Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
طالبِ علم کے لیے نمازِ جمعہ: اسکول کی وجہ سے چھوٹنے کا حکم - 12 سالہ بالغ طالبِ علم پر جمعہ فرض ہے۔ اسکول/حاضری عذر نہیں۔

سوال:

السلام علیکم۔ میری عمر 12 سال ہے، اور اسلام کے اعتبار سے میں بالغ ہو چکا ہوں۔ اسکول کی وجہ سے میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کر پاتا۔ مجھے جمعہ پڑھنے کے لیے اسکول سے بھاگنا پڑتا ہے۔ مجھے ان نتائج کا ڈر ہے جو اس وجہ سے پیش آ سکتے ہیں۔ میرے اس عمل سے میرے اور میرے والدین کے درمیان فتنہ پیدا ہو سکتا ہے، اسکول انتظامیہ سے مسائل ہو سکتے ہیں، اور دیگر مشکلات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں کیا میرے لیے جمعہ کی نماز چھوڑنا جائز ہے؟


جواب:

حکمِ نمازِ جمعہ برائے طالبِ علم (اسکول کی وجہ سے ترکِ جمعہ)

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد

فرضیتِ جمعہ اور ترک پر وعید

جب لڑکا بالغ، عاقل، مقیم ہو اور جمعہ کی شرائط پائی جائیں تو نمازِ جمعہ فرضِ عین ہے، اور بلاعذر اسے چھوڑنا سخت گناہ ہے۔
اسی بنا پر علمائے کرام نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ کالج/حاضری کی وجہ سے جمعہ ترک کرنا “قطعاً جائز نہیں”۔ (Banuri University)

اسی طرح ملازمت/ڈیوٹی کے اوقات کو بھی فی نفسہٖ ایسا عذر قرار نہیں دیا گیا کہ نماز (یا جماعت) معاف ہوجائے؛ مفتیانِ کرام نے صاف لکھا ہے کہ ملازمت یا ملازمت کے اوقات کی پابندی کوئی ایسا عذر نہیں کہ نماز معاف ہو جائے، اور جمعہ کی اہمیت و ترک پر وعیدیں بھی ذکر کیں۔
(Banuri University)

دین میں “نماز” بھی ضروری ہے اور “حکمت” بھی

شریعت کا مزاج یہ ہے کہ فرائض کی پابندی کے ساتھ ساتھ حکمت، حسنِ تدبیر، اور فتنہ و فساد سے بچاؤ بھی مطلوب ہے۔
لہٰذا جمعہ پڑھنے کی فکر بالکل درست ہے، مگر ہر دفعہ “بھاگ کر جانا” ایسا طریقہ نہ بنے جس سے گھر میں شدید جھگڑا، والدین سے بڑی بداعتمادی، یا اسکول میں ایسی بڑی خرابی پیدا ہو جس کا ازالہ مشکل ہو۔

اس کا صحیح راستہ یہ ہے کہ آپ حکیمانہ، جائز اور باقاعدہ تدبیر اختیار کریں—جس میں جھوٹ، دھوکا، اور غیر ضروری جھگڑے کی صورت نہ ہو۔

آپ کے لیے لائحۂ عمل

1) سب سے پہلی کوشش: اجازت اور نظم کے ساتھ جمعہ

  • اپنے والدین کو اعتماد میں لے کر اسکول انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت کی کوشش کریں۔
  • اپنے ساتھ اسکول میں پڑھنے والے دیگر بالغ طلباء کو ساتھ ملا کر اپنے شرعی مطالبہ کا وزن بڑھائیں تاکہ اسکول کی انتظامیہ اسے سنجیدگی سے غور کرکے حل کرے۔
  • اگر اسکول مسجد کے قریب ہو، تو اجازت کے ساتھ مسجد میں جا کر جمعہ ادا کرنا اصل اور بہتر ہے۔
  • اگر مسجد جانا ممکن نہ ہو مگر شرائط پوری ہوں اور عام اجازت/ادارہ کی اجازت ہو تو اسکول میں جمعہ قائم کرنے کی صورت بھی اہلِ علم نے ذکر کی ہے؛ علماء و مفتیان کرام نے بیان کیا کہ جمعہ کے لیے مسجد شرط نہیں، شہر/بڑی بستی میں جہاں عام اجازت ہو مسلمانوں کو نماز مِں شرکت کی جمعہ درست ہوسکتا ہے، اپنی تمام شرائط کے ساتھ، البتہ مسجد میں ادا کرنا بہتر ہے۔ (Banuri University)
  • دارالعلوم دیوبند کے فتاویٰ میں بھی ادارے کے اندر (پرنسپل/انتظامیہ کی اجازت اور موانعِ شرعی نہ ہوں تو) جمعہ قائم کرنے کی صورت کا ذکر ملتا ہے۔ (Darulifta Deoband)

2) اگر آپ والدین کو قائل نہیں کر پا رہے، نہ ساتھی بالغ لڑکوں کو ساتھ ملا کر اجازت ممکن ہے

اگر واقعی آپ کی کوشش کے باوجود:

  • والدین سمجھ نہ رہے ہوں،
  • آپ تنہا ہیں،
  • انتظامیہ اجازت نہیں دیتی،
  • اور ہر جمعہ “بھاگ کر جانا” بھی عملاً ممکن نہیں رہتا،

تو پھر آپ کا اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ آپ والدین سے مؤدبانہ انداز میں بات کریں کہ:

  • “اب میں شرعاً مکلف ہوں، جمعہ فرض ہے، اس کا ترک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔”
  • “ہمیں ایسا اسکول منتخب کرنا چاہیے جہاں جمعہ ادا کرنے میں رکاوٹ نہ ہو۔”

آپ انہیں نرمی، محبت اور سکون سے سمجھائیں، دل میں اللہ کا خوف تازہ کریں کہ:
قیامت کے دن اللہ کے سامنے جواب دہی ہے؛ دنیا کی تعلیم اپنی جگہ، مگر فرض نماز سے آپ کا مجھے روکنا بہت خطرناک ہے۔
(یہ بات کہتے وقت لہجہ نرم رکھیں، الزام اور بدتمیزی نہ ہو۔)

اصول یاد رکھیں: جس معاملے میں اللہ کی نافرمانی لازم آئے، وہاں کسی کی اطاعت جائز نہیں—خواہ وہ والدین ہوں یا اساتذہ۔
البتہ باقی تمام معاملات میں والدین و اساتذہ کی ادب و فرمانبرداری لازم ہے، اور اسی مسئلے میں بھی بدتمیزی، لڑائی، یا سخت لہجہ اختیار کرنا درست نہیں—بلکہ حکمت سے سمجھاتے رہیں۔

3) “ڈانٹ/قابلِ برداشت سزا” شرعی عذر نہیں

اگر “بھاگ کر جانے” میں کوئی ناقابلِ برداشت تکلیف یا حقیقی بڑا نقصان (مثلاً شدید خطرہ، یا ایسا ضرر جس کا آپ تحمل نہیں کرسکتے) کا سخت اندیشہ نہیں—اور صرف ڈانٹ ڈپٹ، ناراضی، یا ہلکی/قابلِ برداشت سزا کا خوف ہے—تو یہ عموماً شرعی عذر نہیں بنتا۔
اسی عمومی اصول کی بنا پر مقتدر علماء کرام نے “حاضری” جیسے عذر پر جمعہ ترک کو ناجائز کہا ہے۔ (Banuri University)

4) اگر واقعی “انتہائی مجبوری” ہو اور جمعہ کسی طرح ممکن نہ رہے

اگر ہر راستہ بند ہو جائے اور واقعی ایسی مجبوری ہو کہ جمعہ ادا کرنا ممکن نہیں (اور بڑے ضرر کا قوی اندیشہ ہے)، تو اہلِ علم نے لکھا ہے کہ ایسی انتہائی مجبوری میں ظہر ادا کر لی جائے، اور ساتھ توبہ و استغفار اور دعا کا اہتمام ہو۔

واللہ اعلم بالصواب
آللہ ہی سب سے بہتر سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔
Share it :
Marriage
Marriage

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

مارچ 23, 2026
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح اور موجودہ شادی کا شرعی حکم بغیر طلاق یا معتبر خلع کے دوسری شادی کا حکم: حنفی فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب کیا پہلا نکاح باقی ہو تو دوسرا نکاح درست ہوتا ہے؟ خلع، کنایۂ طلاق اور زبردستی نکاح کا شرعی جائزہ
مارچ 23, 2026
نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔ 37 اسی طرح ایک اور فتویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے، اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو انکار کا حق ہے، اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بنا پر اسے قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے، لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
مارچ 19, 2026
مارچ 16, 2026
حنفی فقہ کے مطابق خلع “عقدِ معاوضہ” ہے: واضح ایجاب و قبول کے بغیر خلع/تیسری طلاق نہیں ہوتی۔ خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق عموماً بائن، عدت لازم، اور واپسی کے لیے نیا نکاح ضروری ہوتا ہے۔
مارچ 4, 2026
جوانی میں خواہشِ نفس: استمناء کا حکم اور متبادل طریقے استمناء بالید: علماء کی آراء اور احتیاطی رہنمائی خود لذتی اور بغیر انزال چھیڑ چھاڑ: سوال و جواب
فروری 26, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کریڈٹ کارڈ رکھنا اور استعمال کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیا حرام کام کے معاہدہ کے بعد بھی کریڈٹ کارڈ جائز ہے؟
مارچ 23, 2026
Read More »
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح اور موجودہ شادی کا شرعی حکم بغیر طلاق یا معتبر خلع کے دوسری شادی کا حکم: حنفی فقہ کی روشنی میں تفصیلی جواب کیا پہلا نکاح باقی ہو تو دوسرا نکاح درست ہوتا ہے؟ خلع، کنایۂ طلاق اور زبردستی نکاح کا شرعی جائزہ
شوہرِ اول کے زندہ ہونے کی صورت میں دوسرا نکاح: خلع، فسخِ نکاح
مارچ 23, 2026
Read More »
نکاح کے معاملہ میں شریعت نے مرد و عورت کو پسند اور ناپسند کا پورا اختیار دیا ہے اور والدین کو جبر و سختی سے منع کیا ہے۔ دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی ترغیب دی کہ وہ والدین کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی قدم اٹھائیں۔ 37 اسی طرح ایک اور فتویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملے میں اولاد کی رضامندی لازم ہے، اگر والدین کسی غیرمناسب جگہ رشتہ تجویز کریں تو اولاد کو انکار کا حق ہے، اور اگر وہ اپنی ناگواری کے باوجود محض والدین کی رضاجوئی اور ان کے احترام کی بنا پر اسے قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کی مستحق ہے، لیکن اگر وہ قبول نہ کرے تو والدین کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں۔
والدین کی شدید مخالفت کے باوجود پسند کی شادی کرنا کیسا ہے؟ | خاندان نہ مانے تو کیا کروں؟
مارچ 19, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.