Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

وضو میں کہنی کا خشک رہنا اور سر کا تین بار مسح کرنا

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

میں جانتا تھا کہ وضو میں پورا ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا ضروری ہے، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ کہنی کا کوئی حصہ بھی خشک نہیں رہنا چاہیے۔ میں وضو میں کہنی تک ہاتھ دھوتا تھا، مگر کہنی کے کچھ حصے خشک رہ جاتے تھے۔ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ کہنی کا کوئی حصہ بھی خشک رہنا جائز نہیں، تو میں یہ غلطی کبھی نہ کرتا۔
کیا اس صورت میں میرا وضو درست تھا؟

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ میں نے بچپن سے یہ سنا ہے کہ وضو میں سر کا مسح تین مرتبہ کرنا چاہیے، اسی پر میں عمل کرتا رہا ہوں۔ کیا اس صورت میں میرا وضو صحیح ہے؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

وضو میں کہنیوں کا دھونا فرض ہے، اور اگر کہنی کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو وضو نہیں ہوتا۔ البتہ آپ نے جو پہلے کیا، اس میں چونکہ آپ کو مسئلہ کا علم نہیں تھا، اس لیے آپ کے پچھلے وضوؤں کا کیا حکم ہے؟ نیز سر کا مسح تین بار کرنے کا مسئلہ بھی واضح کیا جاتا ہے۔

پہلا سوال: کہنی کا خشک رہنا

وضو میں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا فرض ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ﴾ (المائدہ: 6)۔ اس آیت میں "إِلَى الْمَرَافِقِ” سے مراد کہنیوں کا دھونا ہے، اور کہنی کا کوئی حصہ خشک نہیں رہنا چاہیے۔

اگر آپ نے کہنی کے کچھ حصے کو خشک چھوڑ دیا، تو وہ وضو نہیں ہوا۔ لیکن چونکہ آپ کو اس مسئلے کا علم نہیں تھا، اور آپ نے جتنا دھویا اسے کافی سمجھتے تھے، تو آپ کے پچھلے وضوؤں کا کیا حکم ہے؟ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔

راجح قول یہ ہے کہ اگر کسی کو فرض کے کسی جزو کا علم نہ ہو اور وہ اسے چھوڑ دے، تو اس کا وضو نہیں ہوتا، کیونکہ فرض کی ادائیگی شرط ہے۔ لیکن چونکہ آپ نے جاہلانہ طور پر ایسا کیا، تو آپ پر پچھلی نمازوں کا اعادہ واجب نہیں، البتہ آئندہ کے لیے احتیاط لازم ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ ان نمازوں کا اعادہ کر لیں جو اس وضو سے پڑھی گئی تھیں، تاکہ ذمہ بری ہو جائے۔

دوسرا سوال: سر کا تین بار مسح کرنا

سر کے مسح کے بارے میں سنت یہ ہے کہ ایک بار مسح کیا جائے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور اپنے سر کا ایک بار مسح کیا۔ (بخاری و مسلم)۔ تین بار مسح کرنا بھی جائز ہے، لیکن یہ سنت سے ثابت نہیں۔ بعض لوگ تین بار اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اعضاء کو تین بار دھونے کی سنت کو مسح پر بھی قیاس کرتے ہیں، لیکن یہ قیاس درست نہیں۔

لہٰذا آپ کا تین بار مسح کرنا وضو کو باطل نہیں کرتا، بلکہ وضو صحیح ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ ایک بار مسح کیا جائے، کیونکہ یہ سنت ہے۔

خلاصہ

  • کہنی کا خشک رہنا وضو کو باطل کرتا ہے، لہٰذا آئندہ پوری کہنی دھوئیں۔ پچھلے وضوؤں کا اعادہ بہتر ہے۔
  • سر کا تین بار مسح کرنا جائز ہے، وضو صحیح ہے، لیکن سنت ایک بار ہے۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ المائدہ، آیت 6
  • صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب مسح الرأس
  • صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب صفۃ الوضوء
  • فتاویٰ ہندیہ، کتاب الطہارۃ، الفصل الاول فی فرائض الوضوء

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.