Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

PESA + IVF علاج اور لیب میں اختلاط کا مسئلہ

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

میں بچہ حاصل کرنے کے لیے PESA + IVF علاج کے عمل میں ہوں، کیا یہ اسلام میں جائز ہے، ہم نے درخواست کی ہے کہ ڈونر کا راستہ نہ اپنایا جائے کیونکہ یہ حرام ہے، تو علاج شروع ہو گیا ہے اب کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ دوسرا مکس کرتے ہیں اس لیے یہ حرام ہے علاج نہ کرو لیکن مکس کرنے کا کوئی ثبوت یا دلیل نہیں ہے لیکن وہ مجھ سے بحث کرتے ہیں کہ تم لیب میں چیک نہیں کرنے جا رہے کہ آیا یہ تمہارا ہے اس صورت میں ہم ان کی لیب میں جا کر تصدیق نہیں کر سکتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں میری معلومات کے مطابق وہ مکس نہیں کر سکتے کیونکہ انہوں نے واضح طور پر ہمارے کاغذات پر وکیل کے ساتھ دستخط کیے ہیں، کیا آپ مجھے کوئی حل دے سکتے ہیں۔ اگر ہم لیب کے اندر کچھ نہیں دیکھ سکتے تو میں کیا کروں۔


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ نے بچہ حاصل کرنے کے لیے PESA + IVF علاج شروع کیا ہے اور ڈونر سے گریز کیا ہے، جو شرعاً درست ہے۔ تاہم، کچھ لوگ آپ کو بتا رہے ہیں کہ لیب میں نطفہ مکس ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے علاج حرام ہو جائے گا۔ آپ کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں، اور لیب نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ اس صورت میں آپ کے لیے شرعی رہنمائی درج ذیل ہے۔

IVF اور PESA کا شرعی حکم

شریعت میں میاں بیوی کے اپنے نطفہ اور بیضہ سے IVF علاج جائز ہے، بشرطیکہ ڈونر (تیسرے فریق) کا استعمال نہ ہو اور عمل دوران نامحرم کے سامنے پردے کا اہتمام ہو۔ آپ نے ڈونر سے منع کیا ہے، جو درست ہے۔

لیب میں اختلاط کا شبہ

اگر لیب نے تحریری طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ صرف آپ کے نطفہ اور آپ کی بیوی کے بیضہ کا استعمال کریں گے، اور آپ کو ان پر اعتماد ہے، تو محض شک کی بنیاد پر علاج کو حرام نہیں کہا جا سکتا۔ اسلام میں اصل چیزوں کی حلت ہے جب تک حرام کا یقین نہ ہو۔

عملی حل

  • لیب سے مزید تحریری یقین دہانی لیں کہ وہ کسی بھی قسم کا اختلاط نہیں کریں گے۔
  • اگر ممکن ہو تو کسی اسلامی ملک یا معروف مسلم ڈاکٹر کی نگرانی میں علاج کروائیں۔
  • اپنے دل کو مطمئن رکھیں اور بلا ثبوت دوسروں کی باتوں پر عمل نہ کریں۔

نتیجہ

آپ کا علاج جائز ہے جب تک آپ کو یقین ہے کہ لیب معاہدے پر عمل کر رہی ہے۔ اگر بعد میں کوئی ثبوت ملے تو علاج روک دیں۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت ۲۸۶ (لا یکلف اللہ نفساً إلا وسعہا)
  • حدیث: "إنما الأعمال بالنیات” (صحیح بخاری)
  • فتاویٰ علمائے کرام: IVF علاج میاں بیوی کے اپنے نطفہ سے جائز ہے۔

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.