Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Language Block

This page is also available in Urdu language.

یہ صفحہ اردو میں بھی موجود ہے۔ زبان کی تبدیلی کے لیے نیچے بٹن دبائیں۔

Read in English اردو میں پڑھیں

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا طلاق کے بارے میں ایک سوال ہے۔ میں نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی کیونکہ میں اس سے محبت نہیں کرتی تھی، اور ہماری شادی نفسیاتی تشدد کی وجہ سے چل نہیں رہی تھی جسے میں مزید برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ جب میں نے طلاق کا مطالبہ کیا تو وہ راضی ہو گیا، اور مہر جو میرا حق تھا وہ مجھے کبھی نہیں دیا گیا۔ میں نے اسے کہا کہ وہ اسے رکھ سکتا ہے۔ میں جاننا چاہتی ہوں: مجھے دوبارہ شادی کرنے سے پہلے کتنا انتظار کرنا چاہیے؟ کیا مجھے تین مکمل حیض کے چکر (عدت) کا انتظار کرنا چاہیے، یا میں صرف ایک حیض کے بعد دوبارہ شادی کر سکتی ہوں؟ میں آپ سے اس معاملے میں آپ کی شریعت کی رہنمائی کی درخواست کرتی ہوں۔ اللہ آپ کو جنت الفردوس سے نوازے۔


جواب:

بِسْمِ اللہ الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ نے اپنے شوہر سے طلاق لی ہے اور شوہر نے اس پر رضامندی ظاہر کی ہے، شرعی اصطلاح میں اسے "خلع” کہا جاتا ہے۔ خلع دراصل ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں بیوی اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے کچھ معاوضہ دیتی ہے ۔ آپ نے مہر کا معاوضہ معاف کر دیا جو کہ خلع کی ایک صورت ہے۔

ذیل میں آپ کے سوال کے مختلف پہلوؤں کو جزئیات کی شکل میں تقسیم کر کے ان کے جوابات دیے جا رہے ہیں۔

کیا خلع کے بعد عدت واجب ہے؟

ہاں، اگر شوہر سے خلوتِ صحیحہ (رخصتی یا صحبت) ہو چکی تھی تو خلع کے بعد عدت گزارنا واجب ہے۔

  • خلع کو شرعاً طلاقِ بائن ہی تصور کیا جاتا ہے، اس لیے اس کے بعد عدت واجب ہوتی ہے .
  • فتاوی ہندیہ اور الحاوی القدسی جیسی کتبِ فقہ میں صراحت ہے کہ خلع میں عدت وہی ہے جو طلاق میں ہوتی ہے .
  • البتہ، اگر رخصتی (صحبت) سے پہلے خلع لیا جائے تو اس صورت میں عدت واجب نہیں ہوتی .

عدت کی مدت کتنی ہے؟

 آپ کی عدت کی مدت کا تعین آپ کی حالت کے لحاظ سے کیا جائے گا:

  • اگر مطلقہ کو حیض آتا ہے:
    آپ پر تین مکمل حیض عدت گزارنا لازم ہے . قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ (سورۃ البقرۃ: 228)

ترجمہ: اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو (نکاح سے) روکے رکھیں تین حیض تک۔ 

  • اگر حیض آتا ہی نہیں یا بند ہوچکا ہے:
    اگر آپ یائسہ (ایسی عمر میں جہاں حیض نہ آتا ہو) ہیں، یا ابھی تک آپ کو حیض آیا ہی نہیں ہے تو آپ کی عدت تین ماہ ہے . اگر پہلی تاریخ کو طلاق ہوئی تو قمری مہینوں کے حساب سے اور اگر درمیان میں طلاق ہوئی تو 90 دن پورے گننے ہوں گے .
  • اگر مطلقہ حاملہ ہے:
    اگر آپ حمل سے ہیں تو آپ کی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش) تک ہے، خواہ طلاق کے فوراً بعد بچہ پیدا ہو جائے .

نوٹ: آپ نے اپنے شوہر سے نفسیاتی تشدد کا ذکر کیا ہے، لیکن اس کا عدت کی مدت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ عدت اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اس کی حکمتیں ہیں، جن میں رحم کی پاکیزگی کا یقین کرنا اور رشتۂ نکاح کی عظمت کا اظہار شامل ہے . اور ایک مسلمان کے لئے صرف اتنی وجہ ہی کافی ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔

کیا صرف ایک حیض کے بعد شادی کر سکتی ہوں؟

ہرگز نہیں۔ اگر آپ حیض والی عورتوں میں سے ہیں تو آپ کے لیے تین مکمل حیض گزارنے کے بعد ہی دوسری شادی کرنا جائز ہو گا۔

  • صرف ایک حیض گزار کر شادی کرنا شرعاً ناجائز اور گناہ ہے .
  • اگر طلاق (یا خلع) کے بعد دورانِ عدت نکاح کر لیا جائے تو وہ نکاح باطل ہو گا .

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَلاَ تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَهٗ

ترجمہ: اور (اس دوران) عقدِ نکاح کا پختہ عزم نہ کرو یہاں تک کہ مقررہ عدت اپنی انتہا کو پہنچ جائے۔ (البقرۃ: 235)

لہذا، تین حیض مکمل ہونے سے پہلے کسی دوسرے مرد کو نکاح کا پیغام دینا بھی جائز نہیں، البتہ دل میں ارادہ کرنا قابلِ مواخذہ نہیں.

خلاصہ و نتیجہ

آپ کے لیے شریعتِ مطہرہ کا حکم درج ذیل ہے:

  1. عدت واجب ہے: چونکہ آپ کی رخصتی ہو چکی تھی، اس لیے خلع کے بعد آپ پر عدت گزارنا لازم ہے .
  2. عدت کی مدت: آپ کو تین مکمل حیض گزرنے تک انتظار کرنا ہو گا۔ اس دوران آپ نہ تو خود نکاح کر سکتی ہیں اور نہ ہی کوئی نکاح کا پیغام قبول کر سکتی ہیں .
  3. عدت کے دیگر احکام: عدت کے دوران زیب و زینت (بناؤ سنگار، خوشبو وغیرہ) سے اجتناب کرنے کا حکم ہے، خصوصاً عدتِ وفات اور طلاق بائن میں تو یہ ضروری ہے، تاہم طلاق رجعی میں شوہر کو رجوع پر آمادہ کرنے کے لئے بناو سنگھار کرنا افضل ہے. نیز، عدت کا زیادہ تر حصہ اسی گھر میں گزارنا چاہیے جہاں طلاق کے وقت آپ مقیم تھیں، بلا ضرورت باہر نکلنا درست نہیں۔ لیکن اگر وہاں رہن سہن شوہر اور مردوں کے سامنا کیے بغیر یا کسی اور گناہ اور مفاسد کے بغیر بہت مشکل ہو تو پھر کسی اور ایسی جگہ منقتل ہوجائیں جہاں آپ عدت کے اختتام تک گھر میں ہی قیام کرسکیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کو اس مشکل گھڑی میں صبرِ جمیل عطا فرمائے اور آئندہ زندگی کو خیر و برکت والی بنائے۔ آمین۔

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ، اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

مارچ 16, 2026
حنفی فقہ کے مطابق خلع “عقدِ معاوضہ” ہے: واضح ایجاب و قبول کے بغیر خلع/تیسری طلاق نہیں ہوتی۔ خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق عموماً بائن، عدت لازم، اور واپسی کے لیے نیا نکاح ضروری ہوتا ہے۔
مارچ 4, 2026
جوانی میں خواہشِ نفس: استمناء کا حکم اور متبادل طریقے استمناء بالید: علماء کی آراء اور احتیاطی رہنمائی خود لذتی اور بغیر انزال چھیڑ چھاڑ: سوال و جواب
فروری 26, 2026
فقہِ شافعی کے مطابق وضو کے وسوسے، حرکت سے رطوبت، اور حیض کے آخری دنوں میں پانی/پانی مائل خون
فروری 26, 2026
اگر عادت مقرر نہ ہو اور خون 3 دن سے ہو تو شرعی حکم کیا بنتا ہے؟ حیض کی مدت، استحاضہ میں وضو، اور ضروری احتیاطیں۔
فروری 26, 2026
طالبِ علم کے لیے نمازِ جمعہ: اسکول کی وجہ سے چھوٹنے کا حکم - 12 سالہ بالغ طالبِ علم پر جمعہ فرض ہے۔ اسکول/حاضری عذر نہیں۔
فروری 25, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

مہر کے عوض لی گئی طلاق کے بعد کتنی عدت گزارنا لازم ہے؟
مارچ 16, 2026
Read More »
حنفی فقہ کے مطابق خلع “عقدِ معاوضہ” ہے: واضح ایجاب و قبول کے بغیر خلع/تیسری طلاق نہیں ہوتی۔ خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق عموماً بائن، عدت لازم، اور واپسی کے لیے نیا نکاح ضروری ہوتا ہے۔
دو طلاقیں قبلِ جماع، مطالبہ خلع سے پہلے قبول کا حکم، خلوتِ صحیحہ اور عدت
مارچ 4, 2026
Read More »
جوانی میں خواہشِ نفس: استمناء کا حکم اور متبادل طریقے استمناء بالید: علماء کی آراء اور احتیاطی رہنمائی خود لذتی اور بغیر انزال چھیڑ چھاڑ: سوال و جواب
نکاح کی طاقت نہ ہو تو بھی ہینڈپریکٹس جائز نہیں؟
فروری 26, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.