Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

فون کال اور میسج پر طلاق کا حکم اور رجوع کا طریقہ

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

السلام علیکم مفتی صاحب، مجھے ایک بہت اہم مسئلہ پوچھنا ہے نکاح اور طلاق کے بارے میں۔ براہ کرم میری مدد فرمائیں۔ میرا نکاح 2024 میں پرائیویٹلی ہوا تھا۔ نکاح کے وقت: * میرے شوہر کے 2 دوست گواہ تھے * ان میں سے ایک نے وکیل کا رول بھی کیا (میری طرف سے) * نکاح پروپرلی ہوا تھا نکاح کے بعد ہماری پروپر رخصتی نہیں ہوئی تھی، اور ہم زیادہ ساتھ نہیں رہے کیونکہ میرے شوہر امریکہ میں ہیں۔ کچھ مہینے بعد ایک جھگڑا ہوا، جس میں میرے شوہر نے فون کال پر غصے میں کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" میں نے کال کٹ کر دی، اس کے بعد انہوں نے میسج میں بھی "طلاق" 3 بار لکھ کر بھیجا، جو میں نے پڑھ لیا۔ اس وقت میں کنفیوز ہو گئی تھی، اور میں نے مختلف علماء کی ویڈیوز دیکھیں۔ ایک جگہ سنا کہ اگر 3 طلاق الگ الگ سچوئیشنز میں ہوں تو رجوع ہو سکتا ہے، اس لیے میں نے اپنے شوہر کو معاف کر دیا اور ہم نے دوبارہ نکاح نہیں کیا، صرف زبانی طور پر صلح کر لی۔ 2024 سے اب تک (2026)، ہم نے کچھ دفعہ ہسبنڈ وائف والی ملاقات بھی کی ہے۔ اب مجھے بہت شک ہو رہا ہے: 1. کیا اس وقت طلاق واقع ہو گئی تھی؟ اگر ہاں، تو کتنی (1 یا 3)؟ 2. اگر طلاق ہو گئی تھی، تو کیا ہمارا نکاح اس وقت ختم ہو گیا تھا؟ 3. اگر نکاح ختم ہو گیا تھا، تو جو ہم نے بعد میں رلیشن رکھا، کیا وہ ناجائز (حرام) تھا؟ 4. اگر صرف 1 طلاق ہوئی تھی، تو کیا بنا نیا نکاح کیے رجوع ہو گیا تھا یا نیا نکاح ضروری تھا؟ 5. اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے؟ براہ کرم میری پوری صورتحال کو دیکھ کر رہنمائی فرمائیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ جزاک اللہ خیر


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ نے جو صورتحال بیان کی ہے، اس میں کچھ اہم نکات ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔ براہ کرم درج ذیل تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

طلاق کے الفاظ کا حکم

شوہر کا فون کال پر غصے میں یہ کہنا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” اور پھر میسج میں تین بار "طلاق” لکھنا، یہ سب صریح الفاظ ہیں۔ صریح الفاظ سے طلاق واقع ہونے کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ان الفاظ کے کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟

آپ کے شوہر نے فون کال پر ایک بار اور میسج میں تین بار طلاق کا لفظ استعمال کیا۔ تاہم، ایک مجلس میں ایک سے زیادہ طلاقیں دینے کا حکم یہ ہے کہ اگر ایک ہی موقع پر (مثلاً ایک ہی کال یا ایک ہی میسج میں) تین طلاقیں دی جائیں تو تینوں واقع ہو جاتی ہیں اور نکاح ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ کے معاملے میں فون کال اور میسج الگ الگ مواقع ہیں؟ اگر یہ ایک ہی جھگڑے کے دوران تھے اور ایک ہی مجلس میں شمار ہوتے ہیں تو تین طلاقیں واقع ہوئیں۔ اگر الگ الگ مواقع ہیں تو پہلی طلاق (فون کال) ایک طلاق شمار ہوگی، اور میسج میں تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوں گی، لیکن چونکہ پہلی طلاق کے بعد عدت میں رجوع کا موقع تھا، اس لیے تفصیل جاننا ضروری ہے۔

بہرحال، آپ کے شوہر نے میسج میں تین بار طلاق لکھا، جسے آپ نے پڑھ لیا۔ اگر یہ تینوں ایک ہی میسج میں تھے یا ایک ہی سلسلے میں، تو تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔ اس صورت میں نکاح فوراً ختم ہو گیا۔

کیا نکاح ختم ہو گیا تھا؟

اگر تین طلاقیں واقع ہوئیں تو نکاح ختم ہو گیا تھا اور آپ دونوں کے درمیان ازدواجی تعلقات حرام ہو گئے تھے۔ اس کے بعد جو بھی ملاقاتیں ہوئیں، وہ ناجائز تھیں اور ان پر توبہ و استغفار ضروری ہے۔

رجوع کا حکم

اگر صرف ایک یا دو طلاقیں واقع ہوئی ہوں تو عدت کے دوران رجوع کیا جا سکتا ہے، لیکن آپ نے عدت میں رجوع نہیں کیا بلکہ صرف زبانی صلح کی۔ زبانی صلح سے رجوع نہیں ہوتا، رجوع کے لیے یا تو زبانی طور پر کہنا کہ "میں نے رجوع کیا” یا پھر ازدواجی تعلقات قائم کرنا ضروری ہے۔ آپ نے عدت میں ازدواجی تعلقات قائم نہیں کیے، اس لیے رجوع نہیں ہوا۔

اب کیا کریں؟

آپ کی صورتحال میں غالب امکان یہ ہے کہ تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، اس لیے نکاح ختم ہو چکا ہے۔ اب دوبارہ نکاح صرف اس صورت میں ممکن ہے جب آپ عدت گزار کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کریں اور وہ طلاق دے دے (حلالہ)۔ لیکن یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے اور اس میں احتیاط ضروری ہے۔

لہٰذا، آپ کسی مستند مفتی صاحب سے ذاتی طور پر رابطہ کریں اور پوری تفصیل بتائیں تاکہ وہ صحیح فیصلہ کر سکیں۔ اس دوران دونوں ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ رہیں اور توبہ کریں۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 229-230
  • صحیح بخاری، کتاب الطلاق
  • فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.