Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

بچپن میں اللہ سے کیے گئے وعدوں کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

السلام علیکم میرے پاس ایک سوال ہے جس کے بارے میں میں کچھ عرصے سے سوچ رہا ہوں۔ جب میں چھوٹا تھا تو میں نے اللہ سے ایک وعدہ کیا تھا غیر اہم اور غیر اہم وعدوں کے لیے جیسے یوٹیوب شارٹس دیکھنا اور دوسرے اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ صرف میرا چھوٹا ہونا تھا اور اس کے بارے میں اچھی طرح نہیں سوچا تھا۔ اگر میں یوٹیوب دیکھوں تو کیا مجھے ہر بار 3 دن روزے رکھنے کی ضرورت ہوگی یا یہ جان کر دیکھ سکتا ہوں کہ اللہ سمجھ جائے گا۔ میں حنفی مسلک کی پیروی کرتا ہوں۔ جزاک اللہ خیراً


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ نے جو سوال پوچھا ہے، اس کا تعلق اس وعدے (نذر) سے ہے جو آپ نے بچپن میں اللہ تعالیٰ سے کیا تھا کہ آپ یوٹیوب شارٹس نہیں دیکھیں گے۔ اب آپ اس معاملے میں الجھن میں ہیں کہ کیا اس وعدے کو توڑنے پر آپ پر کفارہ (تین دن کے روزے) لازم آئیں گے یا نہیں۔

نذر کی شرعی حیثیت

نذر (وعدہ) ایک شرعی عہد ہے، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط ہیں۔ حنفی مسلک کے مطابق، نذر صرف اس صورت میں پوری کرنا ضروری ہے جب وہ کسی نیک کام کے لیے ہو اور اس کا تعلق کسی گناہ یا مباح کام سے نہ ہو۔

بچپن میں کی گئی نذر کا حکم

آپ نے بتایا کہ آپ اس وقت 13-14 سال کے تھے اور بلوغت کو پہنچ چکے تھے۔ بلوغت کے بعد کی گئی نذر شرعی طور پر معتبر ہوتی ہے، لیکن اس کا انحصار نذر کی نوعیت پر ہے۔

  • اگر آپ نے یوٹیوب شارٹس نہ دیکھنے کی نذر مانی تھی، تو یہ ایک مباح (جائز) کام سے رکنے کا وعدہ تھا۔ حنفی فقہ میں مباح کام سے رکنے کی نذر پوری کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اسے توڑنے پر کفارہ بھی نہیں آتا۔
  • البتہ، اگر نذر کسی نیک کام کے کرنے کی تھی (جیسے نماز پڑھنا، روزہ رکھنا وغیرہ) تو اسے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

آپ کے لیے حکم

چونکہ آپ نے یوٹیوب شارٹس نہ دیکھنے کی نذر مانی تھی، جو کہ ایک مباح کام ہے، اس لیے آپ پر اس نذر کو توڑنے پر کوئی کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ آپ بغیر کسی گناہ کے یوٹیوب دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم، بہتر یہ ہے کہ آپ اللہ سے اپنی نذر کو پورا نہ کرنے پر معافی مانگیں اور آئندہ ایسی نذریں نہ مانیں جو غیر ضروری ہوں۔

نصیحت

بچپن میں کی گئی نذروں کے بارے میں زیادہ پریشان نہ ہوں، کیونکہ شریعت نے ان میں آسانی رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی نیت کو جانتا ہے اور وہ بندوں پر آسانی چاہتا ہے۔

حوالہ جات

  • الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الأیمان، باب النذر
  • فتاویٰ ہندیہ، کتاب النذر، الفصل الثالث فیما ینعقد بہ النذر

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.