سوال:
میرا اپنی بیوی سے سخت جھگڑا ہوا۔ جھگڑے کے بعد میں دوسرے کمرے میں گیا، نماز پڑھی، رویا اور پھر صلح کی نیت سے واپس آیا۔ میری بیوی بہت غصے میں تھی، مجھے نظر انداز کرتی رہی اور پھر گالی گلوچ شروع ہوگئی۔ اس پر مجھے سخت غصہ آگیا اور میں نے اس سے کہا:
“اگر تمہیں مجھ سے اتنے مسائل ہیں تو تم مجھے کیوں نہیں چھوڑ دیتیں؟ تم مجھے طلاق کیوں نہیں دیتیں؟ تم مجھ سے طلاق کیوں نہیں مانگ لیتیں؟”
میں کہتا ہوں کہ اس وقت میں غصے میں تھا، طلاق دینے کی نیت نہیں تھی، یہ الفاظ کہنا مقصود نہیں تھا، اور میں طلاق کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اب پوچھتا ہوں کہ شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب:
بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ
آپ کے بیان کے مطابق آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے الفاظ نہیں کہے، بلکہ سوالیہ اور جھنجھلاہٹ کے انداز میں یہ کہا: “تم مجھے کیوں نہیں چھوڑ دیتیں؟” “تم مجھے طلاق کیوں نہیں دیتیں؟” “تم مجھ سے طلاق کیوں نہیں مانگ لیتیں؟”
ان جملوں کا شرعی تجزیہ درج ذیل ہے:
آپ کے الفاظ کا شرعی تجزیہ
1. “تم مجھے کیوں نہیں چھوڑ دیتیں؟”
یہ جملہ آپ کی طرف سے “میں نے تمہیں چھوڑ دیا” یا “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” نہیں ہے، بلکہ بیوی سے سوالیہ انداز میں کہا گیا ہے کہ تم مجھے کیوں نہیں چھوڑ دیتیں؟ اس میں آپ کی طرف سے طلاق جاری کرنے کا صریح لفظ موجود نہیں۔
اگر اس جملہ کو زیادہ سے زیادہ کنایہ کے درجے میں بھی رکھا جائے تو کنایہ الفاظ سے طلاق اسی وقت واقع ہوتی ہے جب شوہر کی طلاق کی نیت ہو، یا ایسی دلالتِ حال پائی جائے جس میں شرعاً نیت کے بغیر بھی حکم لگایا جائے۔ آپ کے بیان کے مطابق آپ کی طلاق کی نیت نہیں تھی، اس لیے اس جملہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
2. “تم مجھے طلاق کیوں نہیں دیتیں؟”
شرعی اعتبار سے اصل طلاق کا حق شوہر کو حاصل ہوتا ہے، بیوی شوہر کو طلاق نہیں دیتی۔ بیوی خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے، یا اگر شوہر نے پہلے سے اسے تفویضِ طلاق کا معتبر حق دیا ہو تو اس کی الگ صورت بنتی ہے، لیکن عام حالت میں بیوی کا شوہر کو “طلاق دینا” شرعی طور پر طلاق جاری کرنے کا طریقہ نہیں۔
یہ جملہ بھی آپ کی طرف سے طلاق دینے کا انشائی جملہ نہیں ہے، بلکہ سوالیہ انداز کا جملہ ہے۔ اس لیے اس سے بھی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
3. “تم مجھ سے طلاق کیوں نہیں مانگ لیتیں؟”
یہ جملہ واضح طور پر طلاق جاری کرنا نہیں، بلکہ بیوی کو طلاق مانگنے کا کہنا ہے۔ کسی کو طلاق مانگنے کا کہنا، شرعاً طلاق دینا نہیں کہلاتا۔ لہٰذا اس جملہ سے بھی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
اصل حکم: کیا طلاق واقع ہوئی؟
آپ کے بیان کے مطابق مذکورہ تینوں جملوں سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بشرطیکہ واقعۃً آپ کی نیت طلاق دینے کی نہ تھی، جیسا کہ سوال میں صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ آپ کا نکاح بدستور قائم ہے، آپ اور آپ کی بیوی شرعاً بدستور زوجین ہیں، اور رجوع کی بھی ضرورت نہیں؛ کیونکہ رجوع وہاں ہوتا ہے جہاں پہلے طلاق واقع ہوچکی ہو، جبکہ یہاں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
البتہ طلاق کے الفاظ یا طلاق سے متعلق گفتگو کو غصے، جھگڑے، طنز یا دباؤ کے موقع پر استعمال کرنا نہایت خطرناک اور سخت قابلِ احتیاط ہے۔ آئندہ ایسے الفاظ سے مکمل اجتناب کریں۔
فقہی اصول اور حوالہ جات
فقہِ حنفی میں صریح طلاق اور کنائی طلاق کے درمیان فرق ہے۔ صریح الفاظِ طلاق سے عموماً نیت کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لیکن کنایہ الفاظ سے طلاق کا مدار نیت یا دلالتِ حال پر ہوتا ہے۔
فتاویٰ بنوری ٹاؤن میں ایک قریب المعنی مسئلہ میں ہے:
“بیوی کے مطالبہ طلاق کے جواب میں شوہر کا یہ کہنا کہ ’’ٹھیک ہے جاؤ‘‘، یہ کنائی الفاظ ہیں۔ اگر واقعۃً شوہر کی طلاق کی نیت نہ تھی تو دونوں میں رشتہ ختم نہیں ہوگا، دونوں کا نکاح قائم ہے۔”
اسی طرح ایک اور قریب المعنی فتویٰ میں ہے:
“صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے واقعةً طلاق کی نیت سے مذکورہ (کنائی) الفاظ نہیں کہے تھے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے۔”
فقہ حنفی کی معتبر کتاب رد المحتار میں ہے:
“(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره، فالكنايات لا تطلق بها قضاء إلا بنية أو دلالة الحال، وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.” (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، باب الكنايات، جلد 3)
یعنی کنایہ وہ لفظ ہے جو اصل میں طلاق کے لیے مقرر نہ ہو، مگر اس میں طلاق اور غیر طلاق دونوں کا احتمال ہو۔ ایسے الفاظ سے قضاءً طلاق واقع نہیں ہوتی، مگر نیت یا دلالتِ حال کے ساتھ۔
غصے میں طلاق سے متعلق وضاحت
یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ محض غصہ ہونا طلاق کو باطل نہیں کرتا؛ اگر کوئی شخص غصے میں صریح طلاق دے دے اور اس کے ہوش و حواس قائم ہوں تو طلاق واقع ہوسکتی ہے۔ لیکن آپ کے سوال میں اصل بات یہ ہے کہ آپ نے صریح طلاق کے الفاظ ادا نہیں کیے، بلکہ سوالیہ انداز میں بیوی سے طلاق مانگنے یا چھوڑنے کی بات کہی، اور طلاق کی نیت بھی نہیں تھی؛ اس لیے اس خاص صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
ازدواجی اصلاح اور آئندہ کے لیے نصیحت
آپ اور آپ کی اہلیہ دونوں کو چاہیے کہ جھگڑے کے وقت طلاق، خلع، چھوڑنے اور علیحدگی جیسے الفاظ کو زبان پر نہ لائیں؛ کیونکہ کبھی ایک جملہ پورے گھرانے کے لیے بہت بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔ قرآن کریم نے میاں بیوی کے اختلاف کی صورت میں اصلاح اور ثالثی کی رہنمائی فرمائی ہے:
“وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا”
ترجمہ: اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک ثالث عورت کے خاندان سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا۔
حوالہ:
سورۃ النساء: 35
https://quran.com/en/nisa/35
رسول اللہ ﷺ نے غصے کے بارے میں نہایت جامع نصیحت فرمائی: “لَا تَغْضَبْ” ترجمہ: غصہ نہ کرو۔
صحیح البخاری، حدیث: 6116
لہٰذا آئندہ جب جھگڑا بڑھے تو آپ میں سے کوئی ایک خاموشی اختیار کرے، کمرہ بدل لے، وضو کرے، اعوذ باللہ پڑھے، اور مسئلہ ٹھنڈے وقت میں حل کرنے کی کوشش کرے۔ اگر اختلافات مسلسل رہتے ہوں تو خاندان کے سمجھ دار، دیندار اور رازدار افراد یا کسی مستند عالم / فیملی کونسلر کی مدد سے اصلاح کی کوشش کی جائے۔
خلاصہ حکم
- آپ کے مذکورہ الفاظ: “تم مجھے کیوں نہیں چھوڑ دیتیں؟” “تم مجھے طلاق کیوں نہیں دیتیں؟” “تم مجھ سے طلاق کیوں نہیں مانگ لیتیں؟” سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
- آپ کا نکاح بدستور قائم ہے۔
- رجوع کی ضرورت نہیں؛ کیونکہ طلاق واقع ہی نہیں ہوئی۔
- آپ کو چاہیے کہ ایسے الفاظ پر توبہ و استغفار کریں اور آئندہ طلاق کے الفاظ کو غصے یا جھگڑے میں ہرگز استعمال نہ کریں۔
- آپ اور آپ کی اہلیہ دونوں اصلاح، نرمی، صبر، معافی اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کریں۔
وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ