Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

This page is also available in English language.

یہ صفحہ انگریزی میں بھی موجود ہے۔ زبان کی تبدیلی کے لیے نیچے بٹن دبائیں۔

اردو میں پڑھیں
Read in English

سوال:

میں کینیڈا میں رہ رہا ہوں۔ براہ کرم مجھے بتائیں کہ کس حالتوں میں یہاں کینیڈا میں رہتے ہوئے پاکستان میں قربانی جائز ہے۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

واضح رہے کہ آدمی کا اپنی قربانی کسی دوسرے ملک میں وکیل کے ذریعہ کروانا فی نفسہٖ جائز ہے؛ یعنی کینیڈا میں مقیم شخص پاکستان میں کسی فرد، ادارے یا رشتہ دار کو اپنی طرف سے قربانی کا وکیل بنا سکتا ہے۔ البتہ قربانی کے صحیح ہونے کے لیے چند شرائط کا لحاظ ضروری ہے۔

ایک ملک میں رہ کر کسی دوسرے ملک میں قربانی کی شرائط

قربانی ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو صاحب نصاب ہو، یعنی جس کے پاس ضرورت سے زائد اتنا مال ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ یہ شرط آپ پر بھی لاگو ہوتی ہے چاہے آپ کینیڈا میں رہتے ہوں۔

پاکستان میں قربانی کی اجازت کی شرائط

  • اول: قربانی کرنے والے شخص کی طرف سے اجازت اور نیت پائی جائے۔ اگر کوئی شخص کسی کی اجازت کے بغیر اس کی طرف سے قربانی کرے تو واجب قربانی ادا نہیں ہوگی؛ اس لیے پاکستان میں جس شخص یا ادارے کو قربانی کی رقم دی جائے، اسے واضح طور پر بتایا جائے کہ یہ قربانی فلاں شخص کی طرف سے ہے۔ بنوری ٹاؤن کے قربانی کے مسائل میں بھی اجازت کے بغیر کسی کی طرف سے قربانی کرنے کو معتبر نہیں قرار دیا گیا ہے۔
  • دوم: اگر قربانی بڑے جانور، مثلاً گائے، بیل، بھینس یا اونٹ میں حصہ کے طور پر ہو تو حصہ متعین ہو، اور تمام شرکاء کی نیت قربانی یا شرعی نیت کی ہو؛ صرف گوشت کی نیت سے شریک ہونے والے کی وجہ سے دوسروں کی قربانی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
  • سوم: پاکستان میں جانور شرعی وقت کے اندر ذبح کیا جائے۔ فقہِ حنفی کے مطابق قربانی کا وقت 10 ذی الحجہ کو عید کی نماز کے بعد سے 12 ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے تک ہے؛ البتہ جس جگہ عید کی نماز واجب نہیں، جیسے دیہات، وہاں 10 ذی الحجہ کی صبح صادق کے بعد قربانی درست ہے۔
  • چہارم: چونکہ قربانی کروانے والا کینیڈا میں ہے اور جانور پاکستان میں ذبح ہوگا، اس لیے احتیاطاً اور دارالافتاء بنوری ٹاؤن و دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ کے مطابق ذبح کے وقت دونوں جگہوں یعنی کینیڈا اور پاکستان میں ایامِ قربانی کا ہونا ضروری ہے۔ اگر پاکستان میں قربانی کا دن ہو، لیکن کینیڈا میں ابھی 10 ذی الحجہ شروع نہ ہوئی ہو، تو اس وقت ذبح کرنے سے اس شخص کی واجب قربانی ادا نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کینیڈا میں ایامِ قربانی ختم ہوچکے ہوں، تو بعد میں پاکستان میں ذبح کرانے سے بھی واجب قربانی ادا نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ باقی شرائط قربانی ویسے ہی لاگو ہونگی جیسے کہ اپنے ملک میں قربانی کرنے میں لاگو ہوتی ہیں۔ مثلًا: جانور کی عمر اور عیب سے پاک ہونے اور حلال مال سے صحیح نیت کے ساتھ اور مسلمان کے ہاتھ سے بسم اللہ کے ساتھ ذبح کرنے کی شرائط وغیرہ۔

دوسرے ملک میں قربانی کی عملی صورت

اور اگر دونوں ملکوں میں عید کے دن میں فرق ہو، تو قربانی ایسے وقت کروائی جائے جب کینیڈا میں بھی قربانی کا دن ہو اور پاکستان میں بھی قربانی کا دن ہو۔ مثلاً اگر پاکستان میں عید پہلے ہو اور کینیڈا میں ابھی 9 ذی الحجہ ہو، تو پاکستان میں اسی وقت ذبح کرانا درست نہیں؛ بلکہ انتظار کیا جائے یہاں تک کہ کینیڈا میں بھی 10 ذی الحجہ داخل ہوجائے، پھر پاکستان میں شرعی وقت کے اندر قربانی کروائی جائے۔ علمائے کرام نے اسی اصول کو “مشترک دن قربانی کروانا” کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔

خلاصہ حکم

کینیڈا میں رہتے ہوئے پاکستان میں قربانی کروانا جائز ہے، بشرطیکہ:

  1. آپ اپنی طرف سے قربانی کی اجازت/وکالت دے دیں؛
  2. جانور یا حصہ آپ کے نام سے متعین ہو؛
  3. پاکستان میں جانور شرعی وقت میں ذبح کیا جائے؛
  4. ذبح کے وقت کینیڈا اور پاکستان دونوں جگہ ایامِ قربانی موجود ہوں؛
  5. شہر میں جانور ہو تو عید کی نماز کے بعد ذبح کیا جائے، اور دیہات میں ہو تو صبح صادق کے بعد ذبح درست ہے۔

لہٰذا کینیڈا سے پاکستان میں قربانی کرواتے وقت ادارے یا وکیل کو خاص طور پر تاکید کردی جائے کہ قربانی ایسے وقت کی جائے جب کینیڈا میں بھی 10، 11 یا 12 ذی الحجہ ہو، اور پاکستان میں بھی قربانی کا شرعی وقت باقی ہو۔

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

Share it :
Muhammad Yaseen
Muhammad Yaseen

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Popular Categories

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Faith & Beliefs

Ask a Mufti Online

Get clear, reliable answers to your Shariʿah questions from qualified scholars.

Drop Your Question Here!

Newsletter

Get free tips and resources right in your inbox, along with 10,000+ others

Latest Post

مئی 21, 2026
مئی 21, 2026
مئی 16, 2026
مئی 16, 2026
اپریل 29, 2026
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
اپریل 29, 2026

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

کینیڈا میں رہتے ہوئے پاکستان میں قربانی کے احکام
مئی 21, 2026
Read More »
شوہر کے لئے بیوی کا زیر جامہ (انڈرویئر) پہننا کیسا ہے؟
مئی 21, 2026
Read More »
خلع اور استخارہ کے بعد خواب کی تعبیر
مئی 16, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.