This page is also available in Urdu language.
یہ صفحہ اردو میں بھی موجود ہے۔ زبان کی تبدیلی کے لیے نیچے بٹن دبائیں۔
This page is also available in Urdu language.
یہ صفحہ اردو میں بھی موجود ہے۔ زبان کی تبدیلی کے لیے نیچے بٹن دبائیں۔
سوال:
حنفی فقہ کے مطابق میرا مسئلہ یہ ہے کہ:
- نکاح کے بعد ہم بستری/جماع سے پہلے میں نے اپنی بیوی کو دو الگ مواقع پر واضح لفظ “طلاق” کے ساتھ دو صریح طلاقیں دے دیں، یہ دونوں طلاقیں خلع کی کسی گفتگو یا مطالبے سے پہلے ہوئیں اور ہم بستری نہیں ہوئی؛ البتہ ہم ایسی تنہائی میں بوس و کنار کرچکے تھے کہ وہاں جماع بھی ممکن تھا لیکن ہم نے ہمبستری اب تک نہیں کی۔
- بعد میں ایک جھگڑے کے دوران میں نے میسج میں یہ لکھا
“I accept everything you say now / میں اس وقت آپ کی ہر بات مانتا/قبول کرتا ہوں”
جبکہ اس وقت بیوی نے خلع کا مطالبہ نہیں کیا تھا اور میری نیت بھی نکاح ختم کرنے یا خلع/طلاق قبول کرنے کی نہیں تھی بلکہ صلح مقصود تھی؛ پھر اس کے بعد بیوی نے خلع کا مطالبہ کیا اور بدلے میں انگوٹھی اور سونا واپس کرنے کی پیشکش کی حالانکہ مہر اسے اب تک ملا ہی نہیں تھا، اور خلع کے مطالبے کے بعد میں نے نہ طلاق دی اور نہ صراحتاً “میں خلع قبول کرتا ہوں” کہا۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ:
- کیا میرا پہلے والا جملہ خلع کی قبولیت شمار ہوگا اور اگر ہاں تو کیا وہ تیسری طلاق کے حکم میں آئے گا، اس صورت میں ہمارا نکاح باقی رہے گا یا ختم ہو چکا ہوگا؟
- نیز چونکہ ہم کبھی تنہائی میں رہے اور بوس و کنار/چھونا وغیرہ ہوا مگر جماع نہیں ہوا تو کیا اس سے خلوتِ صحیحہ/حکمِ دخول (جماع) ثابت ہوگا اور عدت لازم ہوگی یا نہیں؟
- اور اگر جدائی واقع ہو چکی ہو تو واپسی کے لیے رجوع ممکن ہے یا نیا نکاح ضروری ہوگا اور عدت کا کیا حکم ہوگا؟
- نیز صرف خلوتِ صحیحہ کے بعد بغیر ہم بستری دی گئی طلاق حنفی فقہ میں رجعی ہوتی ہے یا بائن اور کیا عدت کے دوران مزید طلاق واقع ہونے کا حکم بنتا ہے یا نہیں؟
جزاکم اللہ خیراً
جواب:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم
1) “I accept everything you say now”
مطالبہ خلع سے پہلے کہنا خلع کی قبولیت ہے؟
خلع “عقدِ معاوضہ” ہے، اس کے درست ہونے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کی رضامندی سے واضح ایجاب و قبول ضروری ہے؛ لہٰذا اگر اس وقت خلع کا مطالبہ/ایجاب سامنے ہی نہیں تھا اور شوہر نے بعد میں بھی صراحتاً خلع قبول نہیں کیا تو عمومی جملہ “میں آپ کی ہر بات مانتا ہوں” کو عرفاً/شرعاً خلع کا “قبول” نہیں بنایا جاتا، نتیجتاً اس سے نہ خلع واقع ہوگا اور نہ اسے تیسری طلاق کہا جائے گا۔ (Banuri University)
اہم نکتہ: خلع میں “قبولیت” اسی وقت معنی رکھتی ہے جب وہ خلع کے ایجاب کے جواب میں ہو (یعنی اسی معاملے پر شوہر نے واضح قبول کیا ہو)؛ محض عمومی، غیر متعلقہ یا پہلے سے کہا گیا جملہ (جب خلع کی بات ہی نہیں) خلع کا رکن نہیں بنتا۔ (Darulifta Deoband)
2) اگر (بالفرض) خلع مان بھی لیا جائے تو رشتہ باقی ہے یا ختم؟
اصولی قاعدہ یہ ہے کہ خلع شوہر کی قبولیت کے بغیر واقع نہیں ہوتا؛ لہٰذا آپ کی بیان کردہ صورت میں (جہاں آپ نے خلع کے بعد بھی صراحتاً قبول نہیں کیا) خلع کی وجہ سے نکاح ختم نہیں سمجھا جائے گا۔ (Banuri University)
اور اگر کسی صورت میں واقعی خلع صحیح طور پر منعقد ہو جائے (واضح ایجاب و قبول کے ساتھ) تو خلع کے نتیجے میں ایک طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے اور نکاح ختم ہو جاتا ہے (بینونتِ صغری/کبری کا حکم سابقہ طلاقوں کے لحاظ سے آگے چلتا ہے)۔ (Banuri University)
3) خلوتِ صحیحہ/حکمِ دخول اور عدت کا حکم (جماع نہیں ہوا، لیکن تنہائی و بوس و کنار ہوا)
نکاح کے بعد اگر ایسی تنہائی ہو جائے جس میں جماع ممکن ہو (کوئی شرعی/طبعی رکاوٹ نہ ہو) تو یہ خلوتِ صحیحہ کہلاتی ہے، اور پھر اگر طلاق دی جائے تو عموماً:
- طلاق واقع تو ہو جاتی ہے،
- اور عدت بھی لازم ہوتی ہے (اگر خلوتِ صحیحہ ثابت ہو)۔ (Banuri University)
آپ کے بیان (“ایسی تنہائی میں بوس و کنار کہ جماع ممکن تھا مگر نہیں ہوا”) سے عمومی طور پر خلوتِ صحیحہ ہی بنتی ہے، تاہم عملی فتویٰ میں کبھی کبھار “رکاوٹ/مانع” کی جزئیات فرق ڈال دیتی ہیں، اس لیے اس نکتے کی تطبیق مفتی صاحب آپ کی مکمل صورت حال سن کر فائنل کرتے ہیں۔ (Darulifta Deoband)
4) اگر جدائی (طلاقِ بائن یا خلع) واقع ہو چکی ہو تو رجوع ہوگا یا نیا نکاح؟ عدت کیا ہوگی؟
طلاقِ بائن (اور خلع بھی چونکہ بائن کے حکم میں ہے) کے بعد رجوع نہیں ہوتا؛ واپسی کی ایک ہی صورت ہے کہ دونوں کی رضامندی سے نیا نکاح اور نیا مہر ہو۔ (Banuri University)
عدت کے بارے میں:
5) خلوتِ صحیحہ کے بعد بغیر جماع طلاق: رجعی یا بائن؟ اور عدت میں مزید طلاق کا اثر؟
“نکاح کے بعد، رخصتی/ہم بستری سے پہلے، لیکن خلوتِ صحیحہ کے بعد” طلاق کو طلاقِ بائن قرار دیا گیا ہے؛ لہٰذا اس میں رجوع کے بجائے تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے، اور عدت بھی لازم ہوتی ہے۔ (Banuri University)
اسی باب میں“خلوتِ صحیحہ کی عدت کے دوران مزید طلاق” کے واقع ہونے کی تصریحات/ترجیحات بھی ملتی ہیں، یعنی عدت میں صریح طلاق دی جائے تو وہ بھی واقع ہوجاتی ہے۔ (جامعہ فاروقیہ، کراچی – Jamia Farooqia)
آپ کی مخصوص صورت پر “ان ہی اصولوں” کا نتیجہ (آپ کے بیان کے مطابق)
- آپ کا “میں تمہاری ہر بات کو قبول کرتا ہوں…” والا جملہ—چونکہ خلع کے مطالبے سے پہلے تھا اور خلع کے جواب میں صریح قبولیت نہیں پائی گئی توشریعت کی تعلمات اور حنفی فقہ کی روشنی میں خلع کی قبولیت نہیں بنتا، اس لیے تیسری طلاق بھی لازم نہیں آتی۔ (Banuri University)
- اصل شمار آپ کی دو صریح طلاقوں کا ہے؛ اور جب خلوتِ صحیحہ ثابت ہے (جیسا کہ آپ نے تنہائی میں بوس و کنار کا ذکر کیا) تو آپ کے پہلی طلاق دیتے ہی طلاق بائن (جس میں رجوع ممکن نہیں ہوتا اور نیا نکاح ہی نئے مہر اور گواہان کے سامنے کرنا پڑتا ہے، وہ) واقع ہوچکی ہے اور اس طلاق کی عدت میں صریح الفاظ میں دی گئی دوسری طلاق بھی واقع ہوچکی ہے۔ لہٰذا اب: (Banuri University)
- اب آپ کے پاس صرف ایک ہی طلاق کا اختیار ہے۔
- وہ ابھی آپ کے نکاح میں نہیں ہے اورآپ دونوں ایک دوسرے کےلئے شریعت کی نظر میں نامحرم (اجنبی) ہیں۔
- عدت گزارنے کے بعد وہ جہاں نکاح کرنا چاہے کرسکتی ہے۔ آپ سے نکاح کرنا لازمی نہیں ہے۔ نہ ہی آپ کی اجازت کی اسے ضرورت ہے۔
- اگر آپ دونوں دوبارہ ساتھ رہنے کے لئے راضی ہیں اور امید ہے کہ آئندہ حدود شریعت کا پاس رکھ سکیں گے تو دوبارہ نئے سرے سے نکاح نئے مہر کے ساتھ نکاح کی شرائط پر نکاح کرسکتے ہو۔ البتہ نئے نکاح میں پہلے کی طرح کا بھاری مہر رکھنا ضروری نہیں، مگر مہر کی کم سے کم مقدار متعین ہے، اور وہ ہے 2 تولہ ساڑھے 7 ماشہ (تقریباً 30.618 گرام)۔ لہٰذا تقریبًا 31گرام چاندی یا اس کی قیمت بطور مہر مقرر کرکے گواہان کے سامنے ایجاب و قبول کرنے سے آپ دونوں دوبارہ میاں بیوی بن جائے گے۔
- دوبارہ نکاح کی صورت میں آپ کے پاس صرف تیسری اور آخری طلاق کا اختیار ہوگا، اگر وہ کبھی دے دی تو واپسی کی کوئی صورت شریعت میں مقرر نہیں ہے کہ جسے باقاعدہ طے کرکے آپ دوبارہ نکاح کرسکیں۔ لہٰذا بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ، اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ