Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

بیماری کی وجہ سے خود بخود الٹی اور دست آنا اور روزہ کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

، میں ایک عورت ہوں اور آج میں روزے سے ہوں۔ تاہم، صبح سے مجھے بار بار الٹی اور دست آ رہے ہیں۔ میں بہت کمزور محسوس کر رہی ہوں، سر میں درد ہے، اور متلی ختم نہیں ہو رہی۔ میں نے جان بوجھ کر الٹی نہیں کی؛ یہ خود بخود ہو رہی ہے۔ اس صورت حال میں: کیا میرا روزہ ٹوٹ گیا ہے؟ اگر میں بہت کمزور ہو جاؤں اور پانی یا او آر ایس پینے کے لیے روزہ توڑ دوں، تو کیا مجھے بعد میں صرف قضا کرنی ہوگی؟ شریعت کے مطابق اس معاملے میں صحیح حکم کیا ہے؟ میں قرآن و حدیث کی روشنی میں آپ کے جواب کی بہت قدر کروں گی۔ جزاکم اللہ خیراً۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

اللہ تعالیٰ نے روزہ فرض کیا ہے، لیکن بیمار اور کمزور افراد کے لیے شریعت نے رخصت دی ہے۔ آپ کی صورت حال میں خود بخود الٹی اور دست آنا روزہ نہیں توڑتا، جب تک کہ آپ منہ بھر کر قے نہ کریں یا جان بوجھ کر قے نہ لائیں۔ تاہم، اگر آپ کی کمزوری بڑھ جائے اور روزہ جاری رکھنا نقصان کا باعث ہو، تو آپ روزہ توڑ سکتی ہیں اور بعد میں صرف قضا کریں گی۔

خود بخود الٹی اور دست کا حکم

اگر قے خود بخود (بغیر ارادے کے) آ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا، خواہ وہ منہ بھر کر ہی کیوں نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ” (جسے خود بخود قے آ جائے تو اس پر قضا نہیں)۔ (سنن ترمذی، حدیث: 720) اسی طرح دست (اسہال) بھی روزہ نہیں توڑتا، کیونکہ یہ بیماری کی وجہ سے ہے۔

بیماری کی وجہ سے روزہ توڑنے کا حکم

اگر آپ اتنی کمزور ہو جائیں کہ روزہ رکھنا مشکل ہو یا بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہو، تو آپ روزہ توڑ سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ” (البقرہ: 184) یعنی جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزے رکھے۔ اس صورت میں صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔

عملی رہنمائی

  • اگر ممکن ہو تو روزہ جاری رکھیں، لیکن اگر شدید کمزوری یا پانی کی کمی ہو تو پانی یا ORS پی کر روزہ توڑ دیں۔
  • بعد میں جب صحت یاب ہو جائیں تو ایک روزے کی قضا رکھیں۔
  • اگر بیماری مستقل ہو یا صحت یابی کی امید نہ ہو تو فدیہ (صدقہ فطر) دینے کا حکم ہے، لیکن آپ کی صورت میں قضا کافی ہے۔

نوٹ

یہ جواب عمومی معلومات پر مبنی ہے۔ براہ کرم کسی مستند عالم یا مفتی سے تصدیق کر لیں۔

حوالہ جات

  • سنن ترمذی، حدیث: 720
  • القرآن الکریم، سورۃ البقرہ: 184
  • فتاویٰ ہندیہ، کتاب الصوم

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.