Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

ربا کی رقم سے کمیٹی کے لیے لیپ ٹاپ خریدنا

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

ہمارے پاس ایک مسلم موت کمیٹی تھی، جہاں ہمارے بینک جار میں ربا جمع ہو گیا، جسے ہم ضائع کرنا چاہتے ہیں۔ ہم فی الحال کھاتوں کے لیے کاغذی طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔ کیا ہم اس ربا کو استعمال کر کے لیپ ٹاپ میں اپ گریڈ کر سکتے ہیں۔ یہ کمیونٹی کی معلومات ذخیرہ کرنے کے لیے ہے۔ یہ لیپ ٹاپ کمیٹی کے لیے ہوگا اور ذاتی ملکیت کے لیے نہیں ہوگا۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

مسلم موت کمیٹی کے بینک اکاؤنٹ میں جو ربا (سود) جمع ہو گیا ہے، اسے شرعی طور پر خیرات کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ ناپاک مال ہے اور اسے اپنے ذاتی یا تنظیمی فائدے کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔

ربا کا شرعی حکم

ربا (سود) اسلام میں حرام ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے لینے والے کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے۔ سودی رقم کو اپنی ملکیت میں رکھنا یا اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ اسے خیرات کرنا ضروری ہے، لیکن یہ خیرات بھی ثواب کی نیت سے نہیں ہوگی بلکہ محض اس مال سے چھٹکارا پانے کے لیے ہوگی۔

کیا ربا سے کمیٹی کا لیپ ٹاپ خرید سکتے ہیں؟

آپ کی کمیٹی کے بینک اکاؤنٹ میں جو ربا جمع ہوا ہے، اسے کمیٹی کے کسی بھی کام میں استعمال کرنا جائز نہیں، خواہ وہ لیپ ٹاپ خریدنا ہو یا کوئی اور چیز۔ ربا کی رقم کو خیرات کرنا ضروری ہے، اور اسے کمیٹی کے اخراجات میں استعمال کرنا درست نہیں۔

ربا کی رقم کو خیرات کرنے کا طریقہ

ربا کی رقم کو خیرات کرتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:

  • یہ رقم کسی مستحق مسکین یا غریب کو بغیر ثواب کی نیت کے دی جائے۔
  • اس رقم کو کسی خیراتی ادارے کو بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن اسے صدقہ و خیرات کا نام نہ دیا جائے بلکہ صرف ربا سے چھٹکارا پانے کی نیت ہو۔
  • یہ رقم کمیٹی کے کسی بھی رکن کو ذاتی استعمال کے لیے نہیں دی جا سکتی۔

کمیٹی کے لیے لیپ ٹاپ خریدنے کا متبادل طریقہ

اگر کمیٹی کو لیپ ٹاپ کی ضرورت ہے تو اسے حلال رقم سے خریدا جائے۔ کمیٹی کے ممبران اپنی طرف سے چندہ کر سکتے ہیں یا کمیٹی کے دیگر حلال ذرائع سے رقم جمع کر سکتے ہیں۔ ربا کی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔

بہتر یہ ہے کہ ربا کی رقم کو فوری طور پر خیرات کر دیا جائے اور لیپ ٹاپ کے لیے علیحدہ سے حلال رقم کا انتظام کیا جائے۔

حوالہ جات

  • القرآن: سورة البقرة، آیت 275-279
  • صحيح البخاري: كتاب البيوع، باب الربا
  • فتاوى اللجنة الدائمة: فتوى رقم 12679

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.