Facebook Instagram Whatsapp Youtube Envelope
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • Terms & Conditions
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Menu
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Change A Life
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
Uncategorized

عدالتی یکطرفہ خلع کے بعد ساتھ رہنے کا حکم

  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com
  • No Responses
  • اپریل 29, 2026
  • innov8ive.lab@gmail.com

سوال:

السلام علیکم مفتی صاحب میرا نام شیزان علی ہے اور میں راولپنڈی کا رہائشی ہوں میری بیوی نے ایک جگہ سے فتویٰ لیا کہ عدالتی یکطرفہ خلع حرام ہوتی ہے یا نہیں جو کہ اسے کہا گیا کہ یہ حرام ہے اس کے بعد بھی اس نے عدالت سے خلع لے لی اب خلع ہوۓ 3 مہینے ہو چکے ہیں اب میں اور وہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن میرے گھر والے کہتے ہیں کے عدالتی خلع کے بعد ساتھ رہنا جائز نہیں ہے جب کہ میں نے کبھی طلاق نہیں دی ہے اس نے عدالت سے یکطرفہ خلع لی ہے اب آپ مجھے بتا دیں ہمارا مزید ساتھ رہنا جائز ہے یا نہیں


جواب:

بِاسْمِ اللہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی، الَّذِیْ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَعَالِمَ الدِّیْنِ، وَأَنْعَمَ عَلَیْہِ بِحَقَائِقِ الشَّرِیْعَةِ وَالتَّمْکِیْنِ

آپ کے سوال میں بتایا گیا ہے کہ آپ کی بیوی نے عدالت سے یکطرفہ خلع لے لیا، جبکہ آپ نے طلاق نہیں دی۔ اب دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں، لیکن گھر والے منع کر رہے ہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے چند اہم نکات پیش ہیں۔

خلع کا شرعی حکم

خلع کا مطلب ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے علیحدگی کے لیے کچھ معاوضہ دے کر نکاح ختم کرائے۔ شرعی طور پر خلع جائز ہے، لیکن اس کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر شوہر راضی نہ ہو تو بیوی عدالت میں درخواست دے سکتی ہے، اور عدالت شرعی بنیادوں پر خلع کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

عدالتی یکطرفہ خلع کا حکم

اگر عدالت نے شرعی اصولوں کے مطابق خلع کا فیصلہ دیا ہے تو یہ خلع شرعاً معتبر ہوگا۔ لیکن اگر عدالت نے بغیر شرعی وجہ کے یا شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ دیا ہے تو یہ شرعاً قابل قبول نہیں ہوگا۔ آپ کی بیوی نے پہلے فتویٰ لیا تھا کہ عدالتی یکطرفہ خلع حرام ہے، پھر بھی اس نے عدالت سے خلع لے لیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فتویٰ سے واقف تھی، لیکن اس کے باوجود عمل کیا۔

ساتھ رہنے کا حکم

اگر خلع شرعی طور پر صحیح نہیں ہوا تو نکاح برقرار رہے گا اور آپ دونوں کا ساتھ رہنا جائز ہوگا۔ لیکن اگر خلع شرعی طور پر واقع ہو گیا ہے تو پھر نکاح ختم ہو چکا ہے اور ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا۔ اس صورت میں دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا۔

عملی مشورہ

چونکہ یہ معاملہ پیچیدہ ہے اور اس میں تفصیلی شرعی تحقیق کی ضرورت ہے، اس لیے بہتر ہوگا کہ آپ کسی مستند مفتی یا دارالافتاء سے رجوع کریں۔ وہ آپ کے کیس کی مکمل تفصیلات سن کر شرعی حکم بتا سکیں گے۔

حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورۃ البقرہ، آیت 229
  • صحیح بخاری: کتاب الطلاق، باب الخلع
  • فتاویٰ ہندیہ: کتاب الطلاق، باب الخلع

وَاللہُ بِالصَّوَابِ أَعْلَمُ، وَعِلْمُہُ أَصْوَبُ وَأَتَمُّ

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم

دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ

بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی

ایک 18 سالہ مسلمان کے لیے فقہ الاولویات کی روشنی میں ترجیحات کا تعین

حج کے بعد بھورے مادے کی حالت میں طواف وداع کا حکم

والد کا درگاہ سے لائے گئے پھول موٹر سائیکل پر رکھنا اور بیٹے کا حکم

Get In Touch

Newsletter

Subscription Form

Latest Posts

بلی کو غیر مسلم ڈاکٹر کو دینے اور نس بندی کا حکم
جون 22, 2026
Read More »
دلوں کا حال جاننے کا عقیدہ
جون 22, 2026
Read More »
بار بار چوٹ لگنا اور والدین کی توجہ نہ ملنا: اسلامی رہنمائی
جون 22, 2026
Read More »

Quick Menu

  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog
  • Al-Furqan Academy
  • Ask Mufti
  • Change A Life
  • Blog

Follow Us

Facebook Instagram Whatsapp Envelope Youtube

contact

  • deenalfurqan@gmail.com
  • +92309 26-88(992)

© Copyright deenalfarqan.com. All rights reserved.