس اصول کا نتیجہ
جب کرپٹو (USDT) خود ہی شرعاً مال نہیں:
- تو اس کی خرید و فروخت جائز نہیں
- اس میں سرمایہ کاری جائز نہیں
- اس میں حصہ دار بننا جائز نہیں
- اور اس سے متعلق کسی بھی قسم کا کاروبار (direct یا indirect) جائز نہیں
دوسرا اصول: ناجائز چیز پر بروکریج یا کمیشن بھی ناجائز ہے
یہ ایک اہم اور بنیادی فقہی قاعدہ ہے:
جس چیز کی خرید و فروخت ہی شرعاً جائز نہ ہو، اس پر کمیشن، بروکریج یا منافع لینا بھی جائز نہیں۔
لہٰذا:
- چاہے آپ خود seller بنیں
- یا broker بنیں
- یا agent (وکیل) بنیں
اگر اصل چیز (USDT) کی لین دین ہی ناجائز ہے، تو اس پر:
- سروس فیس لینا
- اسپریڈ رکھنا
- کمیشن لینا
سب ناجائز ہوگا۔
تیسرا اصول: ملکیت سے پہلے بیچنا بھی ناجائز ہے
آپ کے بیان کردہ ماڈل میں ایک اور خرابی بھی پائی جاتی ہے:
آپ:
- پہلے گاہک سے رقم لیتے ہیں
- پھر اسی رقم سے USDT خریدتے ہیں
- پھر اسے گاہک کو دیتے ہیں
اگر اس دوران آپ گاہک سے حتمی بیع کرچکے ہوتے ہیں، تو یہ صورت داخل ہوتی ہے:
بیع ما لیس عندک (جو چیز آپ کے پاس نہیں اسے بیچنا)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ»
"جو چیز تمہارے پاس نہیں، اسے مت بیچو۔”
لہٰذا یہ صورت بھی مستقل طور پر ناجائز ہے۔
اگر فرض کریں کہ کرپٹو کبھی مال بن جائے
یہ ایک فرضی اور بعد کی صورت ہے، لیکن اصول سمجھنے کے لیے ذکر ضروری ہے:
اگر کسی وقت کرپٹو کو شرعاً مال تسلیم کرلیا جائے، تب بھی آپ کے موجودہ ماڈل میں درج ذیل شرائط لازم ہوں گی:
1. وکالت واضح کرنا ضروری ہوگا
اگر آپ گاہک کے agent (وکیل) ہیں تو:
- شروع میں واضح کریں کہ آپ وکیل ہیں، seller نہیں
- گاہک کی طرف سے خریداری کریں گے
- اپنی فیس واضح طور پر بتائیں گے
2. خفیہ منافع جائز نہیں
- اصل قیمت چھپا کر اضافی spread رکھنا جائز نہیں
- جب تک گاہک کو واضح طور پر معلوم نہ ہو
3. ملکیت سے پہلے بیچنا پھر بھی ناجائز رہے گا
اگر آپ:
- گاہک کو پہلے بیچ دیں
- پھر بعد میں خرید کر دیں
تو یہ صورت پھر بھی ناجائز ہوگی، کیونکہ:
کسی چیز کو اپنی ملکیت میں آنے سے پہلے بیچنا جائز نہیں
خلاصۂ حکم
موجودہ صورت میں:
- کرپٹو (USDT) شرعاً مال نہیں
- اس کی خرید و فروخت جائز نہیں
- اس پر بروکریج یا کمیشن لینا بھی جائز نہیں
- آپ کا موجودہ کاروباری ماڈل ناجائز ہے
اور اگر مستقبل میں کبھی اسے مال مان بھی لیا جائے:
- تب بھی آپ کو وکالت واضح کرنی ہوگی
- فیس شفاف رکھنی ہوگی
- اور ملکیت سے پہلے بیچنے سے بچنا ہوگا
نتیجہ
آپ کا موجودہ ماڈل: گاہک کی رقم سے کرپٹو کرنسی خرید کر دینا اور اس پر منافع لینا شرعاً جائز نہیں۔
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ