Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

اسلام میں غلامی: اموی خلافت اور برصغیر میں رواج

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

میں اسلام میں غلامی (Slavery) کے بارے میں سوال رکھنا چاہتا ہوں، خاص طور پر *اموی خلافت* اور *مسلمانوں کے زیرِ حکومت برِصغیر (ہندوستان)* میں غلامی کے رواج کے بارے میں۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

اسلام میں غلامی کا تصور اور اس کا تاریخی پس منظر ایک اہم موضوع ہے۔ آپ نے خاص طور پر اموی خلافت اور برصغیر میں غلامی کے رواج کے بارے میں پوچھا ہے۔ ذیل میں اس موضوع پر ایک جامع جواب پیش کیا جا رہا ہے۔

اسلام میں غلامی کا بنیادی تصور

اسلام نے غلامی کو ختم کرنے کے بجائے اسے بتدریج ختم کرنے اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیا۔ قرآن و حدیث میں غلاموں کے حقوق، ان کی آزادی کے طریقے (مثلاً کفارہ، مکاتبت) اور ان کے ساتھ نرمی برتنے کی تاکید کی گئی ہے۔

اموی خلافت میں غلامی کا رواج

اموی خلافت (661-750 عیسوی) میں غلامی کا رواج موجود تھا، لیکن یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تھا۔ غلامی کے ذرائع عموماً جنگی قیدی، خرید و فروخت، اور پیدائشی غلامی تھے۔ اموی دور میں غلاموں کی تعداد میں اضافہ ہوا، خاص طور پر فتوحات کے نتیجے میں۔ تاہم، اسلامی اصولوں کے تحت غلاموں کے ساتھ سلوک میں بہتری آئی اور انہیں مذہبی، معاشی اور سماجی حقوق دیے گئے۔

برصغیر (ہندوستان) میں مسلم حکومت میں غلامی

برصغیر میں مسلم حکومت (مثلاً سلطنت دہلی، مغلیہ سلطنت) کے دوران بھی غلامی کا رواج رہا۔ یہاں غلامی کے ذرائع میں جنگی قیدی، خرید و فروخت، اور مقامی رسم و رواج شامل تھے۔ تاہم، مسلم حکمرانوں نے غلاموں کو فوج، انتظامیہ اور گھریلو کاموں میں استعمال کیا۔ کچھ غلام اعلیٰ عہدوں پر بھی پہنچے، جیسے سلطنت دہلی کے غلام خاندان (مملوک سلطنت)۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق غلاموں کے ساتھ سلوک میں نرمی اور ان کی آزادی کے مواقع فراہم کیے گئے۔

نتیجہ

اسلام نے غلامی کو ختم کرنے کے بجائے اسے منظم کیا اور غلاموں کے حقوق دیے۔ تاریخی طور پر اموی خلافت اور برصغیر میں غلامی کا رواج اسلامی اصولوں کے مطابق تھا، لیکن عملی طور پر کچھ زیادتیاں بھی ہوئیں۔ بہتر ہے کہ اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے کسی مستند عالم سے رجوع کیا جائے۔

حوالہ جات

  • قرآن مجید: سورہ البقرہ، سورہ النور، سورہ محمد
  • صحیح بخاری: کتاب العتق
  • تاریخ طبری: اموی دور کے واقعات
  • برصغیر میں غلامی پر: کتاب "ہندوستان میں غلامی” از ڈاکٹر مبارک علی

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم

دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ

بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی

ایک 18 سالہ مسلمان کے لیے فقہ الاولویات کی روشنی میں ترجیحات کا تعین

حج کے بعد بھورے مادے کی حالت میں طواف وداع کا حکم

والد کا درگاہ سے لائے گئے پھول موٹر سائیکل پر رکھنا اور بیٹے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم
جون 22, 2026
Read More »
دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ
جون 22, 2026
Read More »
بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی
جون 22, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.