Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

کرپٹو ایکسچینج کا کاروبار: بغیر اسٹاک کے یو ایس ڈی ٹی خرید و فروخت کا شرعی حکم

  • جون 22, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • جون 22, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
میں کرپٹو ایکسچینج کے کاروبار کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔
میں اپنے پاس یو ایس ڈی ٹی کا ذخیرہ نہیں رکھتا۔ جب کوئی گاہک یو ایس ڈی ٹی خریدنے آتا ہے، تو میں پہلے گاہک کی رقم وصول کرتا ہوں۔ پھر اس رقم کا استعمال کرتے ہوئے میں کسی دوسرے بیچنے والے سے یو ایس ڈی ٹی خریدتا ہوں اور اسے گاہک کو منتقل کرتا ہوں۔ میں اسپریڈ یا سروس فیس کے ذریعے منافع کماتا ہوں۔
میں سود پر مبنی قرضوں، لیوریج ٹریڈنگ، فیوچرز ٹریڈنگ، یا جوا میں ملوث نہیں ہوں۔ میرا کردار صرف گاہکوں کو یو ایس ڈی ٹی حاصل کرنے میں مدد کرنا اور اس سروس کے لیے فیس/منافع کمانا ہے۔
کیا یہ کاروباری ماڈل شریعت کے مطابق جائز ہے؟ اگر نہیں، تو مجھے کیا تبدیلیاں کرنی چاہئیں تاکہ یہ حلال ہو جائے؟
جزاکم اللہ خیراً۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

آپ کے کاروباری ماڈل میں بنیادی طور پر دو چیزیں شامل ہیں: (1) آپ گاہک سے رقم لے کر اسے یو ایس ڈی ٹی فراہم کرتے ہیں، اور (2) آپ اس سروس کے عوض ایک فیس یا منافع لیتے ہیں۔ اس کی شرعی حیثیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس طرح یو ایس ڈی ٹی حاصل کرتے ہیں اور گاہک کے ساتھ معاہدہ کیسے طے پاتا ہے۔

موجودہ طریقہ کار کا تجزیہ

آپ نے بتایا کہ جب گاہک آتا ہے تو آپ پہلے اس سے رقم وصول کرتے ہیں، پھر اس رقم سے کسی اور سے یو ایس ڈی ٹی خرید کر گاہک کو منتقل کرتے ہیں۔ اس صورت میں آپ گاہک کے پیسوں سے یو ایس ڈی ٹی خریدتے ہیں، یعنی آپ گاہک کے وکیل (agent) کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ اگر آپ گاہک کو صرف یہ بتاتے ہیں کہ آپ اس کے لیے یو ایس ڈی ٹی خریدیں گے اور اس پر ایک متعین فیس لیں گے، تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ یو ایس ڈی ٹی کی خرید و فروخت خود شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔

یو ایس ڈی ٹی کی شرعی حیثیت

یو ایس ڈی ٹی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جسے زیادہ تر فقہاء نے ‘مال’ قرار دیا ہے، لیکن اس کی خرید و فروخت میں صرف (سود) اور دھوکہ دہی سے بچنا ضروری ہے۔ اگر آپ یو ایس ڈی ٹی کو نقد رقم (جیسے ڈالر) کے بدلے خریدتے اور بیچتے ہیں تو اسے ‘صرف’ (currency exchange) کا حکم دیا جائے گا، جس میں ہاتھوں ہاتھ (spot) لین دین ضروری ہے۔ یعنی رقم اور یو ایس ڈی ٹی کا تبادلہ اسی مجلس میں ہو جائے۔

موجودہ ماڈل میں ممکنہ مسائل

  • تاخیر کا مسئلہ: اگر آپ گاہک سے رقم لینے کے بعد فوری طور پر یو ایس ڈی ٹی خرید کر منتقل نہیں کرتے، بلکہ کچھ وقت لگتا ہے، تو یہ ‘صرف’ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لین دین فوری طور پر مکمل ہو۔
  • وکالت اور ضمانت: اگر آپ گاہک کے وکیل کے طور پر کام کرتے ہیں تو آپ کو اس کی رقم امانت کے طور پر ملتی ہے۔ اگر اس دوران رقم ضائع ہو جائے تو آپ ذمہ دار نہیں ہوں گے، جب تک کہ آپ نے غفلت نہ کی ہو۔ لیکن اگر آپ گاہک سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ آپ یو ایس ڈی ٹی فراہم کریں گے، تو یہ ایک ضمانت بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے آپ کو رقم پر قبضہ کرنے کے بعد اس کا مالک سمجھا جائے گا، اور پھر اسے دوسرے سے خریدنا ‘بیع’ (sale) ہو گا، نہ کہ وکالت۔ اس صورت میں آپ کو اپنے پاس یو ایس ڈی ٹی کا ذخیرہ رکھنا چاہیے یا پھر گاہک سے صرف وکالت کا معاہدہ کرنا چاہیے۔

حلال طریقہ کار کے لیے تجاویز

1. وکالت پر مبنی ماڈل

آپ گاہک سے واضح طور پر کہیں کہ آپ اس کے وکیل ہیں اور اس کی رقم سے یو ایس ڈی ٹی خریدیں گے، اور اس کے بدلے ایک متعین فیس لیں گے۔ اس صورت میں آپ کو یو ایس ڈی ٹی خریدنے کے بعد اسے فوری طور پر گاہک کے حوالے کرنا ہو گا۔ فیس کا تعین پہلے سے طے ہونا چاہیے، اور یہ رقم کے فیصد کی بجائے ایک مقررہ رقم ہو تو بہتر ہے۔

2. اپنے پاس اسٹاک رکھ کر بیع

آپ اپنے پاس یو ایس ڈی ٹی کا ذخیرہ رکھیں اور پھر اسے گاہک کو بیچیں۔ اس صورت میں آپ کو یو ایس ڈی ٹی پر قبضہ حاصل ہونا چاہیے (یعنی آپ کے والیٹ میں موجود ہو) اور پھر اسے گاہک کو منتقل کریں۔ اس طرح آپ منافع (spread) لے سکتے ہیں، کیونکہ یہ خرید و فروخت ہے۔

3. سود اور جوئے سے پرہیز

آپ نے پہلے ہی سود، لیوریج، فیوچرز اور جوا سے پرہیز کا ذکر کیا ہے، جو بہت اچھا ہے۔ اس پر قائم رہیں۔

نتیجہ

آپ کا موجودہ طریقہ کار اگر فوری طور پر لین دین مکمل کرتا ہے اور آپ گاہک کے وکیل کے طور پر کام کرتے ہیں تو جائز ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ گاہک سے رقم لے کر بعد میں یو ایس ڈی ٹی خریدتے ہیں، تو اس میں تاخیر کی وجہ سے ‘صرف’ کے اصولوں کی خلاف ورزی کا امکان ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ یا تو اپنے پاس اسٹاک رکھیں، یا پھر وکالت کا واضح معاہدہ کریں اور فوری طور پر لین دین مکمل کریں۔

تاہم، یہ ایک عمومی رہنمائی ہے۔ چونکہ کرپٹو کرنسی کے مسائل میں تفصیلات اہم ہیں، اس لیے کسی مستند مفتی سے براہ راست رابطہ کر کے اپنے کاروبار کے تمام پہلوؤں کی جانچ کر لیں۔

واللہ اعلم بالصواب

حوالہ جات

  • فقہ البیوع، مفتی محمد تقی عثمانی
  • کرپٹو کرنسی پر فقہی تحقیقات، جامعہ دارالعلوم کراچی
  • المعاملات المالیہ المعاصرہ، ڈاکٹر عبداللہ بن محمد السندی

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم

دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ

بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی

ایک 18 سالہ مسلمان کے لیے فقہ الاولویات کی روشنی میں ترجیحات کا تعین

حج کے بعد بھورے مادے کی حالت میں طواف وداع کا حکم

والد کا درگاہ سے لائے گئے پھول موٹر سائیکل پر رکھنا اور بیٹے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم
جون 22, 2026
Read More »
دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ
جون 22, 2026
Read More »
بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی
جون 22, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.