Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

شوہر کی اجازت کے بغیر خلع کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

موضوع: شوہر کی اجازت کے بغیر خلع کی درستگی
سوال (اردو ترجمہ):
السلام علیکم۔ میں نے اپنے نکاح خوان امام صاحب کے ذریعے خلع کے لیے درخواست دی تھی۔ امام صاحب کا کہنا ہے کہ ان کے پاس خلع جاری کرنے کا اختیار موجود ہے۔
لیکن میرے شوہر نے نہ تو خلع کے لیے رضامندی دی اور نہ ہی کبھی اس پر اتفاق کیا۔ اس کے باوجود امام صاحب نے شوہر کی اجازت کے بغیر خلع جاری کر دیا۔
اب جب میں نے تحقیق کی ہے تو مجھے معلوم ہوا کہ چاروں فقہی مذاہب (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے مطابق شوہر کی رضا مندی کے بغیر خلع درست نہیں ہوتا۔
کیا یہ بات درست ہے؟
کیا میرا خلع غیر مؤثر/غلط ہے؟
کیا اس کا مطلب ہے کہ میں اب بھی اپنے شوہر کے نکاح میں ہوں اور اُس کے لیے حلال ہوں؟


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کا سوال خلع کے بارے میں ہے، جس میں شوہر کی رضامندی کے بغیر امام صاحب نے خلع جاری کیا۔ آئیے اس مسئلے کو شریعت کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔

خلع کا شرعی تصور

خلع کا مطلب ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے کچھ معاوضہ (عموماً مہر یا اس کے عوض) دے کر نکاح ختم کرائے۔ اس کی بنیاد قرآن و حدیث میں موجود ہے۔

شوہر کی رضامندی کی شرعی حیثیت

چاروں فقہی مذاہب (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) میں خلع کے لیے شوہر کی رضامندی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلع ایک باہمی معاہدہ ہے، جس میں شوہر اپنی رضامندی سے بیوی کو طلاق دیتا ہے، لیکن بیوی اس کے عوض کچھ مال دیتی ہے۔ اگر شوہر راضی نہ ہو تو خلع نافذ نہیں ہوتا۔

کیا شوہر کی اجازت کے بغیر خلع درست ہے؟

جمہور فقہاء کے مطابق شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع درست نہیں ہے۔ اگر کوئی امام یا قاضی شوہر کی اجازت کے بغیر خلع جاری کرے تو وہ شرعاً معتبر نہیں ہوگا۔ البتہ اگر شوہر ظالم ہو اور بیوی کو شدید نقصان پہنچا رہا ہو تو اسلامی عدالت (قاضی) شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی نکاح ختم کر سکتی ہے، لیکن اسے خلع نہیں بلکہ فسخ نکاح کہا جاتا ہے۔

آپ کے معاملے کا حکم

چونکہ آپ کے شوہر نے خلع پر رضامندی نہیں دی، اس لیے امام صاحب کا خلع جاری کرنا شرعی اصولوں کے مطابق درست نہیں ہے۔ لہٰذا آپ کا خلع غیر مؤثر ہے اور آپ اب بھی اپنے شوہر کے نکاح میں ہیں۔ آپ کے لیے ضروری ہے کہ کسی مستند مفتی یا اسلامی عدالت سے رجوع کریں تاکہ معاملہ حل ہو سکے۔

عملی اقدامات

  • کسی مستند مفتی صاحب سے رابطہ کریں اور پورا معاملہ بتائیں۔
  • اگر شوہر سے نباہ ممکن نہ ہو تو اسلامی عدالت میں فسخ نکاح کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
  • اس دوران شوہر سے علیحدگی اختیار کریں اور کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کریں۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورہ البقرہ، آیت 229
  • صحیح البخاری: حدیث نمبر 5273 (خلع کا بیان)
  • الہدایہ (فقہ حنفی): کتاب الطلاق، باب الخلع
  • المغنی (ابن قدامہ): کتاب الطلاق، باب الخلع

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم

بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔

بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم

اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔

بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم

عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کا حکم صرف قومِ لوط کے واقعے پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن کے عمومی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تسکین کا حلال راستہ نکاح کے دائرے میں میاں بیوی کے درمیان ہے، اس کے علاوہ راستہ “حد سے تجاوز” ہے۔ سورۂ مؤمنون 23:5-7 میں اہلِ ایمان کی صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے؛ پھر فرمایا فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ٧ کہ جو اس کے علاوہ راستہ چاہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔ صحیح حدیث میں عورت کے عورت کے سامنے ستر کھولنے اور جسمانی قربت کے بارے میں بھی ممانعت آئی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ عورت، عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے، اور دو عورتیں ایک کپڑے کے نیچے نہ لیٹیں۔

عورت کے عورت سے جنسی تعلقات کا اسلامی حکم

قسم اور نذر کے احکام: نماز چھوڑنے پر روزوں کا کفارہ

قسم میں شرط یادداشت کا اعتبار اور کفارے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

تکفیر کا مسئلہ: جہالت یا غلط تاویل کی بنا پر کسی کو کافر کہنے کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
بچپن میں ماں کے کو ناجائز طریقے سے چھونے کے بارے میں شرعی حکم: حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی، والدین کی شادی برقرار ہے۔ توبہ کافی ہے، وسوسوں کو نظر انداز کریں۔
بچپن میں ماں کو شہوت کے ساتھ چھونا اور حرمت مصاہرت کا حکم
اپریل 29, 2026
Read More »
اگر ممکن ہو تو ہر شخص سے معافی مانگیں اور اس کا حق واپس کریں۔ اگر ناممکن ہو تو ان کی طرف سے صدقہ کرنا درست ہے۔ آپ نے جو صدقہ کیا ہے، وہ ان شاء اللہ قبول ہوگا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا، لیکن اس معاملے میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست ادائیگی کریں۔ خواہ بتاکر یا بغیر بتائے۔ البتہ جب رابطہ ہی نہ رہے اور معلوم نہ ہو کہ جس کا حق ہے وہ کہاں ہے پھر اس کی طرف سے صدقہ بھی کرے اور اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرے۔
بچپن میں کی گئی چوری اور ادھار واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
اپریل 29, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.