Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

سات ہفتے کے حمل میں اسقاط حمل کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

ہمارا ایک بیٹا ہے جو آٹھ ماہ کا ہے اور میری بیوی سات ہفتے کی حاملہ ہے، ایک بچے کی پرورش کرنا واقعی مشکل ہے۔ ہمیں 120 دن سے پہلے اسقاط حمل کے بارے میں رہنمائی کی ضرورت ہے۔ حمل تقریباً سات ہفتے کا ہے پہلا بچہ آٹھ ماہ کا ہے پچھلی ڈیلیوری سی سیکشن تھی ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگلی بھی سی سیکشن ہوگی جس میں زیادہ درد اور ممکنہ طور پر قبل از وقت ہو سکتی ہے زندگی کو خطرہ نہیں ہے لیکن اس میں مشکلات شامل ہیں بیوی کام کرتی ہے اور سفر کرنا ضروری ہے ہم ایک بزرگ ماں کی بھی دیکھ بھال کرتے ہیں دودھ پلانے پر اثر پڑ سکتا ہے


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کی صورتِ حال میں مشکلات کو سمجھا جا سکتا ہے، لیکن شرعی اصولوں کے مطابق حمل کو 120 دن سے پہلے اسقاط کرنے کی اجازت صرف شدید مجبوری کی صورت میں ہے۔ آپ کے بیان کردہ اسباب (مشقت، سی سیکشن کا خوف، کام اور سفر، بزرگ ماں کی دیکھ بھال، دودھ پلانے پر اثر) کو شرعی طور پر اسقاط حمل کی اجازت دینے کے لیے کافی نہیں سمجھا جاتا، جب تک کہ ماں کی جان کو حقیقی خطرہ نہ ہو۔

شرعی اصول

جمہور فقہاء کے مطابق روح 120 دن (تقریباً 17 ہفتے) کے بعد پھونکی جاتی ہے۔ اس سے پہلے بھی اسقاط حمل صرف عذرِ شدید (جیسے ماں کی جان کا خطرہ) کی صورت میں جائز ہے، ورنہ ناجائز ہے۔

آپ کی صورتِ حال کا جائزہ

  • حمل 7 ہفتے کا ہے، یعنی 120 دن سے پہلے ہے۔
  • ڈاکٹر کے مطابق جان کو خطرہ نہیں، صرف مشقت اور درد کا امکان ہے۔
  • بچے کی پرورش، بیوی کا کام، سفر، اور بزرگ ماں کی دیکھ بھال جیسی مشکلات کو شرعی عذر نہیں مانا گیا۔

نتیجہ

لہٰذا، آپ کی بیان کردہ وجوہات کی بنا پر اسقاط حمل جائز نہیں ہے۔ تاہم، اگر ڈاکٹر یہ تصدیق کرے کہ حمل جاری رکھنا ماں کی جان کے لیے حقیقی خطرہ ہے، تو اس صورت میں اسقاط کی اجازت ہو سکتی ہے۔ بہتر ہے کہ کسی مستند مفتی سے تفصیلی مشورہ کریں۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ الإسراء، آیت 31 (قتل اولاد کی ممانعت)
  • صحیح بخاری: حدیث نمبر 3336 (روح پھونکنے کا بیان)
  • فتاویٰ ہندیہ: کتاب الکراہیہ، فصل فی الاستسقاط

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.